Rustam aur Sohrab

رستم و سہراب (آغا حشر کاشمیری)

Class 12 Urdu, Prose 4

آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے رستم و سہراب کا چھٹا منظر، میدانِ جنگ۔ بوڑھا رستم نام چھپا کر نوجوان سہراب سے لڑتا ہے اور اسے خنجر مار دیتا ہے، پھر ماں کے نام اور بازو کے مہرے سے پہچانتا ہے کہ وہ اس کا اپنا بیٹا ہے۔ یہاں پس منظر، خلاصہ، کردار، دو امتحانی اقتباسات اور ایک تشریح ہے۔

مصنف کا تعارف: آغا حشر کاشمیری (1879ء تا 1935ء)

آغا حشر کاشمیری کا اصل نام آغا محمد شاہ اور والد کا نام آغا محمد غنی شاہ تھا۔ وہ بنارس میں پیدا ہوئے۔ والد کی سرپرستی میں اردو، عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور جے نرائن ہائی اسکول بنارس میں انگریزی تعلیم حاصل کی۔ سترہ برس کی عمر میں شعر و شاعری کی طرف رجحان ہوا۔

بمبئی کی الفریڈ تھیٹریکل کمپنی بنارس آئی تو انھیں ڈراما لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اسی شوق میں وہ بمبئی گئے اور پہلا ڈراما "مرید شک" لکھا جو 1899ء میں مکمل ہو کر اسٹیج ہوا اور بے حد مقبول ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے کئی ڈرامے لکھے جن میں سے اکثر کے پلاٹ ولیم شیکسپیئر کے انگریزی ڈراموں سے ماخوذ تھے۔

اہم ڈرامے: اسیرِ حرص، شہیدِ ناز، صیدِ ہوس، خوب صورت بلا، یہودی کی لڑکی، ترکی حور، آنکھ کا نشہ اور رستم و سہراب۔ ان کا انتقال 1935ء میں لاہور میں ہوا۔ انھیں ان کی ڈراما نگاری کی وجہ سے "اردو کا شیکسپیئر" کہا جاتا ہے۔

ڈراما نگاری کی خصوصیات: فنِ ڈراما سے طبعی مناسبت، زبان و بیان پر قدرت، شگفتگی، مزاح، رنگینی اور شوخی۔ آخری زمانے کے ڈرامے ندرتِ تحریر اور ادبی حسن کے لحاظ سے زیادہ قابلِ قدر ہیں۔ وہ قدیم اور جدید ڈراما نگاری کے درمیان ایک اہم کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پس منظر: رستم اور سہراب کی کہانی

رستم و سہراب کی داستان فردوسی کے شاہ نامہ سے لی گئی ہے۔ رستم ایران کا نامور پہلوان تھا جو سام و نریمان کے خاندان سے تھا۔ اس کی شادی تہمینہ سے ہوئی اور ان کا بیٹا سہراب پیدا ہوا، مگر رستم بیٹے سے کبھی نہیں ملا۔ پہچان کے لیے سہراب کے بازو پر رستم کی نشانی، ایک مہرہ، بندھا ہوا تھا۔

جوان ہو کر سہراب بڑا بہادر بنا اور ایران کے مخالف لشکر کی طرف سے ایران پر حملہ آور ہوا۔ اس کے ساتھیوں (ہومان، بارمان) اور ہجیر نے اسے دھوکا دیا اور رستم کی پہچان اس سے چھپائی۔ یوں باپ بیٹا ایک دوسرے کو پہچانے بغیر میدان میں آمنے سامنے آ گئے۔ پہلے دن کی لڑائی میں سہراب غالب رہا اور رستم کو اپنے بڑھاپے میں شرمندگی اٹھانی پڑی۔ سبق اسی جنگ کے دوسرے دن کا منظر ہے۔

خلاصہ: چھٹا منظر، میدانِ جنگ

رستم کی دعا

منظر کے آغاز میں رستم اداس اور غم گین دل کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار! میں نے کبھی تیرے قہر کو حقیر نہیں سمجھا، نہ اپنی طاقت پر غرور کیا، پھر یہ ذلت کس گناہ کی سزا ہے؟ وہ ساری رات سجدوں اور آنسوؤں میں گزارنے کے بعد التجا کرتا ہے کہ بڑھاپے میں میری شرم رکھ اور ایک دن کے لیے میری جوانی کا زور واپس دے دے۔

سہراب کی ہچکچاہٹ اور نام کا سوال

سہراب آتا ہے تو اس کا دل اس بوڑھے کی موت کے خیال سے کانپ اٹھتا ہے۔ رستم کہتا ہے کہ بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا اور جنگ کا نتیجہ دونوں میں سے ایک کی موت ہو گا۔ سہراب کہتا ہے کہ ایک غیبی آواز اسے اس جنگ سے روک رہی ہے، اس لیے وہ رستم کو زندہ لوٹ جانے کی اجازت دیتا ہے۔ رستم اسے کل کی اتفاقی فتح پر غرور نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ جنگ میں سہراب ہاتھ روک کر عاجزی سے پوچھتا ہے کہ کیا تو رستم ہے؟ رستم نام چھپا کر کہتا ہے: "میرا نام ہے... سہراب کی موت"۔

سہراب کا زخمی ہونا اور پہچان

دوبارہ لڑائی میں رستم سہراب کو گرا کر اس کے سینے میں خنجر اتار دیتا ہے۔ سہراب مرتے ہوئے باپ کو پکارتا ہے اور قاتل کو خبردار کرتا ہے کہ میرا باپ رستم تجھ سے انتقام لے گا۔ رستم چونک کر ماں کا نام پوچھتا ہے: تہمینہ۔ ثبوت مانگتا ہے تو سہراب بازو پر بندھا مہرہ دکھاتا ہے۔ رستم اپنا ہی دیا ہوا مہرہ دیکھ کر دیوانہ ہو جاتا ہے اور خود کو خونی جانور سے بھی زیادہ ظالم کہتا ہے۔

باپ کا ماتم اور سہراب کی موت

رستم اپنے آپ پر لعنت بھیجتا ہے کہ دو روزہ دنیا کی جھوٹی شہرت اور غرور نے اسے اپنا نام بتانے نہ دیا۔ سہراب بتاتا ہے کہ ہومان، بارمان اور ہجیر نے اسے دھوکا دیا، اور باپ کو صبر کی تلقین کرتا ہے کہ اس کی موت خدا کی مرضی ہے۔ رستم سوچتا ہے کہ تہمینہ کو کیا جواب دے گا۔ سہراب کہتا ہے کہ ماں سے کہنا انسان سب سے لڑ سکتا ہے، قسمت سے جنگ نہیں کر سکتا۔ رستم خدا سے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگتا ہے مگر سہراب "دنیا... رخصت... خدا!" کہہ کر مر جاتا ہے۔ رستم جوانی کے چراغ کے بجھنے کا ماتم کرتے ہوئے غش کھا کر گر پڑتا ہے اور پردہ گرتا ہے۔

کردار اور ڈرامے کی خصوصیات

کردارتعارف
رستمایران کا بوڑھا اور نامور پہلوان؛ خدا ترس مگر شہرت اور غرور کا اسیر؛ آخر میں پچھتاوے اور غم کی تصویر۔
سہرابرستم اور تہمینہ کا نوجوان بیٹا؛ بہادر، رحم دل، باپ کو دیکھنے کا آرزو مند؛ مرتے دم تک باپ کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔
تہمینہسہراب کی ماں؛ منظر میں موجود نہیں مگر ذکر بار بار آتا ہے۔
ہومان، بارمان، ہجیرجنھوں نے سہراب کو دھوکا دیا اور رستم کی پہچان چھپائی۔
  • المیہ: باپ کے ہاتھوں بیٹے کا قتل؛ پورا منظر غم اور حسرت میں ڈوبا ہوا ہے۔
  • کش مکش: سہراب کے دل کی غیبی آواز اور جنگ کا فرض، رستم کی شہرت اور حقیقت کے درمیان کش مکش۔
  • مکالمہ نگاری: پر جوش، خطیبانہ اور جذباتی مکالمے؛ ہر اہم موڑ پر اشعار، جو آغا حشر کا خاص انداز ہے۔
  • ہدایات: قوسین میں لکھی ہدایات (رو کر، مر جاتا ہے، پردہ گرتا ہے) اداکاری اور اسٹیج کی وضاحت کرتی ہیں۔
  • پیغام: غرور اور جھوٹی شہرت انسان کو تباہ کر دیتی ہے؛ تقدیر کے آگے انسان بے بس ہے۔

Key terms

پیرہن
لباس
فغاں
رونا دھونا، فریاد
قضا
موت
ناشاد
اداس، ناخوش
سخن ہائے نیاز
عاجزی سے کہی گئی باتیں
قہر و غضب
سخت غصہ
موذی
زہریلا، تکلیف دینے والا
نہاں رکھنا
چھپانا
اجل
موت
گھات میں
چھپ کر تاک میں
جلاد
سزائے موت دینے والا؛ مجازاً ظالم
مہرہ
بازو پر بندھی نشانی جس سے رستم نے سہراب کو پہچانا
جنگ کا نقارہ
لڑائی شروع ہونے کا اعلان کرنے والا بڑا ڈھول
حسرت و ماتم
افسوس اور سوگ

اقتباسات اور سوالات (سوال 2، حصہ نثر)

ہر اقتباس پر چھے سوال ہیں، ہر سوال 3 نمبر کا۔ ڈرامے کے جواب میں بولنے والے کردار اور موقع کا ذکر ضرور کریں۔

18 marks
درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیں اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب دیں۔

رستم: پروردگار! میں نے کبھی تیرے قہر و غضب کو حقیر نہیں سمجھا۔ کبھی تیری طاقت کے سامنے اپنی فانی طاقت کا غرور نہیں کیا۔ پھر اس ذلت کی شکل میں تو نے مجھے میرے کس گناہ کی سزا دی ہے؟ اے دردمندوں کی دوا اور کمزوروں کی طاقت! اے ناامیدوں کی امید! میں نے کل ساری رات تیرے حضور میں سجدہ ہائے نیاز کے ساتھ آنسو بہا کر مدد کے لیے التجا کی ہے۔ اپنے عاجز بندے کی التجا قبول کر اس بڑھاپے میں دنیا کے سامنے میری شرم رکھ اور ایک بار میری جوانی کا زور و جوش مجھے دوبارہ واپس دے دے۔

تری قدرت پلٹ سکتی ہے سارے کارخانے کو
پھر اک دن کے لیے تو بھیج دے پچھلے زمانے کو

(سہراب کا داخلہ)

سہراب: صبح ہو گئی۔ ممکن ہے، یہ آج کی صبح اس کی زندگی کی شام ثابت ہو۔ نہ جانے کیا سبب ہے کہ اس کی موت کا خیال آتے ہی میری روح کانپ اٹھتی ہے (رستم کو دیکھ کر) تو آ گیا؟ کیا جنگ کے نقارے کی پہلی چوٹ سے تیری نیند ٹوٹ گئی؟

رستم: بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا۔ میں آدھی رات سے صبح ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔

سوالات
  1. (i)رستم اپنے پروردگار سے کس بات کی دعا مانگتا ہے؟
  2. (ii)"اس ذلت کی شکل میں" رستم کس ذلت کی بات کر رہا ہے؟
  3. (iii)کس خیال پر سہراب کی روح کانپ اٹھتی ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟
  4. (iv)رستم نے یہ کیوں کہا کہ "بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا"؟
  5. (v)اقتباس سے ایک مرکبِ عطفی اور ایک ترکیبِ اضافی تلاش کریں، نیز "دردمندوں" اور "ناامیدوں" کے واحد اور "فانی" کا متضاد لکھیں۔
  6. (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
Solution
(i) رستم اپنے پروردگار سے کس بات کی دعا مانگتا ہے؟

رستم خدا سے عرض کرتا ہے کہ اس نے کبھی خدا کے قہر کو حقیر نہیں جانا اور نہ اپنی فانی طاقت پر غرور کیا۔ وہ ساری رات سجدوں اور آنسوؤں کے ساتھ دعا کرنے کے بعد التجا کرتا ہے کہ بڑھاپے میں دنیا کے سامنے اس کی عزت رکھ لی جائے اور ایک دن کے لیے اس کی جوانی کا زور و جوش اسے واپس مل جائے، تاکہ وہ آج کی لڑائی میں اپنے مقابل نوجوان سے شکست نہ کھائے۔

(ii) "اس ذلت کی شکل میں" رستم کس ذلت کی بات کر رہا ہے؟

یہ ڈرامے کا چھٹا منظر اور جنگ کا دوسرا دن ہے۔ پہلے دن کی لڑائی میں نوجوان سہراب، بوڑھے رستم پر غالب آ گیا تھا۔ ایران کے سب سے نامور پہلوان کے لیے ایک نوجوان سے مغلوب ہونا بڑی رسوائی تھی۔ رستم اسی شکست کو ذلت کہتا ہے اور خدا سے پوچھتا ہے کہ یہ کس گناہ کی سزا ہے، حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کا مقابل اس کا اپنا بیٹا ہے۔

(iii) کس خیال پر سہراب کی روح کانپ اٹھتی ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟

سہراب کو خیال آتا ہے کہ آج کی صبح شاید اس بوڑھے پہلوان کی زندگی کی آخری شام ثابت ہو۔ اس بوڑھے کی موت کے خیال سے ہی اس کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ وہ خود بھی اس کا سبب نہیں جانتا، مگر دراصل یہ خون کی کشش ہے: مقابل اس کا باپ رستم ہے اور قدرت انجانے میں اس کے دل کو باپ کے قتل سے روک رہی ہے۔ آگے وہ اسے "غیبی آواز" بھی کہتا ہے۔

(iv) رستم نے یہ کیوں کہا کہ "بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا"؟

سہراب نے طنز کیا کہ کیا جنگ کے نقارے کی پہلی چوٹ سے تیری نیند ٹوٹ گئی؟ یعنی تو کل ہار کر بھی آ گیا۔ رستم نے جواب دیا کہ بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا، کیوں کہ دونوں نے دوسرے دن پھر لڑنے کا عہد کیا تھا۔ رستم نے بتایا کہ وہ آدھی رات سے صبح کا انتظار کر رہا تھا۔ اس جواب سے رستم کی خود داری، بہادری اور قول کی پابندی ظاہر ہوتی ہے۔

(v) اقتباس سے ایک مرکبِ عطفی اور ایک ترکیبِ اضافی تلاش کریں، نیز "دردمندوں" اور "ناامیدوں" کے واحد اور "فانی" کا متضاد لکھیں۔
  • مرکبِ عطفی: قہر و غضب، زور و جوش (واؤ عطف سے)۔
  • ترکیبِ اضافی: سجدہ ہائے نیاز (اضافت سے)۔
  • واحد: دردمندوں سے دردمند، ناامیدوں سے ناامید۔
  • فانی کا متضاد: باقی / لافانی۔ اقتباس میں صبح اور شام بھی متضاد الفاظ ہیں۔
(vi) اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔

مرکزی خیال: مصیبت میں انسان کا سہارا صرف خدا ہے؛ بہادر وعدے کا پکا ہوتا ہے، اور خون کا رشتہ انجانے میں بھی اپنا اثر دکھاتا ہے۔

تلخیص: جنگ کے دوسرے دن رستم مایوسی میں خدا سے دعا کرتا ہے کہ اس نے کبھی غرور نہیں کیا، پھر یہ ذلت کیوں ملی۔ وہ بڑھاپے میں عزت رکھنے اور ایک دن کے لیے جوانی کا زور واپس دینے کی التجا کرتا ہے۔ سہراب آتا ہے تو اس بوڑھے کی موت کے خیال سے اس کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ رستم کہتا ہے کہ بہادر اپنا وعدہ نہیں بھولتا اور وہ آدھی رات سے صبح کا انتظار کر رہا تھا۔

18 marks
درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیں اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب دیں۔

سہراب: فتح مند بوڑھے! تو رستم نہیں ہے، پھر میری موت پر خوش ہونے کے بدلے اس طرح کیوں رنج کر رہا ہے؟

رستم: (رو کر) اس دنیا میں رنج اور آنسو، رونے اور چھاتی پیٹنے کے سوا میرے لیے اب اور کیا باقی رہ گیا ہے میں نے تیری زندگی تباہ کر کے اپنی زندگی کا ہر عیش اور اپنی دنیا کی ہر خوشی تباہ کر دی۔ مجھ سے نفرت کر! میرے منہ پر تھوک دے، مجھ پر ہزاروں زبانوں سے لعنت بھیج۔

فغاں ہوں، حسرت و ماتم ہوں، سر سے پاؤں تک غم ہوں
میں ہی بیٹے کا قاتل ہوں، میں ہی بد بخت رستم ہوں

سہراب: بابا! میرے بابا!

رستم: ہائے میرے پیارے! تو نے الفت سے، نرمی سے، منت سے، کتنی مرتبہ میرا نام پوچھا۔ اس محبت و عاجزی کے ساتھ پوچھنے پر لوہے کے ٹکڑے میں بھی زبان پیدا ہو جاتی ہے، پتھر بھی جواب دینے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے لیکن اس دو روزہ دنیا کی جھوٹی شہرت اور اس فانی دنیا کے فانی غرور نے میرے ہونٹوں کو ہلنے کی اجازت نہ دی۔ میرے بچے! میری تہمینہ کی نشانی!

کس جگہ بے رحم سینے میں نہاں رکھوں تجھے
آنکھ میں، دل میں، کلیجے میں کہاں رکھوں تجھے
سوالات
  1. (i)سہراب، رستم کے رنج پر کیوں حیران ہے؟
  2. (ii)رستم کو کیسے معلوم ہوا کہ سہراب اس کا بیٹا ہے؟
  3. (iii)رستم نے سہراب کو اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟ اقتباس کی روشنی میں لکھیں۔
  4. (iv)شعر "فغاں ہوں، حسرت و ماتم ہوں، سر سے پاؤں تک غم ہوں" کا مطلب بیان کریں۔
  5. (v)اقتباس سے دو مرکبِ عطفی اور ایک ترکیبِ توصیفی تلاش کریں، نیز "نفرت" اور "فتح" کے متضاد لکھیں۔
  6. (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
Solution
(i) سہراب، رستم کے رنج پر کیوں حیران ہے؟

سہراب اس بوڑھے کو رستم نہیں سمجھتا کیوں کہ پوچھنے پر اس نے اپنا نام چھپا لیا تھا۔ اب یہی بوڑھا سہراب کو خنجر مار کر فاتح بن چکا ہے۔ سہراب حیران ہے کہ فاتح کو تو اپنے دشمن کی موت پر خوش ہونا چاہیے، پھر یہ اجنبی اس کی موت پر رو کیوں رہا ہے۔ اسے ابھی معلوم نہیں کہ اسے مارنے والا ہی اس کا باپ ہے۔

(ii) رستم کو کیسے معلوم ہوا کہ سہراب اس کا بیٹا ہے؟

زخمی سہراب نے کہا کہ اس کا باپ رستم اس قتل کا انتقام لے گا۔ رستم نے چونک کر پوچھا کہ کیا تو رستم کا بیٹا ہے؟ پھر ماں کا نام پوچھا تو سہراب نے "تہمینہ" بتایا۔ ثبوت مانگنے پر سہراب نے بازو پر بندھی رستم کی نشانی بتائی۔ رستم نے کپڑا پھاڑ کر وہی مہرہ دیکھا جو اس نے خود تہمینہ کو دیا تھا، تب اسے یقین ہو گیا کہ اس نے اپنے ہی بیٹے کو مار ڈالا ہے۔

(iii) رستم نے سہراب کو اپنا نام کیوں نہیں بتایا؟ اقتباس کی روشنی میں لکھیں۔

سہراب نے الفت، نرمی اور منت سے کئی بار رستم کا نام پوچھا۔ رستم خود مانتا ہے کہ ایسی محبت و عاجزی سے پوچھنے پر لوہے کے ٹکڑے میں بھی زبان پیدا ہو جاتی ہے اور پتھر بھی بول پڑتا ہے۔ مگر دو روزہ دنیا کی جھوٹی شہرت اور فانی غرور نے اس کے ہونٹ سی دیے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ کہیں کہ رستم نے نام بتا کر ایک نوجوان سے جان بچائی۔ یہی غرور اس المیے کا سبب بنا۔

(iv) شعر "فغاں ہوں، حسرت و ماتم ہوں، سر سے پاؤں تک غم ہوں" کا مطلب بیان کریں۔

رستم کہتا ہے کہ اب میں سراپا فریاد، حسرت اور ماتم بن چکا ہوں؛ سر سے پاؤں تک میرا وجود غم ہی غم ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ میں ہی اپنے بیٹے کا قاتل ہوں اور میں ہی وہ بد قسمت رستم ہوں جس کا نام سہراب پوچھتا رہا۔ اس شعر میں پچھتاوا، اعترافِ جرم اور گہرا غم ایک ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔

(v) اقتباس سے دو مرکبِ عطفی اور ایک ترکیبِ توصیفی تلاش کریں، نیز "نفرت" اور "فتح" کے متضاد لکھیں۔
  • مرکبِ عطفی: حسرت و ماتم، محبت و عاجزی۔
  • ترکیبِ توصیفی: دو روزہ دنیا / فانی غرور / جھوٹی شہرت (صفت اور موصوف)۔
  • نفرت کا متضاد: محبت۔ فتح کا متضاد: شکست۔
  • محاورہ: منہ پر تھوکنا (سخت حقارت ظاہر کرنا)۔
(vi) اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔

مرکزی خیال: جھوٹی شہرت اور غرور انسان سے ایسی غلطی کرا دیتے ہیں جس کا پچھتاوا عمر بھر ختم نہیں ہوتا۔

تلخیص: زخمی سہراب حیران ہے کہ اگر فاتح بوڑھا رستم نہیں تو اس کی موت پر رو کیوں رہا ہے۔ رستم روتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ بیٹے کی زندگی تباہ کر کے اس نے اپنی ہر خوشی تباہ کر دی، اور وہی بد بخت رستم اور بیٹے کا قاتل ہے۔ سہراب "بابا" پکارتا ہے تو رستم کہتا ہے کہ تو نے محبت سے بار بار میرا نام پوچھا مگر جھوٹی شہرت اور غرور نے مجھے بولنے نہ دیا۔ وہ سہراب کو تہمینہ کی نشانی کہہ کر سینے سے لگاتا ہے۔

تشریح (سوال 3)

تشریح میں پہلے حوالۂ متن، پھر سیاق و سباق اور آخر میں کم از کم تین پیراگراف کی تشریح لکھیں۔ اقتباس میں شعر ہو تو اس کا مطلب بھی لکھیں۔

6 marks
درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام اور مصنف کا نام بھی لکھیں۔

رستم: اور... اور... بیٹا بولو!... بولو! چپ کیوں ہو گئے۔ آہ! آہ! اس کا خون سرد ہو رہا ہے۔ اس کی سانسیں ختم ہو رہی ہیں۔ اے خدا! اے کریم و رحیم خدا! اولاد باپ کی زندگانی کا سرمایہ اور ماں کی روح کی دولت ہے۔ یہ دولت محتاجوں سے نہ چھین۔ اپنی دنیا کا قانون بدل ڈال۔ اس کی موت مجھے اور میری باقی زندگی اسے بخش دے۔ دیکھ میری طرف دیکھ! میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کو تاج و تخت کی بھیک دی ہے۔ آج ایک فقیر کی طرح تجھ سے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگتا ہوں۔

ڈال دے جھولی میں تو میرے گلِ شاداب کو
ہاتھ پھیلائے ہوں میں، دے دے مرے سہراب کو
Solution
حوالۂ متن

سبق کا نام: رستم و سہراب (چھٹا منظر: میدانِ جنگ)۔ مصنف کا نام: آغا حشر کاشمیری۔

سیاق و سباق

یہ اقتباس ڈرامے کے آخری حصے سے لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے رستم نے نام چھپا کر سہراب کو خنجر مار دیا تھا، پھر ماں کے نام اور بازو کے مہرے سے پہچانا کہ وہ اس کا اپنا بیٹا ہے۔ سہراب نے باپ سے کہا کہ ماں سے کہنا انسان سب سے لڑ سکتا ہے، قسمت سے جنگ نہیں کر سکتا، اور رستم کی گود سے زمین پر گر کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس اقتباس کے بعد سہراب "دنیا... رخصت... خدا!" کہہ کر مر جاتا ہے اور رستم جوانی کے بجھے ہوئے چراغ کا ماتم کرتے ہوئے غش کھا کر گر پڑتا ہے۔

تشریح

اس اقتباس میں آغا حشر نے ایک ایسے باپ کی بے بسی دکھائی ہے جو دنیا کا سب سے طاقت ور پہلوان ہے مگر اپنے ہی ہاتھوں زخمی بیٹے کو مرتا دیکھ رہا ہے۔ سہراب آنکھیں بند کر لیتا ہے تو رستم گھبرا کر اسے پکارتا ہے: "بیٹا بولو! چپ کیوں ہو گئے"۔ ٹوٹے پھوٹے جملے اور "آہ! آہ!" جیسے الفاظ رستم کی بدحواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ بیٹے کا خون سرد ہو رہا ہے اور سانسیں ٹوٹ رہی ہیں، اور اس کے پاس اب دعا کے سوا کوئی سہارا نہیں۔

رستم خدا کو اس کی صفات "کریم و رحیم" سے پکارتا ہے اور کہتا ہے کہ اولاد باپ کی زندگی کا سرمایہ اور ماں کی روح کی دولت ہے۔ یعنی ماں باپ کی ساری محنت، امید اور خوشی اولاد سے وابستہ ہوتی ہے۔ وہ التجا کرتا ہے کہ یہ دولت محتاجوں سے نہ چھین۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا پہلوان خود کو "محتاج" کہتا ہے۔ وہ خدا سے دنیا کا قانون بدل دینے کی درخواست کرتا ہے کہ سہراب کی موت اسے دے دی جائے اور اس کی باقی زندگی سہراب کو مل جائے۔ یہ ایک باپ کی سچی محبت اور ایثار کا انتہائی درجہ ہے۔

آگے رستم اپنے ماضی کی شان یاد کرتا ہے کہ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کو تاج و تخت کی بھیک دی ہے، یعنی میری طاقت سے بادشاہ تخت پر بیٹھتے اور بچتے رہے۔ مگر آج میں ایک فقیر کی طرح تیرے سامنے ہاتھ پھیلا کر اپنے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہوں۔ "بھیک دینے" اور "بھیک مانگنے" کا یہ تضاد رستم کے عروج اور زوال کو ایک جملے میں سمیٹ دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ انسان کی طاقت اور شہرت تقدیر کے آگے کچھ نہیں۔ یہ وہی رستم ہے جس کی جھوٹی شہرت اور غرور نے اسے اپنا نام بتانے نہیں دیا تھا۔

آخر میں شعر کے ذریعے وہ خدا سے فریاد کرتا ہے کہ میرے شاداب پھول کو میری جھولی میں ڈال دے؛ میں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوں، میرا سہراب مجھے لوٹا دے۔ سہراب کو "گلِ شاداب" کہنا اس کی جوانی اور تازگی کی طرف اشارہ ہے۔ آغا حشر کے انداز کے مطابق جذبات کے عروج پر شعر آتا ہے جو منظر کے اثر کو اور گہرا کر دیتا ہے۔

مختصر یہ کہ اس اقتباس میں باپ کی محبت، پچھتاوا، عاجزی اور تقدیر کے سامنے انسان کی بے بسی بڑی مؤثر مکالمہ نگاری سے پیش کی گئی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ڈراما اپنے المیہ عروج کو پہنچتا ہے۔

Exam focus

  1. رستم کی دعا اور سہراب کا داخلہ (long)
    کتاب کی مشق کے تین سوال (دعا، روح کا کانپنا، بہادر کا وعدہ) اسی حصے سے ہیں۔
    Go to answer
  2. پہچان کے بعد رستم کا پچھتاوا (long)
    غرور اور جھوٹی شہرت والا مرکزی پیغام اسی اقتباس میں ہے۔
    Go to answer
  3. رستم کی بیٹے کی زندگی کے لیے دعا (تشریح) (long)
    ڈرامے کا المیہ عروج؛ تشریح کے لیے سب سے موزوں حصہ۔
    Go to answer
  4. ڈرامے کی خصوصیات اور آغا حشر کا انداز (short)
    مکالمہ، کش مکش، المیہ اور اشعار کا استعمال مختصر سوال میں پوچھا جا سکتا ہے۔
    Go to answer

Mark this unit as done to fill the Class 12 Urdu ring.

Next, unit 21
Hamd: Kabe ki raunaq

© 2026 FBISE Fold. Independent study notes, not affiliated with the Federal Board of Intermediate and Secondary Education.