Surah Yunus
سورۃ یونس
Surah Yunus is the 10th surah of the Quran, a Makki surah of 109 ayat and 11 rukus in para 11, named after Hazrat Yunus (AS) whose people are mentioned in 10:98. It was revealed in the last years of the Makkan period, when the Quraish called the Prophet (ﷺ) a magician, asked him to change the Quran and mocked the promise of punishment. It answers with the proofs of tawhid (the creation in six days, the sun and the moon), the truth of the Prophet (ﷺ) and of the Quran (the challenge of 10:38), the certainty of the Hereafter, the stories of Hazrat Nuh (AS) and of Hazrat Musa (AS) with Pharaoh, and the example of the people of Yunus who believed in time. The human attitudes in hardship and ease (10:12, 10:22 to 23) and the truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran are long topics 6 and 7. FBISE asks about the six days, Pharaoh's body (10:92), the name, the shan-e-nuzul and the words «مَاْوٰىهُمْ»، «اَلسَّاعَةُ»، «خَسِرَ»، «بَعَثْنَا».سورۃ یونس قرآن مجید کی دسویں سورۃ ہے، مکی ہے، گیارہویں پارے میں ہے اور اس کی 109 آیات اور 11 رکوع ہیں؛ اس کا نام حضرت یونس علیہ السلام پر ہے جن کی قوم کا ذکر آیت 10:98 میں ہے۔ یہ مکی دور کے آخری سالوں میں نازل ہوئی جب قریش نبی کریم ﷺ کو جادوگر کہتے، قرآن بدل دینے کا مطالبہ کرتے اور عذاب کے وعدے کا مذاق اڑاتے تھے۔ سورۃ توحید کے دلائل (چھ دنوں میں تخلیق، سورج اور چاند)، نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت (آیت 10:38 کا چیلنج)، آخرت کے یقینی ہونے، حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون کے واقعات، اور بروقت ایمان لانے والی قومِ یونس کی مثال سے جواب دیتی ہے۔ رنج و راحت میں انسانی رویے (10:12، 10:22 تا 23) اور نبی کریم ﷺ و قرآن کی حقانیت تفصیلی موضوع 6 اور 7 ہیں۔ فیڈرل بورڈ چھ دن، فرعون کے بدن (10:92)، نام، شانِ نزول اور الفاظ «مَاْوٰىهُمْ»، «اَلسَّاعَةُ»، «خَسِرَ»، «بَعَثْنَا» سے پوچھتا ہے۔
Learning outcomes (5)
- SLO:I-10-A-01: State the introduction of Surah Yunus (name and the reason for it, ayat, rukus, Makki period, the circumstances of revelation, central theme).SLO:I-10-A-01: سورۃ یونس کا تعارف (نام اور وجہ تسمیہ، آیات، رکوع، مکی دور، نزول کے حالات، مرکزی مضمون) بیان کرنا۔
- SLO:I-10-A-02: Give the meanings of the selected words of the surah («مَاْوٰىهُمْ»، «اَلسَّاعَةُ»، «خَسِرَ»، «بَعَثْنَا»).SLO:I-10-A-02: سورۃ کے منتخب الفاظ («مَاْوٰىهُمْ»، «اَلسَّاعَةُ»، «خَسِرَ»، «بَعَثْنَا») کے معانی بیان کرنا۔
- SLO:I-10-A-03: Read the key ayat (10:3, 10:5, 10:12, 10:22 to 23, 10:38, 10:57 to 58, 10:62 to 64, 10:90 to 92, 10:98 to 100, 10:107) with their translation and answer comprehension questions on them.SLO:I-10-A-03: اہم آیات (10:3، 10:5، 10:12، 10:22 تا 23، 10:38، 10:57 تا 58، 10:62 تا 64، 10:90 تا 92، 10:98 تا 100، 10:107) کو ترجمے کے ساتھ پڑھنا اور ان پر فہمی سوالات کے جواب دینا۔
- SLO:I-10-A-04: Explain the negative human attitudes in hardship and ease and their correction (long topic 6), and the truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran (long topic 7).SLO:I-10-A-04: رنج و راحت میں منفی انسانی رویے اور ان کی اصلاح (تفصیلی موضوع 6)، اور نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت (تفصیلی موضوع 7) بیان کرنا۔
- SLO:I-10-A-04: Draw out the teachings of the stories of Hazrat Nuh (AS), Hazrat Musa (AS) and Pharaoh, and of the people of Yunus: patience, trust in Allah, and belief before it is too late.SLO:I-10-A-04: حضرت نوح علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون اور قومِ یونس کے واقعات کی تعلیمات اخذ کرنا: صبر، اللہ پر بھروسا، اور وقت گزرنے سے پہلے ایمان۔
IntroductionتعارفOften examined
Surah Yunus is the 10th surah of the Quran. It is a Makki surah from the last years in Makkah. It calls the Quraish to tawhid, to belief in the Prophet (ﷺ) and the Quran, and to the Hereafter, warns them with the fate of earlier nations, and shows by the example of the people of Yunus that belief in time saves.
سورۃ یونس قرآن مجید کی دسویں سورۃ ہے۔ یہ مکی سورۃ ہے اور مکہ کے آخری سالوں میں اتری۔ یہ قریش کو توحید، نبی کریم ﷺ اور قرآن پر ایمان اور آخرت کی طرف بلاتی ہے، پچھلی قوموں کے انجام سے ڈراتی ہے اور قومِ یونس کی مثال سے بتاتی ہے کہ بروقت ایمان نجات دیتا ہے۔
| Item | Detail |
|---|---|
| Name | Yunus (after Hazrat Yunus (AS)) |
| Number in the Quran | 10th |
| Place of revelation | Makki |
| Ayat and rukus | 109 ayat, 11 rukus |
| Para (juz) | 11 |
| Period of revelation | The last stage of the Makkan period, before the hijrah (the common view and Tafheem-ul-Quran); the exact year is not fixed |
| Opening | The letters «الٓرٰ» (Alif Lam Ra). Five surahs begin with them: Yunus, Hud, Yusuf, Ibrahim and Al-Hijr |
| Other names | No other well-known name |
| Sajdah | None |
| عنوان | تفصیل |
|---|---|
| نام | یونس (حضرت یونس علیہ السلام کے نام پر) |
| قرآن میں ترتیب | دسویں |
| مقامِ نزول | مکی |
| آیات اور رکوع | 109 آیات، 11 رکوع |
| پارہ | 11 |
| زمانۂ نزول | مکی دور کا آخری مرحلہ، ہجرت سے پہلے (مشہور قول اور تفہیم القرآن)؛ صحیح سال متعین نہیں |
| آغاز | حروفِ مقطعات «الٓرٰ»۔ ان سے پانچ سورتیں شروع ہوتی ہیں: یونس، ہود، یوسف، ابراہیم اور الحجر |
| دیگر نام | کوئی اور مشہور نام نہیں |
| سجدہ | کوئی نہیں |
Why is it called Yunus?
اس کا نام یونس کیوں ہے؟
The surah is named after Hazrat Yunus (AS). Ayah 98 says that no town believed so that its belief benefited it except the people of Yunus; when they believed Allah removed the punishment of disgrace from them. Like most surah names, this is a label taken from a person mentioned in the surah, not the subject of the whole surah: Hazrat Yunus's story itself is not told here (he is also called «ذَا النُّوْنِ» and «صَاحِبِ الْحُوْتِ» in other surahs).
سورۃ کا نام حضرت یونس علیہ السلام پر ہے۔ آیت 98 میں ہے کہ کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اسے فائدہ دے، سوائے قومِ یونس کے؛ جب وہ ایمان لائے تو اللہ نے ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا۔ اکثر سورتوں کے ناموں کی طرح یہ نام سورۃ میں مذکور ایک شخصیت سے لیا گیا ہے، پوری سورۃ کا موضوع نہیں: حضرت یونس علیہ السلام کا اپنا قصہ یہاں بیان نہیں ہوا (دوسری سورتوں میں انہیں «ذَا النُّوْنِ» اور «صَاحِبِ الْحُوْتِ» کہا گیا ہے)۔
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا
Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment for a time
Period and occasion (shan-e-nuzul)
زمانہ اور شانِ نزول
There is no single incident behind the surah. It was revealed in the last stage of the Makkan life of the Prophet (ﷺ), when the Quraish had rejected the message for years and opposition was at its height. The surah answers what they were saying: they were amazed that a man from among them was made a messenger and called him a magician (10:2); they asked for another Quran or for changes in it (10:15); they asked for a sign (10:20); and they mocked the promise of punishment, asking when it would come (10:48). Some narrations count a few ayat as Madani, but the common view is that the whole surah is Makki.
اس سورۃ کے پیچھے کوئی ایک واقعہ نہیں۔ یہ نبی کریم ﷺ کی مکی زندگی کے آخری مرحلے میں اتری جب قریش برسوں سے دعوت کو جھٹلا رہے تھے اور مخالفت اپنی انتہا پر تھی۔ سورۃ ان کی باتوں کا جواب دیتی ہے: انہیں تعجب تھا کہ انہی میں سے ایک آدمی رسول بنا دیا گیا اور وہ آپ ﷺ کو جادوگر کہتے تھے (10:2)؛ انہوں نے کوئی اور قرآن لانے یا اس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا (10:15)؛ کسی نشانی کا مطالبہ کیا (10:20)؛ اور عذاب کے وعدے کا مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتے تھے کہ وہ کب آئے گا (10:48)۔ بعض روایات میں چند آیات کو مدنی کہا گیا ہے مگر مشہور قول یہ ہے کہ پوری سورۃ مکی ہے۔
Central theme and main topics
مرکزی مضمون اور اہم موضوعات
The central theme is the invitation to the three basic beliefs: tawhid (Allah alone is Lord and to be worshipped), risalah (the Prophet (ﷺ) and the Quran are true) and akhirah (all will return to Allah for reward and punishment), together with a warning that belief after the punishment has arrived is of no use, as the end of Pharaoh shows.
مرکزی مضمون تین بنیادی عقائد کی دعوت ہے: توحید (رب اور معبود صرف اللہ ہے)، رسالت (نبی کریم ﷺ اور قرآن حق ہیں) اور آخرت (سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جزا و سزا پانی ہے)، اور اس کے ساتھ تنبیہ کہ عذاب آ جانے کے بعد ایمان لانا بے فائدہ ہے، جیسا کہ فرعون کے انجام سے ظاہر ہے۔
- Proofs of tawhid: the creation in six days, the sun and the moon, night and day, provision (10:3 to 6, 10:31 to 36, 10:67)
- The truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran, and the challenge to bring a surah like it (10:1 to 2, 10:15 to 16, 10:37 to 38, 10:57)
- Human attitudes in hardship and ease (10:11 to 12, 10:21 to 24, 10:50 to 51, 10:107)
- The Hereafter: reward of the believers and punishment of the deniers (10:4, 10:7 to 10, 10:25 to 30, 10:45, 10:53 to 54)
- The friends of Allah (10:62 to 64)
- Hazrat Nuh (AS) (10:71 to 73) and Hazrat Musa (AS) and Pharaoh (10:75 to 93)
- The people of Yunus (10:98) and no compulsion in belief (10:99 to 100)
- Final instructions to the Prophet (ﷺ): follow the revelation and be patient (10:104 to 109)
- توحید کے دلائل: چھ دن میں تخلیق، سورج اور چاند، رات اور دن، رزق (10:3 تا 6، 10:31 تا 36، 10:67)
- نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت اور اس جیسی سورۃ لانے کا چیلنج (10:1 تا 2، 10:15 تا 16، 10:37 تا 38، 10:57)
- رنج و راحت میں انسانی رویے (10:11 تا 12، 10:21 تا 24، 10:50 تا 51، 10:107)
- آخرت: اہلِ ایمان کی جزا اور منکروں کی سزا (10:4، 10:7 تا 10، 10:25 تا 30، 10:45، 10:53 تا 54)
- اللہ کے دوست (10:62 تا 64)
- حضرت نوح علیہ السلام (10:71 تا 73) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون (10:75 تا 93)
- قومِ یونس (10:98) اور ایمان میں جبر نہیں (10:99 تا 100)
- نبی کریم ﷺ کو آخری ہدایات: وحی کی پیروی اور صبر (10:104 تا 109)
Virtues and the hadith linked to the ayatفضائل اور آیات سے متعلق احادیث
No authentic hadith is known that gives a special virtue of the whole of Surah Yunus, so none is claimed here. There are, however, two sound hadith that explain particular ayat of the surah, and they are useful for short questions.
پوری سورۃ یونس کی کوئی خاص فضیلت کسی مستند حدیث سے معلوم نہیں، اس لیے یہاں کوئی فضیلت بیان نہیں کی گئی۔ البتہ دو صحیح احادیث سورۃ کی بعض آیات کی تشریح کرتی ہیں، اور یہ مختصر سوالات کے لیے مفید ہیں۔
1. The extra reward («زِيَادَةٌ») in 10:26
1. آیت 10:26 میں اضافی انعام («زِيَادَةٌ»)
جن لوگوں نے بھَلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھَلائی ہے اور مزید فضل ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی وہ جنت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے
For them who have done good is the best [reward] and extra. No darkness will cover their faces, nor humiliation. Those are companions of Paradise; they will abide therein eternally
Hazrat Suhayb (RA) reports that the Prophet (ﷺ) explained this ayah: when the people of Paradise have entered it, Allah will lift the veil and they will look at their Lord, and nothing given to them will be dearer to them than that (Sahih Muslim). So the «حُسْنٰى» is Paradise and the extra («زِيَادَةٌ») is the sight of Allah.
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی وضاحت فرمائی: جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ پردہ ہٹا دے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھیں گے، اور انہیں دی گئی کوئی نعمت اس سے زیادہ محبوب نہ ہو گی (صحیح مسلم)۔ پس «حُسْنٰى» جنت ہے اور اضافہ («زِيَادَةٌ») اللہ کا دیدار ہے۔
2. The good news («الْبُشْرٰى») in 10:64
2. آیت 10:64 میں خوش خبری («الْبُشْرٰى»)
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، (62) ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے (63) دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے (64)
Unquestionably, [for] the allies of Allah there will be no fear concerning them, nor will they grieve (62) Those who believed and were fearing Allah (63) For them are good tidings in the worldly life and in the Hereafter. No change is there in the words of Allah. That is what is the great attainment (64)
Hazrat Abu Hurairah (RA) reports that the Prophet (ﷺ) said that nothing remains of prophethood except the «مُبَشِّرَات» (good news), and when the Companions asked what these are, he said: the true dream (Sahih Bukhari). The commentators cite this when they explain the good tidings «فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» in 10:64.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے «مُبَشِّرَات» (خوش خبریوں) کے سوا کچھ باقی نہیں رہا؛ صحابہ نے پوچھا یہ کیا ہیں تو فرمایا: سچا خواب (صحیح بخاری)۔ مفسرین آیت 10:64 کے الفاظ «فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» (دنیا کی زندگی میں خوش خبری) کی تشریح میں اسے ذکر کرتے ہیں۔
Creation and the signs of Allah (tawhid)تخلیق اور اللہ کی نشانیاں (توحید)Often examined
Surah Yunus proves tawhid from what the Quraish themselves accepted: Allah created the heavens and the earth, gives provision and arranges all affairs. Then who else deserves worship? The model paper asks the number of days of creation.
سورۃ یونس توحید کو انہی باتوں سے ثابت کرتی ہے جو قریش خود مانتے تھے: آسمان و زمین کا خالق، رزق دینے والا اور تمام امور کا مدبر اللہ ہے۔ پھر عبادت کا حق کس اور کو ہے؟ ماڈل پیپر میں تخلیق کے دنوں کی تعداد پوچھی گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne, arranging the matter [of His creation]. There is no intercessor except after His permission. That is Allah, your Lord, so worship Him. Then will you not remember
- Allah created the heavens and the earth in six days (10:3). The same number is given in other surahs too, for example Al-A'raf 7:54 and Hud 11:7.
- He then established Himself above the Throne («اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ»), as befits Him, and arranges the whole matter. We believe in it without asking how and without comparing Him to creation.
- No one can intercede except after His permission (10:3): this answers the pagan belief in intercessors (10:18).
- He begins the creation and then repeats it, so the Hereafter is not difficult for Him (10:4, 10:34).
- اللہ نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (10:3)۔ یہی تعداد دوسری سورتوں میں بھی آئی ہے، مثلاً الاعراف 7:54 اور ہود 11:7۔
- پھر وہ عرش پر مستوی ہوا، جیسا اس کی شان کے لائق ہے، اور سارے معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، کیفیت نہیں پوچھتے اور اسے مخلوق سے تشبیہ نہیں دیتے۔
- اس کی اجازت کے بعد ہی کوئی سفارش کر سکتا ہے (10:3): یہ مشرکین کے سفارشیوں کے عقیدے کا جواب ہے (10:18)۔
- وہی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر اسے دہراتا ہے، اس لیے آخرت اس کے لیے مشکل نہیں (10:4، 10:34)۔
وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases - that you may know the number of years and account [of time]. Allah has not created this except in truth. He details the signs for a people who know
- He made the sun a shining light («ضِيَآءً») and the moon a light («نُوْرًا»), and fixed phases for the moon so that we know the number of years and the reckoning of time (10:5).
- The alternation of night and day, and all that is in the heavens and the earth, are signs for those who fear Allah (10:6). The night is for rest and the day gives sight (10:67).
- Allah did not create this except in truth («بِالْحَقِّ»), that is with a purpose and wisdom (10:5).
- اس نے سورج کو روشن چمکتا ہوا (ضِیاء) اور چاند کو نور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو (10:5)۔
- رات اور دن کا ایک دوسرے کے پیچھے آنا اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (10:6)۔ رات آرام کے لیے ہے اور دن دکھانے والا (10:67)۔
- اللہ نے یہ سب حق کے ساتھ پیدا کیا، یعنی ایک مقصد اور حکمت کے ساتھ (10:5)۔
اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟
Say, "Who provides for you from the heaven and the earth? Or who controls hearing and sight and who brings the living out of the dead and brings the dead out of the living and who arranges [every] matter?" They will say, "Allah," so say, "Then will you not fear Him
- Who gives you provision from the sky and the earth, who controls hearing and sight, who brings the living out of the dead and the dead out of the living, and who arranges every matter? They will say: Allah (10:31).
- Then why do they not fear Him? He is the true Lord, and after truth there is only error (10:32). Can any of their partners begin creation or guide to the truth? (10:34 to 35).
- Look at what is in the heavens and the earth (10:101): signs are of no use to people who do not want to believe.
- آسمان اور زمین سے تمہیں رزق کون دیتا ہے، سماعت اور بصارت کا مالک کون ہے، زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون نکالتا ہے اور ہر کام کی تدبیر کون کرتا ہے؟ وہ کہیں گے: اللہ (10:31)۔
- تو پھر وہ اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ وہی سچا رب ہے اور حق کے بعد گمراہی ہی ہے (10:32)۔ کیا ان کے شریکوں میں سے کوئی تخلیق کی ابتدا کرتا یا حق کی راہ دکھاتا ہے؟ (10:34 تا 35)۔
- دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا ہے (10:101): جو ماننا ہی نہ چاہیں ان کے لیے نشانیاں بے فائدہ ہیں۔
Human attitudes in hardship and ease (long topic 6)رنج و راحت میں انسانی رویے (تفصیلی موضوع 6)Often examined
Surah Yunus describes how man behaves when trouble touches him and when ease returns, and corrects each fault. This is long topic 6 of the framework (8 marks).
سورۃ یونس بیان کرتی ہے کہ انسان تکلیف پہنچنے پر اور آسانی لوٹ آنے پر کیسا برتاؤ کرتا ہے، اور ہر خرابی کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ فریم ورک کا تفصیلی موضوع 6 ہے (8 نمبر)۔
انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing
| Negative attitude | Ayah | Correction |
|---|---|---|
| In hardship man calls on Allah in every position, lying, sitting or standing; when it is removed he forgets as if he never called | 10:12 | Only Allah removes harm and brings good (10:107); thank Him in ease |
| After hardship, when given a taste of mercy, people plot against Allah's signs | 10:21 | Allah is swifter in planning, and the angels record all plans |
| On a ship in a storm they call Allah sincerely and promise thanks; once saved they commit injustice on earth | 10:22 to 23 | Your injustice is only against yourselves; worldly enjoyment is brief and you will return to Allah |
| Being satisfied with this world and heedless of the meeting with Allah | 10:7 to 8 | The world is like rain and plants that are suddenly made a harvest (10:24); the Home of Peace is better (10:25) |
| Hastening for punishment and mocking, then believing only when it comes | 10:11, 10:48 to 51 | Belief after the punishment has arrived is not accepted: believe now |
| Ingratitude: Allah is full of bounty but most people are not grateful | 10:60 | Rejoice in Allah's bounty and mercy, it is better than what they gather (10:58) |
| منفی رویہ | آیت | اصلاح |
|---|---|---|
| تکلیف میں انسان لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہر حال میں اللہ کو پکارتا ہے؛ تکلیف دور ہوتے ہی یوں بھول جاتا ہے جیسے کبھی پکارا ہی نہ تھا | 10:12 | نقصان اور بھلائی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے (10:107)؛ آسانی میں اس کا شکر کرو |
| تکلیف کے بعد جب انہیں رحمت کا مزا چکھایا جاتا ہے تو لوگ اللہ کی آیات کے خلاف چالیں چلتے ہیں | 10:21 | اللہ تدبیر میں زیادہ تیز ہے اور فرشتے سب چالیں لکھتے ہیں |
| طوفان میں کشتی پر خالص اللہ کو پکارتے اور شکر کا وعدہ کرتے ہیں؛ بچتے ہی زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں | 10:22 to 23 | تمہاری سرکشی تمہارے ہی خلاف ہے؛ دنیا کا فائدہ چند روزہ ہے اور واپسی اللہ کی طرف ہے |
| دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہونا اور اللہ سے ملاقات سے غافل رہنا | 10:7 to 8 | دنیا اس بارش اور سبزے جیسی ہے جو اچانک کٹی ہوئی کھیتی بن جاتا ہے (10:24)؛ دارالسلام بہتر ہے (10:25) |
| عذاب کی جلدی اور مذاق، پھر عذاب آنے پر ہی ایمان لانا | 10:11, 10:48 to 51 | عذاب آ جانے کے بعد ایمان قبول نہیں: ابھی ایمان لاؤ |
| ناشکری: اللہ بڑے فضل والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے | 10:60 | اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہوں، یہ جمع کی ہوئی چیزوں سے بہتر ہے (10:58) |
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے (22) مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو (23)
It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful (22) But when He saves them, at once they commit injustice upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do (23)
Teachings to correct these attitudes: remember Allah in ease as in hardship; be grateful; do not wrong others, because the harm returns to yourself; do not be deceived by worldly life; be patient (10:109); and trust that adversity and good both come only by Allah's will (10:107).
ان رویوں کی اصلاح کے لیے تعلیمات: آسانی اور تکلیف دونوں میں اللہ کو یاد رکھو؛ شکر گزار بنو؛ دوسروں پر ظلم نہ کرو کیونکہ نقصان تمہاری اپنی طرف لوٹتا ہے؛ دنیا کی زندگی سے دھوکا نہ کھاؤ؛ صبر کرو (10:109)؛ اور یقین رکھو کہ تکلیف اور بھلائی دونوں اللہ کی مشیت سے ہی آتی ہیں (10:107)۔
The truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran (long topic 7)نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت (تفصیلی موضوع 7)Often examined
The Quraish called the Prophet (ﷺ) a magician and said the Quran was invented. The surah answers with clear proofs. This is long topic 7 of the framework (8 marks).
قریش نبی کریم ﷺ کو جادوگر اور قرآن کو گھڑا ہوا کہتے تھے۔ سورۃ واضح دلائل سے جواب دیتی ہے۔ یہ فریم ورک کا تفصیلی موضوع 7 ہے (8 نمبر)۔
A. The truth of the Prophet (ﷺ)
الف۔ نبی کریم ﷺ کی حقانیت
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے (15) اور کہو “اگر اللہ کی مشیّت نہ ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (16)
And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur'an other than this or change it." Say, [O Muhammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day (15) Say, "If Allah had willed, I would not have recited it to you, nor would He have made it known to you, for I had remained among you a lifetime before it. Then will you not reason (16)
- He is a man from among them, which should not be a cause of surprise (10:2). Every nation had a messenger (10:47).
- He lived a lifetime among them before the revelation, and they knew his truthfulness and honesty (10:16).
- He cannot change the Quran on his own; he only follows what is revealed to him and fears the punishment of a great Day if he disobeys his Lord (10:15).
- He is commanded to be among the believers and to worship Allah alone (10:104 to 105); he declares his deeds are separate from theirs (10:41).
- Those who read the earlier Scripture can confirm the truth (10:94).
- وہ انہی میں سے ایک انسان ہیں، یہ تعجب کی بات نہیں (10:2)۔ ہر امت کے لیے رسول رہا (10:47)۔
- وہ وحی سے پہلے ایک عمر ان کے درمیان رہے اور وہ ان کی سچائی اور امانت کو جانتے تھے (10:16)۔
- وہ اپنی طرف سے قرآن کو نہیں بدل سکتے؛ وہ صرف وحی کی پیروی کرتے ہیں اور رب کی نافرمانی کی صورت میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں (10:15)۔
- انہیں ایمان والوں میں سے ہونے اور صرف اللہ کی عبادت کا حکم ہے (10:104 تا 105)؛ وہ اعلان کرتے ہیں کہ میرے عمل میرے لیے اور تمہارے تمہارے لیے (10:41)۔
- پہلی کتاب پڑھنے والے سچائی کی تصدیق کر سکتے ہیں (10:94)۔
B. The truth of the Quran
ب۔ قرآن کی حقانیت
اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آ چکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے (37) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، “اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو (38)
And it was not [possible] for this Qur'an to be produced by other than Allah, but [it is] a confirmation of what was before it and a detailed explanation of the [former] Scripture, about which there is no doubt, from the Lord of the worlds (37) Or do they say [about the Prophet], "He invented it?" Say, "Then bring forth a surah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful (38)
- It is a wise Book (10:1). It could not have been produced by anyone other than Allah; it confirms what came before and explains the Book in detail, with no doubt in it (10:37).
- The challenge: if you say he invented it, bring a surah like it and call whoever you can besides Allah (10:38).
- They deny what they have not understood and whose explanation has not come to them; see the end of earlier deniers (10:39).
- It is an instruction from the Lord, a healing for what is in the hearts, a guidance and a mercy for the believers (10:57).
- یہ حکمت والی کتاب ہے (10:1)۔ اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں بنا سکتا؛ یہ پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی اور کتاب کی تفصیل ہے، اس میں کوئی شک نہیں (10:37)۔
- چیلنج: اگر کہتے ہو کہ اس نے گھڑا ہے تو اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہو بلا لو (10:38)۔
- وہ اس کو جھٹلاتے ہیں جس کا علم انہوں نے نہیں پایا اور جس کی حقیقت ان پر نہیں کھلی؛ پہلے جھٹلانے والوں کا انجام دیکھو (10:39)۔
- یہ رب کی طرف سے نصیحت، سینوں کی بیماریوں کی شفا، ہدایت اور اہلِ ایمان کے لیے رحمت ہے (10:57)۔
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے (57) اے نبیؐ، کہو کہ “یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں (58)
O mankind, there has to come to you instruction from your Lord and healing for what is in the breasts and guidance and mercy for the believers (57) Say, "In the bounty of Allah and in His mercy - in that let them rejoice; it is better than what they accumulate (58)
Lesson: the Quran and the Prophet (ﷺ) are true; accept them, rejoice in the bounty and mercy of Allah, and follow the revelation with patience (10:58, 10:109).
سبق: قرآن اور نبی کریم ﷺ حق ہیں؛ انہیں مانو، اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہو اور صبر کے ساتھ وحی کی پیروی کرو (10:58، 10:109)۔
The Hereafter: reward and punishmentآخرت: جزا اور سزا
The surah repeatedly says that all will return to Allah, who will reward the believers with justice and punish the deniers.
سورۃ بار بار بتاتی ہے کہ سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے، وہ اہلِ ایمان کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے گا اور منکروں کو سزا۔
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں (7) اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے (8) اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں اُن کا رب اُن کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی (9) وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ “پاک ہے تو اے خدا، " اُن کی دعا یہ ہوگی کہ “سلامتی ہو " اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ “ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے (10)
Indeed, those who do not expect the meeting with Us and are satisfied with the life of this world and feel secure therein and those who are heedless of Our signs (7) For those their refuge will be the Fire because of what they used to earn (8) Indeed, those who have believed and done righteous deeds - their Lord will guide them because of their faith. Beneath them rivers will flow in the Gardens of Pleasure (9) Their call therein will be, "Exalted are You, O Allah," and their greeting therein will be, "Peace." And the last of their call will be, "Praise to Allah, Lord of the worlds (10)
- The deniers: those who do not hope for the meeting with Allah, are satisfied with the worldly life and are heedless of the signs have the Fire as their refuge («مَاْوٰىهُمُ النَّارُ») for what they used to earn (10:7 to 8). They will have scalding water to drink and a painful punishment (10:4).
- The believers: their Lord guides them because of their faith, rivers flow beneath them in the Gardens of Pleasure (10:9). Their call there is «سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ», their greeting is «سَلٰمٌ», and the last of their call is «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» (10:10).
- Allah invites to the Home of Peace (10:25). For those who do good is the best reward and more; their faces will not be covered with darkness or disgrace (10:26). The reward of an evil deed is its like, and the faces of the evildoers will look as if covered with pieces of dark night (10:27).
- On the Day of gathering the partners will say: you never worshipped us (10:28 to 29). Every soul will test what it sent ahead and be returned to Allah, the true Master (10:30).
- The world will seem as if they stayed only an hour of the day; those who denied the meeting with Allah are the losers («قَدْ خَسِرَ») (10:45).
- Asked whether the punishment is true, the Prophet (ﷺ) is told to say: yes, by my Lord, it is true and you cannot escape (10:53). Even if a wrongdoer had all that is on earth, he would offer it as ransom (10:54).
- منکر: جو اللہ سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے، دنیا کی زندگی پر راضی ہیں اور آیات سے غافل ہیں ان کا ٹھکانہ آگ ہے («مَاْوٰىهُمُ النَّارُ») ان کے کمائے ہوئے کی وجہ سے (10:7 تا 8)۔ انہیں پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہو گا (10:4)۔
- اہلِ ایمان: ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں راہ دکھائے گا، نعمت کے باغوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی (10:9)۔ وہاں ان کی دعا «سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ» ہو گی، ان کا سلام «سَلٰمٌ» اور ان کی آخری پکار «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ» (10:10)۔
- اللہ دارالسلام کی طرف بلاتا ہے (10:25)۔ نیکی کرنے والوں کے لیے بہترین بدلہ اور اس سے زیادہ ہے؛ ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی نہ ذلت (10:26)۔ برائی کا بدلہ اس جیسا ہے اور بدکاروں کے چہرے یوں ہوں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپے گئے ہوں (10:27)۔
- حشر کے دن شریک کہیں گے: تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے (10:28 تا 29)۔ ہر جان اپنے اگلے اعمال کو آزمائے گی اور سچے مالک اللہ کی طرف لوٹائی جائے گی (10:30)۔
- وہ دن ایسا ہو گا جیسے وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے؛ اللہ سے ملاقات کو جھٹلانے والے خسارے میں رہے («قَدْ خَسِرَ») (10:45)۔
- جب پوچھیں کہ کیا یہ سچ ہے تو نبی کریم ﷺ کو حکم ہے کہ کہیں: ہاں، میرے رب کی قسم یہ سچ ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے (10:53)۔ ظالم کے پاس زمین بھر مال ہو تو وہ فدیے میں دے دے (10:54)۔
(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے (اس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہرگز وہ راہِ راست پر نہ تھے
And on the Day when He will gather them, [it will be] as if they had not remained [in the world] but an hour of the day, [and] they will know each other. Those will have lost who denied the meeting with Allah and were not guided
The friends of Allah (10:62 to 64)اللہ کے دوست (10:62 تا 64)
Ayat 62 to 64 describe the «اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ», the friends of Allah, their qualities and their reward.
آیات 62 تا 64 میں «اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ» (اللہ کے دوستوں) کی صفات اور ان کے انعام کا بیان ہے۔
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، (62) ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے (63) دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے (64)
Unquestionably, [for] the allies of Allah there will be no fear concerning them, nor will they grieve (62) Those who believed and were fearing Allah (63) For them are good tidings in the worldly life and in the Hereafter. No change is there in the words of Allah. That is what is the great attainment (64)
- Who they are: those who believed and used to fear Allah («كَانُوْا يَتَّقُوْنَ») (10:63). A friend of Allah is therefore known by faith and taqwa, not by dress or claims.
- Their reward: no fear for them and no grief (10:62); good tidings in the worldly life and in the Hereafter (10:64).
- The words of Allah do not change, and this is the great success (10:64).
- Do not be grieved by the words of the deniers: all honour belongs to Allah (10:65).
- وہ کون ہیں: جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے («كَانُوْا يَتَّقُوْنَ») (10:63)۔ پس اللہ کا دوست ایمان اور تقویٰ سے پہچانا جاتا ہے، لباس یا دعووں سے نہیں۔
- ان کا انعام: نہ ان پر خوف ہو گا نہ وہ غم کھائیں گے (10:62)؛ دنیا کی زندگی میں بھی خوش خبری اور آخرت میں بھی (10:64)۔
- اللہ کی باتیں بدلتی نہیں اور یہی بڑی کامیابی ہے (10:64)۔
- منکرین کی باتیں تمہیں غم میں نہ ڈالیں: ساری عزت اللہ کے لیے ہے (10:65)۔
The hadith about the true dream as the good news is in the section on virtues.
سچے خواب والی حدیث فضائل کے حصے میں ہے۔
Hazrat Nuh (AS) (10:71 to 73)حضرت نوح علیہ السلام (10:71 تا 73)
The surah gives a short account of Hazrat Nuh (AS), the first of the earlier prophets it mentions, as a warning to the Quraish. The detailed story of Hazrat Nuh (AS) and the ark is in Surah Hud (unit 4, long topic 9).
سورۃ سابقہ انبیاء میں سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کا مختصر ذکر قریش کو تنبیہ کے لیے کرتی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام اور کشتی کا تفصیلی قصہ سورۃ ہود (یونٹ 4، تفصیلی موضوع 9) میں ہے۔
اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ “اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کو ئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آؤ اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو (71) تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں (72) انہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچا لیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایا اور ان سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) اُن کا کیا انجام ہوا (73)
And recite to them the news of Noah, when he said to his people, "O my people, if my residence and my reminding of the signs of Allah has become burdensome upon you - then I have relied upon Allah. So resolve upon your plan and [call upon] your associates. Then let not your plan be obscure to you. Then carry it out upon me and do not give me respite (71) And if you turn away [from my advice] then no payment have I asked of you. My reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims (72) And they denied him, so We saved him and those with him in the ship and made them successors, and We drowned those who denied Our signs. Then see how was the end of those who were warned (73)
| Point | Detail |
|---|---|
| Prophet | Hazrat Nuh (AS) |
| His call | He stayed among them and kept reminding them of the signs of Allah (10:71) |
| His answer when they found his stay and advice heavy | I have put my trust in Allah; decide your plan with your partners, do not leave it unclear, then carry it out against me and give me no respite (10:71) |
| No reward asked | My reward is only with Allah, and I am commanded to be of the Muslims (10:72) |
| Their response | They denied him (10:73) |
| Result | Allah saved him and those with him in the ship, made them successors, and drowned those who denied the signs (10:73) |
| نکتہ | تفصیل |
|---|---|
| نبی | حضرت نوح علیہ السلام |
| دعوت | وہ ان کے درمیان رہے اور انہیں اللہ کی نشانیاں یاد دلاتے رہے (10:71) |
| جب انہیں اس کا رہنا اور نصیحت بھاری لگی تو اس کا جواب | میں نے اللہ پر بھروسا کیا؛ تم اپنے شریکوں کے ساتھ اپنا فیصلہ پکا کر لو، اس میں ابہام نہ رہے، پھر میرے خلاف کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو (10:71) |
| کوئی اجر نہیں مانگا | میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے اور مجھے مسلمانوں میں سے ہونے کا حکم ملا (10:72) |
| ان کا جواب | انہوں نے اسے جھٹلایا (10:73) |
| نتیجہ | اللہ نے اسے اور کشتی والوں کو بچایا، انہیں جانشین بنایا اور آیات کو جھٹلانے والوں کو غرق کر دیا (10:73) |
- Lesson: trust in Allah gives courage against the whole nation.
- A caller to Allah takes no wage from people.
- Look at the end of those who were warned (10:73): the Quraish should learn from it.
- After him Allah sent other messengers to their peoples with clear proofs (10:74).
- سبق: اللہ پر بھروسا پوری قوم کے مقابلے میں حوصلہ دیتا ہے۔
- اللہ کی طرف بلانے والا لوگوں سے اجرت نہیں لیتا۔
- ان کا انجام دیکھو جنہیں ڈرایا گیا تھا (10:73): قریش کو اس سے سبق لینا چاہیے۔
- اس کے بعد اللہ نے دوسرے رسول بھی ان کی قوموں کی طرف بھیجے جو واضح دلائل لائے (10:74)۔
Hazrat Musa (AS) and Pharaoh (10:75 to 93)حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون (10:75 تا 93)Often examined
This is the longest story in the surah. It shows how Pharaoh and his chiefs rejected the truth with arrogance, how Hazrat Musa (AS) trusted Allah, and how belief at the time of drowning was refused. The model paper prints 10:92.
یہ سورۃ کا سب سے طویل قصہ ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پر بھروسا کیا، اور ڈوبتے وقت کا ایمان رد کر دیا گیا۔ ماڈل پیپر میں آیت 10:92 آئی ہے۔
1. The mission and the accusation of magic (10:75 to 78)
1. رسالت اور جادو کا الزام (10:75 تا 78)
Allah sent Hazrat Musa (AS) and Hazrat Harun (AS) to Pharaoh and his chiefs with His signs, but they were arrogant and a criminal people. When the truth came they said: this is clear magic. Hazrat Musa (AS) answered that magicians do not succeed. They said: have you come to turn us from the way of our fathers and to have greatness in the land? We will not believe you.
اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے تکبر کیا اور مجرم قوم تھے۔ جب حق آیا تو بولے: یہ کھلا جادو ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا: کیا تم ہمیں ہمارے باپ دادا کے طریقے سے ہٹانے اور زمین میں بڑائی پانے آئے ہو؟ ہم تمہیں ہرگز نہیں مانیں گے۔
2. The contest with the magicians (10:79 to 82)
2. جادوگروں سے مقابلہ (10:79 تا 82)
Pharaoh ordered every skilled magician to be brought. Hazrat Musa (AS) told them to throw what they had, then said that what they brought was magic and Allah would make it vain, because Allah does not set right the work of the corrupters. Allah establishes the truth by His words even if the criminals dislike it.
فرعون نے ہر ماہر جادوگر کو لانے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ جو ڈالنا ہے ڈالو، پھر فرمایا کہ جو تم لائے وہ جادو ہے، اللہ اسے باطل کر دے گا کیونکہ اللہ مفسدوں کے کام کو سنوارتا نہیں۔ اللہ اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے چاہے مجرموں کو برا لگے۔
3. Who believed and what Allah commanded (10:83 to 87)
3. کون ایمان لائے اور اللہ کا حکم (10:83 تا 87)
- Only a few young people of his people believed, out of fear of Pharaoh and his chiefs; Pharaoh was haughty and one of the transgressors (10:83).
- Hazrat Musa (AS) told them: rely on Allah if you are Muslims. They said: we rely on Allah; our Lord, do not make us a trial for the wrongdoing people, and save us by Your mercy from the disbelieving people (10:84 to 86).
- Allah inspired Musa and his brother: settle your people in Egypt, make your houses a qiblah (places of prayer), establish prayer and give good news to the believers (10:87).
- اس کی قوم کے صرف چند نوجوان ایمان لائے، فرعون اور اس کے سرداروں کے ڈر سے؛ فرعون سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (10:83)۔
- حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر مسلمان ہو تو اللہ پر بھروسا کرو۔ انہوں نے کہا: ہم نے اللہ پر بھروسا کیا؛ اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کے لیے آزمائش نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات دے (10:84 تا 86)۔
- اللہ نے موسیٰ اور ان کے بھائی کو وحی کی: اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ، اپنے گھروں کو قبلہ (نماز کی جگہ) بناؤ، نماز قائم کرو اور مومنوں کو خوش خبری دو (10:87)۔
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (88) اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے (89)
And Moses said, "Our Lord, indeed You have given Pharaoh and his establishment splendor and wealth in the worldly life, our Lord, that they may lead [men] astray from Your way. Our Lord, obliterate their wealth and harden their hearts so that they will not believe until they see the painful punishment (88) [Allah] said, "Your supplication has been answered." So remain on a right course and follow not the way of those who do not know (89)
Hazrat Musa (AS) prayed against Pharaoh, who had been given splendour and wealth and used them to mislead others: destroy their wealth and harden their hearts until they see the painful punishment. Allah said: the prayer of you both is accepted, so stay on the right course and do not follow those who do not know (10:88 to 89).
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے خلاف دعا کی جسے شان و شوکت اور مال ملا تھا اور وہ ان سے لوگوں کو گمراہ کرتا تھا: ان کے مال برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔ اللہ نے فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہو گئی، پس ثابت قدم رہو اور نادانوں کے راستے پر نہ چلو (10:88 تا 89)۔
4. Pharaoh's end (10:90 to 92)
4. فرعون کا انجام (10:90 تا 92)
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے پھر فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں (90) (جواب دیا گیا) “اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا (91) اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں (92)
And We took the Children of Israel across the sea, and Pharaoh and his soldiers pursued them in tyranny and enmity until, when drowning overtook him, he said, "I believe that there is no deity except that in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims (90) Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters (91) So today We will save you in body that you may be to those who succeed you a sign. And indeed, many among the people, of Our signs, are heedless (92)
- Allah took the Children of Israel across the sea; Pharaoh and his army followed them out of oppression and enmity (10:90).
- When drowning overtook him he said: I believe there is no god except the One in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims (10:90).
- The answer: Now? You disobeyed before and were of the corrupters (10:91). His belief was not accepted because it came only when death was in front of him.
- Allah promised: today We will save you in your body so that you may be a sign for those after you; many people are heedless of Our signs (10:92). The body was kept safe and not destroyed, so that people may take a lesson from it.
- اللہ نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرایا؛ فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم اور دشمنی میں ان کا پیچھا کیا (10:90)۔
- جب ڈوبنے لگا تو بولا: میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں (10:90)۔
- جواب ملا: اب؟ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسدوں میں سے تھا (10:91)۔ اس کا ایمان قبول نہ ہوا کیونکہ وہ موت سامنے آنے پر ظاہر ہوا۔
- اللہ نے وعدہ فرمایا: آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے؛ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں (10:92)۔ بدن محفوظ رکھا گیا، ہلاک نہ ہوا، تاکہ لوگ اس سے عبرت لیں۔
5. After Pharaoh (10:93)
5. فرعون کے بعد (10:93)
Allah settled the Children of Israel in a good place and gave them good things. They did not differ until knowledge came to them; Allah will judge between them on the Day of Resurrection.
اللہ نے بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانا دیا اور پاکیزہ چیزیں رزق دیں۔ انہوں نے علم آ جانے کے بعد ہی اختلاف کیا؛ قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔
Lessons
اسباق
- Arrogance stops a person from accepting the truth.
- Trust in Allah, steadfastness and prayer are the believer's strength when he is weak (10:84 to 89).
- Belief at the time of death or punishment is not accepted; believe before it is too late (10:90 to 91).
- The body of Pharaoh is a sign for later generations (10:92).
- تکبر انسان کو حق ماننے سے روکتا ہے۔
- کمزوری کی حالت میں اللہ پر بھروسا، ثابت قدمی اور نماز مومن کی طاقت ہیں (10:84 تا 89)۔
- موت یا عذاب کے وقت کا ایمان قبول نہیں؛ دیر ہونے سے پہلے ایمان لاؤ (10:90 تا 91)۔
- فرعون کا بدن بعد کی نسلوں کے لیے نشانی ہے (10:92)۔
The people of Yunus and the lesson of belief in time (10:96 to 103)قومِ یونس اور بروقت ایمان کا سبق (10:96 تا 103)Often examined
The surah names the people of Yunus as the one town whose belief benefited it. It is the only mention of Hazrat Yunus (AS) in this surah, and it gives the surah its name.
سورۃ قومِ یونس کو وہ واحد بستی بتاتی ہے جسے اس کا ایمان فائدہ دے گیا۔ اس سورۃ میں حضرت یونس علیہ السلام کا یہی ایک ذکر ہے اور یہی سورۃ کے نام کی وجہ ہے۔
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا
Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment for a time
- There was no town that believed so that its belief benefited it, except the people of Yunus (10:98).
- When they believed, Allah removed from them the punishment of disgrace in the worldly life and gave them enjoyment for a time (10:98).
- According to the commentators he was sent to Nineveh (in present-day Iraq). His full story is in other surahs (Al-Anbiya, As-Saffat, Al-Qalam).
- کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اسے فائدہ دے، سوائے قومِ یونس کے (10:98)۔
- جب وہ ایمان لائے تو اللہ نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے ہٹا دیا اور کچھ مدت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا (10:98)۔
- مفسرین کے مطابق وہ نینوا (موجودہ عراق) کی طرف بھیجے گئے۔ ان کا مکمل قصہ دوسری سورتوں (الانبیاء، الصافات، القلم) میں ہے۔
Related ayat
متعلقہ آیات
- Those against whom the word of your Lord has come true will not believe, even if every sign comes to them, until they see the painful punishment (10:96 to 97).
- Had your Lord willed, all on earth would have believed. Will you compel the people to be believers? No soul can believe except by Allah's permission (10:99 to 100). There is no compulsion in belief.
- Say: look at what is in the heavens and the earth; signs and warners do not help a people who do not believe (10:101). They only wait for days like those who passed before; wait, I am with you among those who wait (10:102).
- Allah will save His messengers and the believers; it is a duty on Him (10:103).
- Allah destroyed many generations before when they wronged and their messengers brought clear proofs (10:13); then He made the Quraish successors on earth to see how they act (10:14).
- جن پر تیرے رب کی بات پوری ہو چکی وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس ہر نشانی آ جائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں (10:96 تا 97)۔
- اگر تیرا رب چاہتا تو زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ مومن بن جائیں؟ کوئی جان اللہ کی اجازت کے بغیر ایمان نہیں لا سکتی (10:99 تا 100)۔ ایمان میں جبر نہیں۔
- کہو: دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا ہے؛ نشانیاں اور ڈرانے والے ایمان نہ لانے والوں کو فائدہ نہیں دیتے (10:101)۔ وہ پچھلوں جیسے دنوں ہی کا انتظار کرتے ہیں؛ کہو انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں (10:102)۔
- اللہ اپنے رسولوں اور مومنوں کو بچائے گا؛ یہ اس نے اپنے ذمے لے رکھا ہے (10:103)۔
- اللہ نے تم سے پہلے کئی قوموں کو ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا اور ان کے رسول واضح دلائل لائے (10:13)؛ پھر اللہ نے قریش کو زمین میں ان کا جانشین بنایا تاکہ دیکھے وہ کیسے عمل کرتے ہیں (10:14)۔
Lessons
اسباق
- Belief and repentance in time, before the punishment arrives, save a nation.
- Guidance is by Allah's permission; the caller only conveys the message.
- Faith cannot be forced.
- عذاب آنے سے پہلے وقت پر ایمان اور توبہ قوم کو بچا لیتے ہیں۔
- ہدایت اللہ کی توفیق سے ہے؛ داعی کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔
- ایمان زبردستی نہیں دیا جا سکتا۔
The beliefs of the pagans and their refutationمشرکین کے عقائد اور ان کی تردید
Surah Yunus quotes the wrong beliefs of the Quraish and refutes each from reason and from revelation.
سورۃ یونس قریش کے غلط عقائد نقل کر کے ہر ایک کا جواب عقل اور وحی سے دیتی ہے۔
| Belief or claim | Ayah | Refutation |
|---|---|---|
| The idols are our intercessors with Allah | 10:18 | They neither harm nor benefit; no one can intercede except after His permission (10:3); Allah is above what they associate |
| Why is no sign sent down to him? | 10:20 | The unseen belongs only to Allah; so wait, I am waiting with you |
| Bring another Quran or change this one | 10:15 to 16 | I cannot change it from myself; I follow only the revelation; I lived among you a lifetime before |
| He has invented it | 10:38 | Bring a surah like it |
| Making some provision lawful and some unlawful by their own custom | 10:59 to 60 | Did Allah permit you, or do you invent a lie against Allah? |
| Allah has taken a son | 10:68 to 70 | Glory be to Him, He is free of need, and all in the heavens and earth is His; you have no proof; those who invent lies will not succeed |
| Following assumption and not knowledge | 10:36, 10:66 | Assumption does not avail against the truth |
| عقیدہ یا دعویٰ | آیت | تردید |
|---|---|---|
| یہ بت اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں | 10:18 | وہ نہ نقصان دیتے ہیں نہ نفع؛ اس کی اجازت کے بعد ہی کوئی سفارش کر سکتا ہے (10:3)؛ اللہ ان کے شرک سے بلند ہے |
| اس پر کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ | 10:20 | غیب صرف اللہ کا ہے؛ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں |
| اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اسے بدل دو | 10:15 to 16 | میں اپنی طرف سے اسے نہیں بدل سکتا؛ میں صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں؛ میں اس سے پہلے ایک عمر تم میں گزار چکا |
| اس نے اسے گھڑ لیا ہے | 10:38 | اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ |
| اپنی رسم سے بعض رزق کو حلال اور بعض کو حرام ٹھہرانا | 10:59 to 60 | کیا اللہ نے تمہیں اجازت دی، یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو؟ |
| اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے | 10:68 to 70 | وہ پاک اور بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے؛ تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں؛ جھوٹ گھڑنے والے کامیاب نہیں ہوتے |
| علم کے بجائے گمان کی پیروی | 10:36, 10:66 | گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا |
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے محمدؐ، ان سے کہو “کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟" پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
And they worship other than Allah that which neither harms them nor benefits them, and they say, "These are our intercessors with Allah " Say, "Do you inform Allah of something He does not know in the heavens or on the earth?" Exalted is He and high above what they associate with Him
اے نبیؐ! کہہ دو کہ لوگو، اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اسی خدا کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں (104) اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ تو یکسو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اِس دین پر قائم کر دے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو (105) اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا (106)
Say, [O Muhammad], "O people, if you are in doubt as to my religion - then I do not worship those which you worship besides Allah; but I worship Allah, who causes your death. And I have been commanded to be of the believers (104) And [commanded], 'Direct your face toward the religion, inclining to truth, and never be of those who associate others with Allah (105) And do not invoke besides Allah that which neither benefits you nor harms you, for if you did, then indeed you would be of the wrongdoers (106)
Rukus 1 to 3, ayat 1 to 30Rukus 1 to 3رکوع 1 تا 3
These three rukus open the surah with the wise Book, the astonishment of the Quraish, the proofs of tawhid, the Hereafter and the character of man.
ان تین رکوعوں میں سورۃ حکمت والی کتاب، قریش کے تعجب، توحید کے دلائل، آخرت اور انسان کے مزاج کے بیان سے شروع ہوتی ہے۔
Ruku 1 (ayat 1 to 10)
رکوع 1 (آیات 1 تا 10)
The letters Alif Lam Ra and the wise Book. The people were amazed that Allah sent revelation to a man from among them to warn and give good news, and the disbelievers called him an obvious magician (10:2). Your Lord created the heavens and the earth in six days (10:3), and to Him is the return (10:4). The sun and the moon are signs (10:5 to 6). The heedless have the Fire as refuge, the believers the Gardens of Pleasure (10:7 to 10).
حروفِ مقطعات «الٓرٰ» اور حکمت والی کتاب۔ لوگوں کو تعجب ہوا کہ اللہ نے انہی میں سے ایک آدمی پر ڈرانے اور خوش خبری دینے کے لیے وحی بھیجی، اور کافروں نے اسے کھلا جادوگر کہا (10:2)۔ تمہارا رب وہ ہے جس نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیے (10:3) اور اسی کی طرف لوٹنا ہے (10:4)۔ سورج اور چاند نشانیاں ہیں (10:5 تا 6)۔ غافلوں کا ٹھکانہ آگ اور مومنوں کا نعمت کے باغ ہیں (10:7 تا 10)۔
Ruku 2 (ayat 11 to 20)
رکوع 2 (آیات 11 تا 20)
If Allah hastened evil for people as they hasten good, their term would have ended (10:11). Man calls on Allah in hardship and forgets in ease (10:12). Earlier generations were destroyed when they wronged (10:13), and the Quraish were made successors (10:14). When asked to bring another Quran, the Prophet (ﷺ) said he cannot change it and that he lived a lifetime among them before it (10:15 to 16). The worst wrongdoer invents a lie against Allah (10:17); they worship what neither harms nor benefits (10:18). Mankind was one community and then differed (10:19). They ask for a sign (10:20).
اگر اللہ لوگوں کے لیے برائی میں اتنی جلدی کرتا جتنی وہ بھلائی مانگنے میں کرتے ہیں تو ان کی مدت ختم ہو چکی ہوتی (10:11)۔ انسان تکلیف میں اللہ کو پکارتا اور آسانی میں بھول جاتا ہے (10:12)۔ پہلی قومیں ظلم پر ہلاک کی گئیں (10:13) اور قریش کو جانشین بنایا گیا (10:14)۔ کوئی اور قرآن لانے کے مطالبے پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اسے بدل نہیں سکتا اور میں اس سے پہلے ایک عمر تم میں گزار چکا ہوں (10:15 تا 16)۔ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے (10:17)؛ وہ ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ نقصان دیتے ہیں نہ نفع (10:18)۔ انسان ایک امت تھے پھر اختلاف کیا (10:19)۔ وہ کسی نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں (10:20)۔
Ruku 3 (ayat 21 to 30)
رکوع 3 (آیات 21 تا 30)
People plot against the signs after mercy (10:21). The ships in the storm (10:22 to 23). The example of worldly life as rain and plants (10:24). Allah invites to the Home of Peace (10:25). The reward of the good and the evil (10:26 to 27). On the Day of gathering the partners disown their worshippers (10:28 to 30).
رحمت ملنے کے بعد لوگ آیات کے خلاف چالیں چلتے ہیں (10:21)۔ طوفان میں کشتی کا منظر (10:22 تا 23)۔ دنیا کی زندگی کی مثال بارش اور سبزے سے (10:24)۔ اللہ دارالسلام کی طرف بلاتا ہے (10:25)۔ نیکوں اور بدوں کا بدلہ (10:26 تا 27)۔ حشر کے دن شریک اپنے پجاریوں سے بیزاری ظاہر کریں گے (10:28 تا 30)۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne, arranging the matter [of His creation]. There is no intercessor except after His permission. That is Allah, your Lord, so worship Him. Then will you not remember
انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے (15) اور کہو “اگر اللہ کی مشیّت نہ ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (16)
And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur'an other than this or change it." Say, [O Muhammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day (15) Say, "If Allah had willed, I would not have recited it to you, nor would He have made it known to you, for I had remained among you a lifetime before it. Then will you not reason (16)
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے (22) مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو (23)
It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful (22) But when He saves them, at once they commit injustice upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do (23)
دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں
The example of [this] worldly life is but like rain which We have sent down from the sky that the plants of the earth absorb - [those] from which men and livestock eat - until, when the earth has taken on its adornment and is beautified and its people suppose that they have capability over it, there comes to it Our command by night or by day, and We make it as a harvest, as if it had not flourished yesterday. Thus do We explain in detail the signs for a people who give thought
(تم اِس نا پائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دار السلام کی طرف دعوت دے رہا ہے (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے (25) جن لوگوں نے بھَلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھَلائی ہے اور مزید فضل ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی وہ جنت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے (26)
And Allah invites to the Home of Peace and guides whom He wills to a straight path (25) For them who have done good is the best [reward] and extra. No darkness will cover their faces, nor humiliation. Those are companions of Paradise; they will abide therein eternally (26)
Teachings
تعلیمات
- Allah created the universe in six days and arranges everything.
- Remember Allah in ease as in hardship.
- The Prophet (ﷺ) cannot change the Quran; he follows the revelation.
- The world is short-lived like a crop; the Home of Peace is the goal.
- اللہ نے کائنات چھ دن میں پیدا کی اور سب کی تدبیر وہی کرتا ہے۔
- آسانی میں بھی تکلیف کی طرح اللہ کو یاد رکھو۔
- نبی کریم ﷺ قرآن کو بدل نہیں سکتے؛ وہ وحی کی پیروی کرتے ہیں۔
- دنیا کھیتی کی طرح چند روزہ ہے؛ منزل دارالسلام ہے۔
Rukus 4 to 5, ayat 31 to 53Rukus 4 to 5رکوع 4 تا 5
These rukus argue with the pagans from their own admissions, prove the Quran with the challenge, and answer the mocking demand for the punishment.
ان رکوعوں میں مشرکین سے ان کے اپنے اقرار کی بنیاد پر بحث ہے، چیلنج سے قرآن کا ثبوت ہے اور عذاب کے مذاق اڑانے والے مطالبے کا جواب ہے۔
Ruku 4 (ayat 31 to 40)
رکوع 4 (آیات 31 تا 40)
Who gives you provision, controls hearing and sight and arranges every matter? They say Allah (10:31); then why do they not fear Him? (10:32). None of their partners begins creation or guides to the truth (10:34 to 35). Most follow only assumption (10:36). The Quran is not from other than Allah (10:37), and the challenge to bring a surah like it (10:38). They deny what they do not know (10:39); some believe and some do not (10:40).
تمہیں رزق کون دیتا ہے، سماعت و بصارت کا مالک کون ہے اور ہر کام کی تدبیر کون کرتا ہے؟ وہ کہتے ہیں اللہ (10:31)؛ تو اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟ (10:32)۔ ان کے شریکوں میں کوئی تخلیق کی ابتدا کرتا ہے نہ حق کی راہ دکھاتا ہے (10:34 تا 35)۔ اکثر صرف گمان پر چلتے ہیں (10:36)۔ یہ قرآن اللہ کے سوا کسی کا بنایا ہوا نہیں (10:37) اور اس جیسی سورۃ لانے کا چیلنج (10:38)۔ وہ اس کو جھٹلاتے ہیں جس کا علم نہیں رکھتے (10:39)؛ ان میں کچھ ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں (10:40)۔
Ruku 5 (ayat 41 to 53)
رکوع 5 (آیات 41 تا 53)
If they deny you, say: my deeds are mine and yours are yours (10:41). The Prophet (ﷺ) cannot make the deaf hear or the blind see (10:42 to 43). Allah does not wrong people; they wrong themselves (10:44). On the Day of gathering it will feel like an hour of the day (10:45). Every nation has a messenger, and judgement is in justice (10:47). They ask when the promise will come (10:48); the Prophet (ﷺ) has no power to harm or benefit himself except by Allah's will, and every nation has a term (10:49). If the punishment came, they would believe, but too late (10:50 to 52). They ask: is it true? Yes, by my Lord (10:53).
اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو کہو: میرا عمل میرے لیے اور تمہارا تمہارے لیے (10:41)۔ نبی کریم ﷺ بہروں کو سنا اور اندھوں کو دکھا نہیں سکتے (10:42 تا 43)۔ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں (10:44)۔ حشر کے دن یوں لگے گا جیسے دن کی ایک گھڑی ٹھہرے تھے (10:45)۔ ہر امت کا رسول ہے اور فیصلہ انصاف سے ہو گا (10:47)۔ وہ پوچھتے ہیں وعدہ کب آئے گا (10:48)؛ نبی کریم ﷺ اپنے نفع نقصان کے مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے، اور ہر امت کی ایک مدت ہے (10:49)۔ عذاب آ گیا تو ایمان لائیں گے مگر بہت دیر سے (10:50 تا 52)۔ وہ پوچھتے ہیں: کیا یہ سچ ہے؟ ہاں، میرے رب کی قسم (10:53)۔
اِن سے پُوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟
Say, "Who provides for you from the heaven and the earth? Or who controls hearing and sight and who brings the living out of the dead and brings the dead out of the living and who arranges [every] matter?" They will say, "Allah," so say, "Then will you not fear Him
اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آ چکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے (37) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، “اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو (38)
And it was not [possible] for this Qur'an to be produced by other than Allah, but [it is] a confirmation of what was before it and a detailed explanation of the [former] Scripture, about which there is no doubt, from the Lord of the worlds (37) Or do they say [about the Prophet], "He invented it?" Say, "Then bring forth a surah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful (38)
(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے (اس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہرگز وہ راہِ راست پر نہ تھے
And on the Day when He will gather them, [it will be] as if they had not remained [in the world] but an hour of the day, [and] they will know each other. Those will have lost who denied the meeting with Allah and were not guided
پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ کہو “میرے رب کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو
And they ask information of you, [O Muhammad], "Is it true?" Say, "Yes, by my Lord. Indeed, it is truth; and you will not cause failure [to Allah]
Teachings
تعلیمات
- Admitting that Allah is the Provider means He alone deserves worship.
- The Quran is a miracle that no one can match.
- Do not follow assumption in religion.
- Belief after the punishment arrives has no value.
- اللہ کو رازق ماننے کا مطلب ہے کہ عبادت کا حق اسی کا ہے۔
- قرآن ایسا معجزہ ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔
- دین میں گمان کی پیروی نہ کرو۔
- عذاب آنے کے بعد ایمان کی کوئی قدر نہیں۔
Rukus 6 to 7, ayat 54 to 70Rukus 6 to 7رکوع 6 تا 7
These rukus describe the regret of the wrongdoers, the Quran as healing and mercy, the friends of Allah and the refutation of the claim that Allah has a son.
ان رکوعوں میں ظالموں کی حسرت، قرآن کی شفا اور رحمت، اللہ کے دوستوں کا بیان اور اللہ کے بیٹے کے دعوے کی تردید ہے۔
Ruku 6 (ayat 54 to 60)
رکوع 6 (آیات 54 تا 60)
A wrongdoer would offer all the earth as ransom and will hide his regret (10:54). Whatever is in the heavens and earth belongs to Allah, and His promise is true (10:55). He gives life and death (10:56). The Quran is an instruction from the Lord, a healing for the hearts, guidance and mercy (10:57); rejoice in Allah's bounty and mercy (10:58). Do not make lawful and unlawful by your own invention (10:59 to 60).
ظالم زمین بھر مال بھی فدیے میں دینے کو تیار ہو گا اور اپنی حسرت چھپائے گا (10:54)۔ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی ہے اور اس کا وعدہ سچا ہے (10:55)۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے (10:56)۔ قرآن رب کی طرف سے نصیحت، دلوں کی شفا، ہدایت اور رحمت ہے (10:57)؛ اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہو (10:58)۔ اپنی طرف سے حلال و حرام نہ ٹھہراؤ (10:59 تا 60)۔
Ruku 7 (ayat 61 to 70)
رکوع 7 (آیات 61 تا 70)
Allah is a witness over every action, and nothing, even an atom's weight, is hidden from Him (10:61). The friends of Allah have no fear and no grief (10:62 to 64). All honour belongs to Allah (10:65). Allah made the night for rest and the day for sight (10:67). The claim that Allah has a son is false (10:68); those who invent lies about Allah will not succeed (10:69 to 70).
اللہ ہر عمل پر گواہ ہے اور ذرہ برابر چیز بھی اس سے چھپی نہیں (10:61)۔ اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہو گا نہ غم (10:62 تا 64)۔ ساری عزت اللہ کی ہے (10:65)۔ اللہ نے رات آرام کے لیے اور دن دیکھنے کے لیے بنایا (10:67)۔ اللہ کے بیٹے کا دعویٰ جھوٹ ہے (10:68)؛ اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے کامیاب نہیں ہوتے (10:69 تا 70)۔
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے (57) اے نبیؐ، کہو کہ “یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں (58)
O mankind, there has to come to you instruction from your Lord and healing for what is in the breasts and guidance and mercy for the believers (57) Say, "In the bounty of Allah and in His mercy - in that let them rejoice; it is better than what they accumulate (58)
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، (62) ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے (63) دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے (64)
Unquestionably, [for] the allies of Allah there will be no fear concerning them, nor will they grieve (62) Those who believed and were fearing Allah (63) For them are good tidings in the worldly life and in the Hereafter. No change is there in the words of Allah. That is what is the great attainment (64)
لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے سبحان اللہ! وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے تمہارے پاس اس قول کے لیے آخر کیا دلیل ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟
They have said, "Allah has taken a son." Exalted is He; He is the [one] Free of need. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. You have no authority for this [claim]. Do you say about Allah that which you do not know
Teachings
تعلیمات
- The Quran is healing for the heart and mercy for believers.
- Only Allah has the right to declare things lawful or unlawful.
- The friends of Allah are the believers who fear Him.
- Allah sees every deed; keep this awareness.
- قرآن دل کی شفا اور مومنوں کے لیے رحمت ہے۔
- حلال و حرام ٹھہرانے کا حق صرف اللہ کو ہے۔
- اللہ کے دوست ایمان والے اور اس سے ڈرنے والے ہیں۔
- اللہ ہر عمل کو دیکھتا ہے؛ یہ احساس رکھو۔
Rukus 8 to 9, ayat 71 to 92Rukus 8 to 9رکوع 8 تا 9
These rukus give the stories of Hazrat Nuh (AS) and of Hazrat Musa (AS) with Pharaoh, ending with the drowning of Pharaoh.
ان رکوعوں میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون کے قصے ہیں جو فرعون کے غرق ہونے پر ختم ہوتے ہیں۔
Ruku 8 (ayat 71 to 82)
رکوع 8 (آیات 71 تا 82)
Hazrat Nuh (AS) told his people he trusts Allah and asks no reward; they denied him, Allah saved him in the ship and drowned the rest (10:71 to 73). Other messengers came after him (10:74). Allah sent Hazrat Musa (AS) and Hazrat Harun (AS) to Pharaoh, who called the truth magic (10:75 to 78). The magicians were called, and their magic was made vain (10:79 to 82).
حضرت نوح علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ وہ اللہ پر بھروسا کرتے ہیں اور کوئی اجر نہیں مانگتے؛ انہوں نے جھٹلایا تو اللہ نے انہیں کشتی میں بچایا اور باقی کو غرق کیا (10:71 تا 73)۔ ان کے بعد اور رسول آئے (10:74)۔ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون کی طرف بھیجا جس نے حق کو جادو کہا (10:75 تا 78)۔ جادوگر بلائے گئے اور ان کا جادو باطل کیا گیا (10:79 تا 82)۔
Ruku 9 (ayat 83 to 92)
رکوع 9 (آیات 83 تا 92)
Only a few young people believed out of fear of Pharaoh (10:83). Hazrat Musa (AS) taught trust in Allah (10:84 to 86). The houses were made places of prayer (10:87). Hazrat Musa (AS) prayed against Pharaoh's wealth and it was accepted (10:88 to 89). Pharaoh declared belief while drowning, was refused, and his body was saved as a sign (10:90 to 92).
فرعون کے ڈر سے صرف چند نوجوان ایمان لائے (10:83)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پر بھروسے کی تلقین کی (10:84 تا 86)۔ گھروں کو نماز کی جگہ بنایا گیا (10:87)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے مال کے خلاف دعا کی جو قبول ہوئی (10:88 تا 89)۔ فرعون نے ڈوبتے وقت ایمان کا اعلان کیا، رد کیا گیا اور اس کا بدن نشانی کے طور پر بچایا گیا (10:90 تا 92)۔
اِن کو نوحؑ کا قصہ سناؤ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ “اے برادران قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سنا سنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابل برداشت ہو گیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اس کو خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کو ئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آؤ اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو (71) تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں (72)
And recite to them the news of Noah, when he said to his people, "O my people, if my residence and my reminding of the signs of Allah has become burdensome upon you - then I have relied upon Allah. So resolve upon your plan and [call upon] your associates. Then let not your plan be obscure to you. Then carry it out upon me and do not give me respite (71) And if you turn away [from my advice] then no payment have I asked of you. My reward is only from Allah, and I have been commanded to be of the Muslims (72)
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ “لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو (84) انہوں نے جواب دیا “ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا (85) اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے (86)
And Moses said, "O my people, if you have believed in Allah, then rely upon Him, if you should be Muslims (84) So they said, "Upon Allah do we rely. Our Lord, make us not [objects of] trial for the wrongdoing people (85) And save us by Your mercy from the disbelieving people (86)
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (88) اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے (89)
And Moses said, "Our Lord, indeed You have given Pharaoh and his establishment splendor and wealth in the worldly life, our Lord, that they may lead [men] astray from Your way. Our Lord, obliterate their wealth and harden their hearts so that they will not believe until they see the painful punishment (88) [Allah] said, "Your supplication has been answered." So remain on a right course and follow not the way of those who do not know (89)
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے پھر فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں (90) (جواب دیا گیا) “اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا (91) اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں (92)
And We took the Children of Israel across the sea, and Pharaoh and his soldiers pursued them in tyranny and enmity until, when drowning overtook him, he said, "I believe that there is no deity except that in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims (90) Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters (91) So today We will save you in body that you may be to those who succeed you a sign. And indeed, many among the people, of Our signs, are heedless (92)
Teachings
تعلیمات
- Trust in Allah in front of a stronger enemy.
- Keep to prayer in hard times.
- Belief at the last moment is not accepted.
- The body of Pharaoh is a sign for later generations.
- طاقتور دشمن کے سامنے اللہ پر بھروسا۔
- مشکل وقت میں نماز کو تھامے رکھو۔
- آخری لمحے کا ایمان قبول نہیں۔
- فرعون کا بدن بعد کی نسلوں کے لیے نشانی ہے۔
Rukus 10 to 11, ayat 93 to 109Rukus 10 to 11رکوع 10 تا 11
The last rukus close the surah with the example of the people of Yunus, the lack of compulsion in belief, and final instructions to the Prophet (ﷺ).
آخری رکوع قومِ یونس کی مثال، ایمان میں جبر نہ ہونے اور نبی کریم ﷺ کو آخری ہدایات پر سورۃ کو ختم کرتے ہیں۔
Ruku 10 (ayat 93 to 103)
رکوع 10 (آیات 93 تا 103)
Allah settled the Children of Israel well and they differed only after knowledge came (10:93). If in doubt, ask those who read the Book before (10:94); do not be among the deniers (10:95). Those on whom the word has come true will not believe (10:96 to 97). Only the people of Yunus believed in time and were spared (10:98). Allah does not compel anyone to believe (10:99 to 100). Look at the heavens and the earth (10:101). Allah will save His messengers and the believers (10:103).
اللہ نے بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانا دیا اور انہوں نے علم آنے کے بعد اختلاف کیا (10:93)۔ اگر شک ہو تو ان سے پوچھو جو پہلے سے کتاب پڑھتے ہیں (10:94)؛ جھٹلانے والوں میں سے نہ ہو (10:95)۔ جن پر بات پوری ہو چکی وہ ایمان نہ لائیں گے (10:96 تا 97)۔ صرف قومِ یونس وقت پر ایمان لائی اور بچ گئی (10:98)۔ اللہ کسی کو ایمان پر مجبور نہیں کرتا (10:99 تا 100)۔ آسمانوں اور زمین کو دیکھو (10:101)۔ اللہ اپنے رسولوں اور مومنوں کو بچائے گا (10:103)۔
Ruku 11 (ayat 104 to 109)
رکوع 11 (آیات 104 تا 109)
The Prophet (ﷺ) declares: I do not worship what you worship besides Allah, I worship Allah who causes you to die (10:104). Turn your face to the religion upright and do not be of the polytheists (10:105); do not call besides Allah on what neither benefits nor harms (10:106). If Allah touches you with harm none can remove it but He, and if He wants good none can repel His bounty (10:107). The truth has come; guidance or error is for oneself (10:108). Follow the revelation and be patient until Allah judges, the best of judges (10:109).
نبی کریم ﷺ اعلان کرتے ہیں: میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا کرتے ہو، میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت دیتا ہے (10:104)۔ اپنا رخ یکسو ہو کر دین کی طرف رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہو (10:105)؛ اللہ کے سوا ان کو نہ پکارو جو نہ نفع دیں نہ نقصان (10:106)۔ اگر اللہ تمہیں نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور بھلائی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں (10:107)۔ حق آ چکا؛ ہدایت یا گمراہی اپنے ہی لیے ہے (10:108)۔ وحی کی پیروی کرو اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے، وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (10:109)۔
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا
Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment for a time
اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟ (99) کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے (100)
And had your Lord willed, those on earth would have believed - all of them entirely. Then, [O Muhammad], would you compel the people in order that they become believers (99) And it is not for a soul to believe except by permission of Allah, and He will place defilement upon those who will not use reason (100)
اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
And if Allah should touch you with adversity, there is no remover of it except Him; and if He intends for you good, then there is no repeller of His bounty. He causes it to reach whom He wills of His servants. And He is the Forgiving, the Merciful
اے محمدؐ، کہہ دو کہ “لوگو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آ چکا ہے اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے، اور جو گمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں (108) اور اے نبیؐ، تم اس ہدایت کی پیروی کیے جاؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جا رہی ہے، اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (109)
Say, "O mankind, the truth has come to you from your Lord, so whoever is guided is only guided for [the benefit of] his soul, and whoever goes astray only goes astray [in violation] against it. And I am not over you a manager (108) And follow what is revealed to you, [O Muhammad], and be patient until Allah will judge. And He is the best of judges (109)
Teachings
تعلیمات
- Believe in time; do not delay belief until punishment comes.
- There is no compulsion in belief.
- Only Allah removes harm and gives good.
- Follow the revelation and be patient until Allah decides.
- وقت پر ایمان لاؤ؛ عذاب آنے تک ایمان کو نہ ٹالو۔
- ایمان میں زبردستی نہیں۔
- نقصان دور کرنا اور بھلائی دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔
- وحی کی پیروی کرو اور اللہ کے فیصلے تک صبر کرو۔
Exam pointsامتحانی نکاتOften examined
One-line facts for MCQs and short questions.
کثیر الانتخابی اور مختصر سوالات کے لیے ایک سطری حقائق۔
- Surah Yunus is the 10th surah, Makki, with 109 ayat and 11 rukus, in para 11.
- It is named after Hazrat Yunus (AS), whose people are mentioned in 10:98.
- It begins with the letters «الٓرٰ»; the other surahs that begin with them are Hud, Yusuf, Ibrahim and Al-Hijr.
- Revealed in the last stage of the Makkan period; no single occasion of revelation.
- The universe was created in six days (10:3).
- The sun is a «ضِيَآءً» (shining light) and the moon a «نُوْرًا» (light) (10:5).
- The Quraish called the Prophet (ﷺ) an obvious magician (10:2).
- In hardship man calls Allah lying, sitting or standing, and forgets Him afterwards (10:12).
- They asked for another Quran or a change in it (10:15); the Prophet (ﷺ) answered that he had lived a lifetime among them (10:16).
- The ships in the storm and the promise of thanks (10:22 to 23).
- The worldly life is likened to rain and plants that become a harvest (10:24).
- Allah invites to the Home of Peace (10:25); «زِيَادَةٌ» is the sight of Allah (Sahih Muslim).
- The challenge to bring a surah like the Quran is in 10:38.
- The Quran is an instruction, a healing for the breasts, a guidance and a mercy (10:57).
- The friends of Allah have no fear and no grief (10:62); they believed and feared Allah (10:63).
- Hazrat Nuh (AS): 10:71 to 73. Hazrat Musa (AS) and Hazrat Harun (AS) with Pharaoh: 10:75 to 92.
- Pharaoh's belief at the time of drowning was refused, and his body was saved as a sign (10:90 to 92).
- The people of Yunus were the only town whose belief benefited it (10:98).
- No compulsion in belief: no one believes except by Allah's permission (10:99 to 100).
- Only Allah removes harm, and no one can repel His bounty (10:107).
- Long topics: topic 6 (human attitudes in hardship and ease) and topic 7 (the truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran), in unit 16.
- The 80-list words of this surah: «مَاْوٰىهُمْ» (10:8), «اَلسَّاعَةُ» (10:45, 10:49), «خَسِرَ» (10:45), «بَعَثْنَا» (10:74 to 75).
- سورۃ یونس دسویں سورۃ ہے، مکی ہے، 109 آیات اور 11 رکوع ہیں، پارہ 11 میں ہے۔
- اس کا نام حضرت یونس علیہ السلام پر ہے جن کی قوم کا ذکر 10:98 میں ہے۔
- یہ «الٓرٰ» سے شروع ہوتی ہے؛ ان سے شروع ہونے والی دوسری سورتیں ہود، یوسف، ابراہیم اور الحجر ہیں۔
- مکی دور کے آخری مرحلے میں نازل ہوئی؛ کوئی ایک شانِ نزول نہیں۔
- کائنات چھ دن میں پیدا ہوئی (10:3)۔
- سورج «ضِيَآءً» (چمکتی روشنی) اور چاند «نُوْرًا» (نور) ہے (10:5)۔
- قریش نے نبی کریم ﷺ کو کھلا جادوگر کہا (10:2)۔
- تکلیف میں انسان لیٹے، بیٹھے، کھڑے اللہ کو پکارتا ہے اور بعد میں بھول جاتا ہے (10:12)۔
- انہوں نے کوئی اور قرآن یا اس میں تبدیلی کا مطالبہ کیا (10:15)؛ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک عمر ان میں گزار چکے (10:16)۔
- طوفان میں کشتیاں اور شکر کا وعدہ (10:22 تا 23)۔
- دنیا کی زندگی کو بارش اور سبزے سے تشبیہ دی گئی جو کٹی ہوئی کھیتی بن جاتا ہے (10:24)۔
- اللہ دارالسلام کی طرف بلاتا ہے (10:25)؛ «زِيَادَةٌ» اللہ کا دیدار ہے (صحیح مسلم)۔
- قرآن جیسی سورۃ لانے کا چیلنج 10:38 میں ہے۔
- قرآن نصیحت، سینوں کی شفا، ہدایت اور رحمت ہے (10:57)۔
- اللہ کے دوستوں کو نہ خوف نہ غم (10:62)؛ وہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے (10:63)۔
- حضرت نوح علیہ السلام: 10:71 تا 73۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام و ہارون علیہ السلام اور فرعون: 10:75 تا 92۔
- فرعون کا ڈوبتے وقت کا ایمان رد ہوا اور اس کا بدن نشانی کے طور پر بچایا گیا (10:90 تا 92)۔
- قومِ یونس وہ واحد بستی ہے جسے اس کا ایمان فائدہ دے گیا (10:98)۔
- ایمان میں جبر نہیں: اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی ایمان نہیں لاتا (10:99 تا 100)۔
- نقصان صرف اللہ دور کرتا ہے اور اس کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا (10:107)۔
- تفصیلی موضوعات: موضوع 6 (رنج و راحت میں انسانی رویے) اور موضوع 7 (نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت)، یونٹ 16 میں۔
- اس سورۃ کے منتخب 80 الفاظ: «مَاْوٰىهُمْ» (10:8)، «اَلسَّاعَةُ» (10:45، 10:49)، «خَسِرَ» (10:45)، «بَعَثْنَا» (10:74 تا 75)۔
Recognising the ayat of Surah Yunusسورۃ یونس کی آیات کی پہچانOften examined
If you see one of these ayat in the paper, look for the key words and answer from the ayah first, then add the context.
اگر پرچے میں ان آیات میں سے کوئی آئے تو کلیدی الفاظ دیکھیں اور پہلے آیت کے الفاظ سے جواب دیں، پھر پس منظر شامل کریں۔
| Ayah | Key words to spot | What examiners ask |
|---|---|---|
| 10:2 | «لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ»: an obvious magician | Why the Quraish were amazed; what they called the Prophet (ﷺ); what the Prophet (ﷺ) was told to warn and promise |
| 10:3 | «فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ»: six days; «ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ» | In how many days the universe was created (model paper); no intercessor without permission |
| 10:5 | «ضِيَآءً» and «نُوْرًا»: the sun and the moon | Which is light and which is shining light; purpose: number of years and reckoning |
| 10:12 | «دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا»: lying on his side, sitting or standing | The attitude of man in hardship and ease (long topic 6) |
| 10:15 to 16 | «ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ هٰذَآ»: bring another Quran; «عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ»: a lifetime | What they demanded; the Prophet's (ﷺ) reply; the proof from his earlier life |
| 10:22 to 23 | «فِي الْفُلْكِ»: the ships; «دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ» | What they say in the storm; what they do after being saved |
| 10:24 | «كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ»: like rain | The example of worldly life |
| 10:25 to 26 | «دَارِ السَّلٰمِ» and «الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» | The Home of Peace; the extra reward and its hadith |
| 10:31 | «مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ»: who gives you provision | Their admission that it is Allah; why they do not fear Him |
| 10:38 | «فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ»: bring a surah like it | The challenge; what they claimed about the Quran (long topic 7) |
| 10:57 to 58 | «مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ»: an instruction from your Lord and a healing for the breasts | The four qualities of the Quran; what to rejoice in |
| 10:62 to 64 | «اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ»: the friends of Allah have no fear | Who are the friends of Allah; their reward |
| 10:71 to 72 | «نَبَاَ نُوْحٍ»: the news of Nuh | What Hazrat Nuh (AS) said to his people; no reward asked |
| 10:88 to 89 | «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓى اَمْوَالِهِمْ»: destroy their wealth | The prayer of Hazrat Musa (AS) and its answer |
| 10:90 to 92 | «نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ»: We will save you in body | Pharaoh's last words; what Allah promised about his body and why (model paper) |
| 10:98 | «قَوْمَ يُوْنُسَ»: the people of Yunus | Why the surah is named Yunus; the only town whose belief benefited it |
| 10:99 to 100 | «اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ»: will you compel the people | No compulsion in belief; belief by Allah's permission |
| 10:107 | «وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ»: if Allah touches you with harm | Who removes harm and who gives good (long topic 6) |
| 10:108 to 109 | «وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِرْ»: follow what is revealed and be patient | The last instruction of the surah |
| آیت | پہچان کے الفاظ | ممتحن کیا پوچھتے ہیں |
|---|---|---|
| 10:2 | «لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ»: کھلا جادوگر | قریش کو تعجب کیوں ہوا؛ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کیا کہا؛ نبی کریم ﷺ کو کیا ڈرانے اور خوش خبری دینے کا حکم ہوا |
| 10:3 | «فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ»: چھ دن؛ «ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ» | کائنات کتنے دن میں بنی (ماڈل پیپر)؛ اجازت کے بغیر سفارش نہیں |
| 10:5 | «ضِيَآءً» اور «نُوْرًا»: سورج اور چاند | ضیاء اور نور کون سا ہے؛ مقصد: سالوں کی گنتی اور حساب |
| 10:12 | «دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا»: لیٹے، بیٹھے یا کھڑے | رنج و راحت میں انسان کا رویہ (تفصیلی موضوع 6) |
| 10:15 to 16 | «ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ هٰذَآ»: کوئی اور قرآن لاؤ؛ «عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ»: ایک عمر | ان کا مطالبہ کیا تھا؛ نبی کریم ﷺ کا جواب؛ آپ ﷺ کی پچھلی زندگی سے دلیل |
| 10:22 to 23 | «فِي الْفُلْكِ»: کشتیاں؛ «دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ» | طوفان میں وہ کیا کہتے ہیں؛ بچنے کے بعد کیا کرتے ہیں |
| 10:24 | «كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ»: بارش کی طرح | دنیا کی زندگی کی مثال |
| 10:25 to 26 | «دَارِ السَّلٰمِ» اور «الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ» | دارالسلام؛ اضافی انعام اور اس کی حدیث |
| 10:31 | «مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ»: تمہیں رزق کون دیتا ہے | ان کا اقرار کہ وہ اللہ ہے؛ وہ اس سے ڈرتے کیوں نہیں |
| 10:38 | «فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ»: اس جیسی ایک سورۃ لاؤ | چیلنج؛ قرآن کے بارے میں ان کا دعویٰ (تفصیلی موضوع 7) |
| 10:57 to 58 | «مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ»: تمہارے رب کی نصیحت اور سینوں کی شفا | قرآن کی چار صفات؛ کس پر خوش ہونا چاہیے |
| 10:62 to 64 | «اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ»: اللہ کے دوستوں کو خوف نہیں | اللہ کے دوست کون ہیں؛ ان کا انعام |
| 10:71 to 72 | «نَبَاَ نُوْحٍ»: نوح کی خبر | حضرت نوح علیہ السلام نے قوم سے کیا کہا؛ اجر نہیں مانگا |
| 10:88 to 89 | «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓى اَمْوَالِهِمْ»: ان کے مال برباد کر دے | حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور اس کا جواب |
| 10:90 to 92 | «نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ»: ہم تیرے بدن کو بچائیں گے | فرعون کے آخری الفاظ؛ اس کے بدن کے بارے میں اللہ کا وعدہ اور اس کی حکمت (ماڈل پیپر) |
| 10:98 | «قَوْمَ يُوْنُسَ»: قومِ یونس | سورۃ کا نام یونس کیوں ہے؛ وہ واحد بستی جسے ایمان نے فائدہ دیا |
| 10:99 to 100 | «اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ»: کیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے | ایمان میں جبر نہیں؛ ایمان اللہ کی اجازت سے |
| 10:107 | «وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ»: اگر اللہ تمہیں نقصان پہنچائے | نقصان کون دور کرتا ہے اور بھلائی کون دیتا ہے (تفصیلی موضوع 6) |
| 10:108 to 109 | «وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِرْ»: وحی کی پیروی کرو اور صبر کرو | سورۃ کی آخری ہدایت |
Key terms
- مَاْوٰىهُمْ
- Their refuge, their abode (10:8) (80-list word)ان کا ٹھکانہ (10:8)
- اَلسَّاعَةُ
- The Hour (the Day of Resurrection) (80-list word; the surah has «سَاعَةً» in 10:45 and 10:49)قیامت (10:45، 10:49)
- خَسِرَ
- He lost, he was a loser (10:45) (80-list word)وہ خسارے میں رہا (10:45)
- بَعَثْنَا
- We sent (10:74, 10:75) (80-list word)ہم نے بھیجا (10:74، 10:75)
- ضِيَآءً
- A shining light, said of the sun (10:5)چمکتی روشنی، سورج کے لیے (10:5)
- نُوْرًا
- A light, said of the moon (10:5)نور، چاند کے لیے (10:5)
- اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ
- He established Himself above the Throne (10:3)وہ عرش پر مستوی ہوا (10:3)
- شَفِيْعٌ
- An intercessor (10:3)سفارشی (10:3)
- قَدَمَ صِدْقٍ
- A firm precedence of honour (10:2)سچی عزت اور بلند مرتبہ (10:2)
- دَارِ السَّلٰمِ
- The Home of Peace, Paradise (10:25)سلامتی کا گھر، جنت (10:25)
- زِيَادَةٌ
- An extra reward, the sight of Allah (10:26)اضافی انعام، اللہ کا دیدار (10:26)
- اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ
- The friends of Allah (10:62)اللہ کے دوست (10:62)
- الْفُلْكِ
- The ships (10:22)کشتیاں (10:22)
- بِبَدَنِكَ
- In your body (10:92)تیرے بدن کے ساتھ (10:92)
- لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ
- An obvious magician (10:2)کھلا جادوگر (10:2)
- Home of Peace (Dar as-Salam)دارالسلام
- Paradise, the home of safety from every harm, to which Allah invites (10:25).جنت، ہر تکلیف سے محفوظ گھر، جس کی طرف اللہ بلاتا ہے (10:25)۔
Multiple choice questionsکثیر الانتخابی سوالات
Practice MCQs of the board's kind on the introduction, the verses and the selected words of Surah Yunus.سورۃ یونس کے تعارف، آیات اور منتخب الفاظ پر بورڈ کے انداز کے مشقی سوالات۔
- A9thنویں
- B10thدسویںAnswerجواب
- C11thگیارہویں
- D12thبارہویں
Answer B. It is the 10th surah, between At-Tawbah and Hud.
جواب B۔ یہ التوبہ اور ہود کے درمیان دسویں سورۃ ہے۔
- A9999
- B123123
- C109109Answerجواب
- D110110
Answer C. It has 109 ayat (Hud has 123, Al-Isra 111).
جواب C۔ اس میں 109 آیات ہیں (ہود میں 123، الاسراء میں 111)۔
- A99
- B1010
- C1212
- D1111Answerجواب
Answer D. It has 11 rukus.
جواب D۔ اس میں 11 رکوع ہیں۔
- A1010
- B1111Answerجواب
- C1212
- D99
Answer B. It is wholly in para 11.
جواب B۔ یہ پوری کی پوری گیارہویں پارے میں ہے۔
- AMakkah (Makki)مکہ (مکی)Answerجواب
- BMadinah (Madani)مدینہ (مدنی)
- COn the way to Madinahمدینہ کے راستے میں
- DAt Tabukتبوک میں
Answer A. It is a Makki surah of the last stage of the Makkan period.
جواب A۔ یہ مکی سورۃ ہے اور مکی دور کے آخری مرحلے میں اتری۔
- AHazrat Nuh (AS)حضرت نوح علیہ السلام
- BHazrat Musa (AS)حضرت موسیٰ علیہ السلام
- CHazrat Yunus (AS)حضرت یونس علیہ السلامAnswerجواب
- DHazrat Hud (AS)حضرت ہود علیہ السلام
Answer C. The name comes from Hazrat Yunus (AS), whose people are mentioned in 10:98. Hazrat Nuh and Hazrat Musa (AS) are in the surah, but it is not named after them; Surah Hud has its own name.
جواب C۔ نام حضرت یونس علیہ السلام کے نام پر ہے جن کی قوم کا ذکر 10:98 میں ہے۔ حضرت نوح اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا ذکر اس میں ہے مگر نام ان پر نہیں؛ ہود الگ سورۃ ہے۔
- A10:6210:62
- B10:9210:92
- C10:10710:107
- D10:9810:98Answerجواب
Answer D. Ayah 98: no town believed so that its belief benefited it except the people of Yunus. 10:92 is about Pharaoh's body.
جواب D۔ آیت 98: کوئی بستی ایسی نہ ہوئی جسے اس کے ایمان نے فائدہ دیا ہو سوائے قومِ یونس کے۔ آیت 92 فرعون کے بدن کے بارے میں ہے۔
- AAlif Lam Meemالٓمٓ
- BAlif Lam RaالٓرٰAnswerجواب
- CHa Meemحٰمٓ
- DTa Seen Meemطٰسٓمٓ
Answer B. It begins with Alif Lam Ra, as do Hud, Yusuf, Ibrahim and Al-Hijr.
جواب B۔ یہ الٓرٰ سے شروع ہوتی ہے، جیسے ہود، یوسف، ابراہیم اور الحجر۔
- ASeven daysسات دن
- BEight daysآٹھ دن
- CSix daysچھ دنAnswerجواب
- DFour daysچار دن
Answer C. Allah created them in six days and then established Himself above the Throne.
جواب C۔ اللہ نے انہیں چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوا۔
- AA shining light («ضِيَآءً»)چمکتی روشنی («ضِيَآءً»)Answerجواب
- BA coveringایک پردہ
- CA shadeایک سایہ
- DA mountain of fireآگ کا پہاڑ
Answer A. The sun is a shining light and the moon a light («نُوْرًا»).
جواب A۔ سورج چمکتی روشنی اور چاند نور ہے۔
- AA poetشاعر
- BA madmanدیوانہ
- CA soothsayerکاہن
- DAn obvious magicianکھلا جادوگرAnswerجواب
Answer D. They said: this is an obvious magician. Poet, madman and soothsayer are charges made in other surahs.
جواب D۔ انہوں نے کہا: یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ شاعر، دیوانہ اور کاہن کے الزامات دوسری سورتوں میں ہیں۔
- AAffliction touches himاسے تکلیف پہنچتی ہےAnswerجواب
- BHe becomes richوہ مال دار ہو جاتا ہے
- CHe becomes strongوہ طاقتور ہو جاتا ہے
- DHe wins a warوہ جنگ جیت جاتا ہے
Answer A. 10:12: when affliction touches man he calls Us lying, sitting or standing, then forgets when it is removed.
جواب A۔ 10:12: جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہمیں پکارتا ہے، پھر تکلیف دور ہونے پر بھول جاتا ہے۔
- AHe would bring it next yearوہ اگلے سال لے آئیں گے
- BHe cannot change it on his own accordوہ اپنی طرف سے اسے نہیں بدل سکتےAnswerجواب
- CHe would change only some ayatوہ صرف کچھ آیات بدل دیں گے
- DJibril would change itجبریل اسے بدلیں گے
Answer B. He only follows what is revealed to him and fears the punishment of a great Day if he disobeys.
جواب B۔ وہ صرف وحی کی پیروی کرتے ہیں اور نافرمانی کی صورت میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
- ATen surahs like itاس جیسی دس سورتیں
- BA book like itاس جیسی کتاب
- CA surah like itاس جیسی ایک سورۃAnswerجواب
- DAn ayah like itاس جیسی ایک آیت
Answer C. Surah Yunus (10:38) challenges them to bring one surah like it. The challenge of ten surahs is in Surah Hud (11:13).
جواب C۔ سورۃ یونس (10:38) میں ایک سورۃ لانے کا چیلنج ہے۔ دس سورتوں کا چیلنج سورۃ ہود (11:13) میں ہے۔
- AThe bodyجسم
- BWhat is in the breasts (hearts)جو سینوں (دلوں) میں ہےAnswerجواب
- CThe landزمین
- DThe animalsجانور
Answer B. It is an instruction from the Lord, a healing for what is in the breasts, a guidance and a mercy for the believers.
جواب B۔ یہ رب کی طرف سے نصیحت، سینوں کی شفا، ہدایت اور مومنوں کے لیے رحمت ہے۔
- AWill have no fear and will not grieveنہ ان پر خوف ہو گا نہ وہ غم کھائیں گےAnswerجواب
- BWill not be asked about their deedsان سے اعمال کا سوال نہ ہو گا
- CWill live on earth foreverوہ زمین پر ہمیشہ رہیں گے
- DWill not dieوہ نہ مریں گے
Answer A. No fear for them and no grief; they are those who believed and feared Allah.
جواب A۔ نہ ان پر خوف ہے نہ غم؛ وہ ایمان لانے والے اور اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔
- AWith the chiefsسرداروں کے پاس ہے
- BWith his familyاس کے خاندان کے پاس ہے
- CIn their wealthان کے مال میں ہے
- DOnly with Allahصرف اللہ کے پاس ہےAnswerجواب
Answer D. He asked them for no payment: his reward is only with Allah.
جواب D۔ انہوں نے کوئی اجرت نہیں مانگی: ان کا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے۔
- AMusa and Harun (AS)موسیٰ اور ہارون علیہما السلامAnswerجواب
- BIbrahim and Lut (AS)ابراہیم اور لوط علیہما السلام
- CNuh and Hud (AS)نوح اور ہود علیہما السلام
- DSalih and Shu'aib (AS)صالح اور شعیب علیہما السلام
Answer A. 10:75: We sent after them Moses and Aaron to Pharaoh and his establishment with Our signs.
جواب A۔ 10:75: پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔
- AAll of themسب
- BThe eldersبزرگ
- CA few young peopleچند نوجوانAnswerجواب
- DThe magiciansجادوگر
Answer C. Only a few young people of his people believed, out of fear of Pharaoh and his chiefs.
جواب C۔ اس کی قوم کے صرف چند نوجوان ایمان لائے، فرعون اور اس کے سرداروں کے ڈر سے۔
- ATo burn his bodyاس کا بدن جلا دینا
- BTo save his body as a signاس کے بدن کو نشانی بنا کر بچاناAnswerجواب
- CTo bury him in the seaاسے سمندر میں دفن کرنا
- DTo forgive himاسے بخش دینا
Answer B. Today We will save you in body so that you may be a sign to those after you.
جواب B۔ آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
- ANuhنوح
- BYunusیونسAnswerجواب
- CHudہود
- DSalihصالح
Answer B. Allah removed from the people of Yunus the punishment of disgrace and gave them enjoyment for a time.
جواب B۔ اللہ نے قومِ یونس سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور کچھ مدت کا فائدہ دیا۔
- ATheir wealthان کا مال
- BTheir refuge, their abodeان کا ٹھکانہAnswerجواب
- CTheir deedsان کے اعمال
- DTheir childrenان کی اولاد
Answer B. «مَاْوٰىهُمُ النَّارُ» (10:8): their refuge will be the Fire.
جواب B۔ «مَاْوٰىهُمُ النَّارُ» (10:8): ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔
- AHe wonوہ جیتا
- BHe gaveاس نے دیا
- CHe lost, he was a loserوہ خسارے میں رہاAnswerجواب
- DHe sawاس نے دیکھا
Answer C. «قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ» (10:45): those who denied the meeting with Allah have lost.
جواب C۔ «قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ» (10:45): اللہ سے ملاقات کو جھٹلانے والے خسارے میں رہے۔
- AWe sentہم نے بھیجاAnswerجواب
- BWe savedہم نے بچایا
- CWe createdہم نے پیدا کیا
- DWe destroyedہم نے ہلاک کیا
Answer A. «ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا» (10:74): then We sent after him messengers.
جواب A۔ «ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا» (10:74): پھر ہم نے اس کے بعد رسول بھیجے۔
- AThe nightرات
- BThe dayدن
- CA yearایک سال
- DThe Hour (the Day of Resurrection)قیامتAnswerجواب
Answer D. Its meaning is the Hour, the Day of Resurrection. In 10:45 the word «سَاعَةً» also means an hour of the day.
جواب D۔ اس کا مطلب قیامت ہے۔ آیت 10:45 میں «سَاعَةً» دن کی ایک گھڑی کے معنی میں بھی آیا ہے۔
Short questions (2 marks)مختصر سوالات (2 نمبر)
Two-mark questions with full-marks answers: write two clear points, each with its ayah number.دو نمبر کے سوالات مع مکمل جوابات: دو واضح نکات لکھیں، ہر ایک آیت کے نمبر کے ساتھ۔
- It is named after Hazrat Yunus (AS), whose people are mentioned in 10:98: they believed in time and Allah removed the punishment of disgrace from them.
- It is the 10th surah, Makki, with 109 ayat and 11 rukus.
- اس کا نام حضرت یونس علیہ السلام پر ہے جن کی قوم کا ذکر 10:98 میں ہے: وہ بروقت ایمان لائے اور اللہ نے ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا۔
- یہ دسویں سورۃ، مکی ہے، اس میں 109 آیات اور 11 رکوع ہیں۔
- It is Makki, in para 11.
- It was revealed in the last stage of the Makkan period, before the hijrah, when the opposition of the Quraish was at its height.
- یہ مکی ہے اور پارہ 11 میں ہے۔
- یہ مکی دور کے آخری مرحلے میں، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی جب قریش کی مخالفت عروج پر تھی۔
- There is no single incident. It answers the situation in Makkah: the Quraish were amazed that a man from among them was a messenger and called him a magician (10:2).
- They asked for another Quran or a change in it (10:15), asked for a sign (10:20) and mocked the promise of punishment (10:48); the surah replies to each.
- کوئی ایک واقعہ نہیں۔ یہ مکہ کے حالات کا جواب ہے: قریش کو تعجب تھا کہ انہی میں سے ایک آدمی رسول ہے اور وہ اسے جادوگر کہتے تھے (10:2)۔
- انہوں نے کوئی اور قرآن یا اس میں تبدیلی مانگی (10:15)، نشانی مانگی (10:20) اور عذاب کے وعدے کا مذاق اڑایا (10:48)؛ سورۃ ہر ایک کا جواب دیتی ہے۔
- The invitation to tawhid, to belief in the Prophet (ﷺ) and the Quran (risalah), and to the Hereafter (akhirah).
- It warns that belief after the punishment comes is of no use, as the end of Pharaoh shows, while the people of Yunus were saved by believing in time.
- توحید، نبی کریم ﷺ اور قرآن پر ایمان (رسالت) اور آخرت کی دعوت۔
- یہ تنبیہ کہ عذاب آ جانے کے بعد ایمان بے فائدہ ہے، جیسا فرعون کے انجام سے ظاہر ہے، جبکہ قومِ یونس بروقت ایمان لا کر بچ گئی۔
- They called the Prophet (ﷺ) an obvious magician (10:2) and said he invented the Quran (10:38).
- They said: bring another Quran or change it (10:15), and why is no sign sent down to him (10:20).
- انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کھلا جادوگر کہا (10:2) اور کہا کہ اس نے قرآن گھڑ لیا ہے (10:38)۔
- انہوں نے کہا: کوئی اور قرآن لاؤ یا اسے بدل دو (10:15)، اور اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (10:20)۔
- In six days (10:3), then He established Himself above the Throne and arranges the matter.
- The sun is a shining light and the moon a light, and the moon has fixed phases so that we know the number of years and the reckoning (10:5).
- چھ دنوں میں (10:3)، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا اور معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔
- سورج چمکتی روشنی اور چاند نور ہے، اور چاند کی منزلیں مقرر ہیں تاکہ سالوں کی گنتی اور حساب معلوم ہو (10:5)۔
- Allah created the heavens and the earth and arranges all affairs; the alternation of night and day is a sign (10:3, 10:6).
- The pagans themselves admit that Allah gives provision and controls hearing and sight (10:31), and none of their partners can begin creation or guide to the truth (10:34 to 35).
- اللہ نے آسمان و زمین پیدا کیے اور سب امور کی تدبیر کرتا ہے؛ رات دن کا بدلنا نشانی ہے (10:3، 10:6)۔
- مشرکین خود مانتے ہیں کہ رزق دینے والا اور سماعت و بصارت کا مالک اللہ ہے (10:31)، اور ان کے شریکوں میں سے کوئی تخلیق کی ابتدا کر سکتا ہے نہ حق کی راہ دکھا سکتا ہے (10:34 تا 35)۔
- In hardship he calls upon Allah lying on his side, sitting or standing.
- When Allah removes the affliction he goes on as if he had never called Him; this is made pleasing to the transgressors.
- تکلیف میں وہ لیٹے، بیٹھے اور کھڑے اللہ کو پکارتا ہے۔
- جب اللہ تکلیف دور کر دیتا ہے تو یوں چل پڑتا ہے جیسے اسے کبھی پکارا ہی نہ تھا؛ حد سے بڑھنے والوں کو یہی کام اچھا لگتا ہے۔
- When a storm wind and waves surround them they call Allah sincerely: if You save us we will be thankful.
- When He saves them they at once commit injustice on earth; their injustice is only against themselves.
- جب آندھی اور موجیں انہیں گھیر لیتی ہیں تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں: اگر تو نے ہمیں بچا لیا تو ہم شکر گزار ہوں گے۔
- جب وہ بچا لیتا ہے تو فوراً زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں؛ ان کی سرکشی انہی کے خلاف ہے۔
- To those who say the Prophet (ﷺ) invented the Quran: bring a surah like it.
- They may call whoever they can besides Allah to help, if they are truthful.
- ان کو جو کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قرآن گھڑ لیا: اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ۔
- وہ اللہ کے سوا جسے چاہیں مدد کے لیے بلا لیں، اگر سچے ہیں۔
- It is an instruction («مَوْعِظَةٌ») from your Lord and a healing («شِفَآءٌ») for what is in the breasts.
- It is a guidance and a mercy for the believers.
- یہ تمہارے رب کی طرف سے نصیحت («مَوْعِظَةٌ») اور سینوں کی بیماریوں کی شفا («شِفَآءٌ») ہے۔
- یہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
- They are those who believed and used to fear Allah (10:63).
- They have no fear and no grief, and they have good tidings in the worldly life and in the Hereafter (10:62, 10:64).
- وہ ایمان لانے والے اور اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہیں (10:63)۔
- انہیں نہ خوف ہو گا نہ غم، اور دنیا کی زندگی اور آخرت دونوں میں خوش خبری ہے (10:62، 10:64)۔
- He said: I have put my trust in Allah, so decide your plan and give me no respite; I asked you no payment, my reward is only with Allah.
- They denied him; Allah saved him and those in the ship and drowned the deniers (10:73).
- انہوں نے کہا: میں نے اللہ پر بھروسا کیا ہے، تم اپنا فیصلہ کر لو اور مجھے مہلت نہ دو؛ میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا، میرا اجر صرف اللہ کے ذمے ہے۔
- انہوں نے جھٹلایا؛ اللہ نے اسے اور کشتی والوں کو بچایا اور جھٹلانے والوں کو غرق کر دیا (10:73)۔
- Only a few young people believed, out of fear that Pharaoh and his chiefs would persecute them; Pharaoh was haughty (10:83).
- Hazrat Musa (AS) told them: if you have believed in Allah, rely on Him, if you are Muslims (10:84).
- صرف چند نوجوان ایمان لائے، اس ڈر سے کہ فرعون اور اس کے سردار انہیں ستائیں گے؛ فرعون سرکش تھا (10:83)۔
- حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسا کرو، اگر تم مسلمان ہو (10:84)۔
- To settle their people in houses in Egypt and make their houses a qiblah (places of prayer).
- To establish prayer and give good news to the believers.
- اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بنائیں اور گھروں کو قبلہ (نماز کی جگہ) بنائیں۔
- نماز قائم کریں اور مومنوں کو خوش خبری دیں۔
- He prayed: Lord, destroy their wealth and harden their hearts so that they do not believe until they see the painful punishment.
- Allah said: your prayer has been answered, so be steadfast and do not follow those who do not know.
- انہوں نے دعا کی: اے رب ان کے مال برباد کر دے اور ان کے دل سخت کر دے کہ دردناک عذاب دیکھنے تک ایمان نہ لائیں۔
- اللہ نے فرمایا: تمہاری دعا قبول ہو گئی، ثابت قدم رہو اور نادانوں کے راستے پر نہ چلو۔
- He said: I believe there is no god except the One in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims.
- The answer: Now? You disobeyed before and were of the corrupters. His belief came only when death was before him, so it was not accepted.
- اس نے کہا: میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
- جواب: اب؟ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسدوں میں سے تھا۔ اس کا ایمان موت سامنے آنے پر آیا، اس لیے قبول نہ ہوا۔
- Allah promised: today We will save you in body.
- The wisdom: so that he may be a sign for those who come after him; yet many people are heedless of Allah's signs.
- اللہ نے فرمایا: آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے۔
- حکمت: تاکہ وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانی بنے؛ مگر بہت سے لوگ اللہ کی نشانیوں سے غافل ہیں۔
- They are the only town whose belief benefited it: when they believed, Allah removed the punishment of disgrace and gave them enjoyment for a time.
- Lesson: belief and repentance in time save a nation, before the punishment arrives.
- وہی واحد بستی ہے جسے اس کا ایمان فائدہ دے گیا: جب وہ ایمان لائے تو اللہ نے رسوائی کا عذاب ہٹا دیا اور کچھ مدت فائدہ اٹھانے دیا۔
- سبق: عذاب آنے سے پہلے وقت پر ایمان اور توبہ قوم کو بچا لیتے ہیں۔
- Had Allah willed, all on earth would have believed; so the Prophet (ﷺ) cannot compel people to become believers (10:99).
- No soul can believe except by Allah's permission (10:100).
- اگر اللہ چاہتا تو زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے؛ اس لیے نبی کریم ﷺ لوگوں کو مومن بننے پر مجبور نہیں کر سکتے (10:99)۔
- کوئی جان اللہ کی اجازت کے بغیر ایمان نہیں لا سکتی (10:100)۔
- For those who do good is the best reward («الْحُسْنٰى») and an extra («زِيَادَةٌ»).
- The Prophet (ﷺ) explained that the extra is looking at the Lord in Paradise (Sahih Muslim, from Hazrat Suhayb (RA)).
- نیکی کرنے والوں کے لیے بہترین بدلہ («الْحُسْنٰى») اور اضافہ («زِيَادَةٌ») ہے۔
- نبی کریم ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اضافہ جنت میں اپنے رب کو دیکھنا ہے (صحیح مسلم، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے)۔
- Remember Allah in ease as in hardship and be grateful (10:12, 10:22 to 23).
- Believe in time: belief at the time of punishment or death is not accepted (10:90 to 91, 10:98); and only Allah removes harm and gives good (10:107).
- آسانی میں بھی تکلیف کی طرح اللہ کو یاد رکھو اور شکر کرو (10:12، 10:22 تا 23)۔
- وقت پر ایمان لاؤ: عذاب یا موت کے وقت کا ایمان قبول نہیں (10:90 تا 91، 10:98)؛ اور نقصان دور کرنا اور بھلائی دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے (10:107)۔
Ayah questions (Section B, Q.2 c)آیات پر سوالات (حصہ دوم، سوال 2 ج)
Section B, Q.2 (c) prints an ayah with its translation and asks sub-questions worth 3 marks in all. Answer first from the words of the ayah, then add the context.حصہ دوم، سوال 2 (ج) میں آیت مع ترجمہ دی جاتی ہے اور ذیلی سوالات پوچھے جاتے ہیں جن کے کل 3 نمبر ہوتے ہیں۔ پہلے آیت کے الفاظ سے جواب دیں، پھر پس منظر شامل کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تخت حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے یہی اللہ تمہارا رب ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟
Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne, arranging the matter [of His creation]. There is no intercessor except after His permission. That is Allah, your Lord, so worship Him. Then will you not remember
Six days.
چھ دنوں میں۔
No intercessor except after His permission.
اس کی اجازت کے بعد ہی کوئی سفارشی ہو سکتا ہے۔
So worship Him: will you not remember?
پس اسی کی عبادت کرو: کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟
Note.نوٹ: The proof of tawhid from creation; the same number of days is given in Al-A'raf and Hud.تخلیق سے توحید کی دلیل؛ دنوں کی یہی تعداد الاعراف اور ہود میں بھی ہے۔
انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں
And when affliction touches man, he calls upon Us, whether lying on his side or sitting or standing; but when We remove from him his affliction, he continues [in disobedience] as if he had never called upon Us to [remove] an affliction that touched him. Thus is made pleasing to the transgressors that which they have been doing
Lying on his side, sitting or standing.
لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے۔
He goes on as if he had never called Allah to remove his affliction.
وہ یوں چل پڑتا ہے جیسے اس نے کبھی تکلیف دور کرنے کے لیے اللہ کو پکارا ہی نہ تھا۔
What they were doing has been made pleasing to them.
جو وہ کرتے رہے وہ ان کے لیے خوش نما بنا دیا گیا۔
Note.نوٹ: Long topic 6: the human attitude in hardship and ease.تفصیلی موضوع 6: رنج و راحت میں انسانی رویہ۔
جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ “اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو “میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے (15) اور کہو “اگر اللہ کی مشیّت نہ ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (16)
And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur'an other than this or change it." Say, [O Muhammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day (15) Say, "If Allah had willed, I would not have recited it to you, nor would He have made it known to you, for I had remained among you a lifetime before it. Then will you not reason (16)
Bring a Quran other than this or change it.
اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اسے بدل دو۔
It is not for me to change it on my own accord; I only follow what is revealed to me, and I fear the punishment of a great Day if I disobey my Lord.
میرے لیے نہیں کہ اسے اپنی طرف سے بدلوں؛ میں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کی جاتی ہے، اور نافرمانی کی صورت میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
He had remained among them a lifetime before the revelation, and they knew him; will they not reason?
وہ وحی سے پہلے ایک عمر ان کے درمیان رہے اور وہ انہیں جانتے تھے؛ کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟
Note.نوٹ: Long topic 7: the truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran.تفصیلی موضوع 7: نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت۔
وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے (22) مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو (23)
It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from everywhere and they assume that they are surrounded, supplicating Allah, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful (22) But when He saves them, at once they commit injustice upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do (23)
They call upon Allah, sincere to Him in religion: if You save us from this, we will surely be among the thankful.
وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہیں: اگر تو نے ہمیں اس سے بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔
They at once commit injustice upon the earth without right.
وہ فوراً زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔
It is only against themselves; it is the enjoyment of worldly life, then to Allah is their return.
وہ انہی کے اپنے خلاف ہے؛ یہ دنیا کی زندگی کا چند روزہ فائدہ ہے، پھر ان کی واپسی اللہ کی طرف ہے۔
Note.نوٹ: Long topic 6: gratitude forgotten after rescue.تفصیلی موضوع 6: بچ جانے کے بعد شکر کو بھول جانا۔
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، “اگر تم اپنے اس الزام میں سچّے ہو تو ایک سُورۃ اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بُلا لو
Or do they say [about the Prophet], "He invented it?" Say, "Then bring forth a surah like it and call upon [for assistance] whomever you can besides Allah, if you should be truthful
They said: he invented it.
انہوں نے کہا: اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔
To bring a surah like it.
اس جیسی ایک سورۃ لے آئیں۔
Whomever they can besides Allah, if they are truthful.
اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہوں، اگر وہ سچے ہیں۔
Note.نوٹ: Long topic 7; the challenge of ten surahs is in Surah Hud, of one surah here and in Al-Baqarah.تفصیلی موضوع 7؛ دس سورتوں کا چیلنج سورۃ ہود میں، ایک سورۃ کا یہاں اور البقرہ میں ہے۔
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے
O mankind, there has to come to you instruction from your Lord and healing for what is in the breasts and guidance and mercy for the believers
- An instruction from your Lord.
- A healing for what is in the breasts.
- A guidance.
- A mercy for the believers.
- تمہارے رب کی طرف سے نصیحت۔
- سینوں کی بیماریوں کی شفا۔
- ہدایت۔
- مومنوں کے لیے رحمت۔
For the believers.
ایمان والوں کے لیے۔
Note.نوٹ: The next ayah (10:58) tells us to rejoice in the bounty and mercy of Allah.اگلی آیت (10:58) میں اللہ کے فضل اور رحمت پر خوش ہونے کا حکم ہے۔
سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، (62) ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے (63) دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے (64)
Unquestionably, [for] the allies of Allah there will be no fear concerning them, nor will they grieve (62) Those who believed and were fearing Allah (63) For them are good tidings in the worldly life and in the Hereafter. No change is there in the words of Allah. That is what is the great attainment (64)
There will be no fear concerning them, nor will they grieve.
ان پر نہ کوئی خوف ہو گا نہ وہ غم کھائیں گے۔
Those who believed and were fearing Allah.
جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔
Good tidings in the worldly life and in the Hereafter; the words of Allah do not change; that is the great attainment.
دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے؛ اللہ کی باتیں بدلتی نہیں؛ یہی بڑی کامیابی ہے۔
Note.نوٹ: The Prophet (ﷺ) said that nothing remains of prophethood except the good news, the true dream (Sahih Bukhari); the commentators cite this for the good tidings in this life.نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نبوت میں سے خوش خبریوں یعنی سچے خواب کے سوا کچھ باقی نہیں رہا (صحیح بخاری)؛ مفسرین دنیا کی خوش خبری کی تشریح میں اسے ذکر کرتے ہیں۔
موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں (88) اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا “تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے (89)
And Moses said, "Our Lord, indeed You have given Pharaoh and his establishment splendor and wealth in the worldly life, our Lord, that they may lead [men] astray from Your way. Our Lord, obliterate their wealth and harden their hearts so that they will not believe until they see the painful punishment (88) [Allah] said, "Your supplication has been answered." So remain on a right course and follow not the way of those who do not know (89)
Allah had given Pharaoh and his chiefs splendour and wealth, and they used them to lead people astray from Allah's way.
اللہ نے فرعون اور اس کے سرداروں کو شان و شوکت اور مال دیا تھا اور وہ اس سے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکاتے تھے۔
Destroy their wealth and harden their hearts so that they do not believe until they see the painful punishment.
ان کے مال برباد کر دے اور ان کے دل سخت کر دے کہ وہ دردناک عذاب دیکھنے تک ایمان نہ لائیں۔
Your prayer has been answered; remain on the right course and do not follow those who do not know.
تمہاری دعا قبول ہو گئی؛ سیدھی راہ پر قائم رہو اور نادانوں کی راہ پر نہ چلو۔
اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے پھر فرعون اور اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا "میں نے مان لیا کہ خداوند حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سر اطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں (90) (جواب دیا گیا) “اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اِس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا (91)
And We took the Children of Israel across the sea, and Pharaoh and his soldiers pursued them in tyranny and enmity until, when drowning overtook him, he said, "I believe that there is no deity except that in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims (90) Now? And you had disobeyed [Him] before and were of the corrupters (91)
I believe that there is no deity except that in whom the Children of Israel believe, and I am of the Muslims.
میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
Now? You had disobeyed before and were of the corrupters.
اب؟ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسدوں میں سے تھا۔
It came only when death was in front of him, after a life of disobedience; belief must come in time.
وہ موت سامنے آنے پر آیا، زندگی بھر کی نافرمانی کے بعد؛ ایمان وقت پر ہونا چاہیے۔
Note.نوٹ: Context: Pharaoh and his army followed the Children of Israel across the sea (10:90).پس منظر: فرعون اور اس کے لشکر نے بنی اسرائیل کا سمندر میں پیچھا کیا (10:90)۔
اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں
So today We will save you in body that you may be to those who succeed you a sign. And indeed, many among the people, of Our signs, are heedless
Today We will save you in body.
آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے۔
So that he may be a sign for those who come after him.
تاکہ وہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے نشانی بنے۔
Many among the people are heedless of Our signs.
لوگوں میں سے بہت سے ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔
Note.نوٹ: The model paper ayah. Allah saved his body from being lost in the sea so that it remains a lesson.ماڈل پیپر کی آیت۔ اللہ نے اس کے بدن کو سمندر میں گم ہونے سے بچایا تاکہ وہ عبرت رہے۔
پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا
Then has there not been a [single] city that believed so its faith benefited it except the people of Jonah? When they believed, We removed from them the punishment of disgrace in worldly life and gave them enjoyment for a time
The people of Yunus.
قومِ یونس۔
The punishment of disgrace in the worldly life, because they believed.
دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب، کیونکہ وہ ایمان لے آئے۔
Belief in time benefits a people; it must come before the punishment arrives.
بروقت ایمان قوم کو فائدہ دیتا ہے؛ وہ عذاب آنے سے پہلے ہونا چاہیے۔
Note.نوٹ: The surah is named after Hazrat Yunus (AS) because of this ayah.سورۃ کا نام اسی آیت کی وجہ سے یونس رکھا گیا۔
اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
And if Allah should touch you with adversity, there is no remover of it except Him; and if He intends for you good, then there is no repeller of His bounty. He causes it to reach whom He wills of His servants. And He is the Forgiving, the Merciful
None but Him.
اس کے سوا کوئی نہیں۔
None can repel His bounty; He gives it to whom He wills of His servants.
اس کے فضل کو کوئی روک نہیں سکتا؛ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے دیتا ہے۔
The Forgiving, the Merciful.
الغفور، الرحیم۔
Note.نوٹ: Long topic 6: only Allah is the remover of hardship.تفصیلی موضوع 6: تکلیف دور کرنے والا صرف اللہ ہے۔
FBISE and model paper questions
Questions from the FBISE Model Paper SSC-II (Assessment Framework, session 2026-27 onwards) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
- A66Answerجواب
- B55
- C44
- D33
Answer A. Surah Yunus (10:3) says that Allah created the heavens and the earth in six days and then established Himself above the Throne. Options 5, 4 and 3 are wrong.
جواب A۔ سورۃ یونس (10:3) میں ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیے پھر عرش پر مستوی ہوا۔ 5، 4 اور 3 دن غلط ہیں۔
اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں
So today We will save you in body that you may be to those who succeed you a sign. And indeed, many among the people, of Our signs, are heedless
Allah promised: today We will save you in body (10:92). Pharaoh's body was kept safe and not lost in the sea.
اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا: آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے (10:92)۔ فرعون کا بدن محفوظ رکھا گیا اور سمندر میں گم نہ ہوا۔
The wisdom is that his body may be a sign for those who come after him, a lesson that no tyrant can escape Allah and that belief at the time of death is not accepted.
حکمت یہ ہے کہ اس کا بدن بعد میں آنے والوں کے لیے نشانی بنے، اس بات کی عبرت کہ کوئی ظالم اللہ سے بچ نہیں سکتا اور موت کے وقت کا ایمان قبول نہیں۔
Most people are heedless of Allah's signs: they see them but do not take a lesson from them.
لوگوں کی اکثریت اللہ کی نشانیوں سے غافل ہے: وہ انہیں دیکھتے ہیں مگر ان سے عبرت نہیں لیتے۔
Note.نوٹ: Context: 10:90 to 91, Pharaoh's belief while drowning was refused.پس منظر: 10:90 تا 91 میں ڈوبتے وقت فرعون کا ایمان رد کر دیا گیا۔
Exam focus
- In how many days did Allah create the universe, according to Surah Yunus?سورۃ یونس کے مطابق اللہ نے کائنات کتنے دنوں میں پیدا کی؟ (mcq)The model paper asked this as an MCQ (answer 6, 10:3); MCQs on the surah's facts and numbers form most of Section A.ماڈل پیپر میں یہ کثیر الانتخابی سوال کے طور پر آیا (جواب 6، 10:3)؛ سورۃ کے حقائق اور اعداد پر سوالات حصہ الف کا بڑا حصہ ہوتے ہیں۔Go to answer
- Read 10:92 and answer: Pharaoh's body, the wisdom, the attitude of people.10:92 پڑھ کر بتائیں: فرعون کا بدن، حکمت، لوگوں کا رویہ۔ (ayah)This ayah was printed in the model paper (Q.2 (c)(ii)) and is the likeliest ayah of the surah.یہ آیت ماڈل پیپر (سوال 2 (ج)(ii)) میں آئی ہے اور سورۃ کی سب سے ممکنہ آیت ہے۔Go to answer
- Negative human attitudes in hardship and ease and their correction (10:12, 10:22 to 23, 10:107).رنج و راحت میں منفی انسانی رویے اور ان کی اصلاح (10:12، 10:22 تا 23، 10:107)۔ (long)Long topic 6 of the framework (8 marks). Full model answer in unit 16, topic 6.فریم ورک کا تفصیلی موضوع 6 (8 نمبر)۔ مکمل نمونہ جواب یونٹ 16، موضوع 6 میں ہے۔Go to answer
- The truth of the Prophet (ﷺ) and the Quran (10:15 to 16, 10:37 to 38, 10:57).نبی کریم ﷺ اور قرآن کی حقانیت (10:15 تا 16، 10:37 تا 38، 10:57)۔ (long)Long topic 7 of the framework (8 marks). Full model answer in unit 16, topic 7.فریم ورک کا تفصیلی موضوع 7 (8 نمبر)۔ مکمل نمونہ جواب یونٹ 16، موضوع 7 میں ہے۔Go to answer
- Why is the surah named Yunus? Ayat, rukus, circumstances of revelation?سورۃ کا نام یونس کیوں ہے؟ آیات، رکوع، نزول کے حالات؟ (short)Introduction questions are asked each time (SLO A-01); the model paper asked the reason for the name for other surahs.تعارف کے سوالات ہر بار پوچھے جاتے ہیں (SLO A-01)؛ ماڈل پیپر میں دوسری سورتوں کی وجہ تسمیہ پوچھی گئی۔Go to answer
- What did Pharaoh say when drowning and why was his belief refused (10:90 to 91)?فرعون نے ڈوبتے وقت کیا کہا اور اس کا ایمان کیوں رد ہوا (10:90 تا 91)؟ (short)The Pharaoh story is the only prophet story of the surah that the model paper printed; story questions follow the pattern 'what did X demand or say'.فرعون کا قصہ اس سورۃ کا وہ قصہ ہے جو ماڈل پیپر میں آیا؛ قصوں کے سوالات 'فلاں نے کیا کہا یا مانگا' کی طرز پر ہوتے ہیں۔Go to answer
- The 80-list words: «مَاْوٰىهُمْ»، «اَلسَّاعَةُ»، «خَسِرَ»، «بَعَثْنَا».80 منتخب الفاظ: «مَاْوٰىهُمْ»، «اَلسَّاعَةُ»، «خَسِرَ»، «بَعَثْنَا»۔ (short)Section B (b) asks the meanings of 5 of the 80 words for 1 mark each; learn the board's Urdu meanings.حصہ ب (ب) میں 80 میں سے 5 الفاظ کے معانی (1 نمبر فی لفظ) پوچھے جاتے ہیں؛ بورڈ کے اردو معانی یاد کریں۔Go to answer