Grammar: plurals, compounds, idioms and correct sentences
قواعد: واحد جمع، تراکیب، مصادر، محاورے اور جملوں کی درستی
اس حصے میں الفاظ سے متعلق قواعد ہیں: جمع کی قسمیں، تراکیبِ لفظی، مرکب مصدر، متشابہات، ذو معنی الفاظ، روزمرہ، محاورہ اور جملوں کی درستی۔ حصہ اول کے 20 میں سے تقریباً 7 MCQs انھی موضوعات سے آتے ہیں۔ ہر موضوع کے آخر میں امتحانی مشورہ اور عام غلطی دی گئی ہے، اور یونٹ کے آخر میں ماڈل پیپر اور 2026 کے پرچوں کے سارے متعلقہ MCQs حل کیے گئے ہیں۔
Learning outcomes (6)
- واحد جمع (جمع مکسر اور جمع سالم) بنا سکیں اور جمع الجمع کا تحریر میں برمحل استعمال کر سکیں۔
- تراکیبِ لفظی کی شناخت کر سکیں اور ان کی اہمیت سمجھتے ہوئے تحریر میں استعمال کر سکیں۔
- متشابہات کو ربط و تسلسل اور تاثر سے شناخت کرتے ہوئے برمحل استعمال کر سکیں۔
- ذو معنی الفاظ، جملوں اور فقروں کا تحریر و تقریر میں استعمال کر سکیں۔
- مرکب مصادر بنا سکیں اور استعمال کر سکیں۔
- جملے کی ساخت، بناوٹ، روزمرہ اور محاورے کے لحاظ سے غلط فقرات اور جملوں کی درستی کر سکیں۔
واحد اور جمع: جمع سالم، جمع مکسر اور جمع الجمعOften examined
جو لفظ ایک چیز کو ظاہر کرے وہ واحد ہے (کتاب، شعر) اور جو ایک سے زیادہ کو ظاہر کرے وہ جمع ہے (کتابیں، اشعار)۔ اردو میں بہت سے الفاظ عربی سے آئے ہیں اور ان کی جمع بھی عربی قاعدے سے بنتی ہے، اسی لیے پرچے میں جمع کی قسموں پر ہر سال سوال آتا ہے۔
جمع کی تین قسمیں (اور اسمِ جمع)
- جمع سالم
- وہ جمع جس میں واحد کی شکل سلامت رہے اور آخر میں کچھ حروف (ات، ین، یں، اں، ے وغیرہ) بڑھا دیے جائیں۔ مثالیں: خیال سے خیالات، حاضر سے حاضرین، کتاب سے کتابیں، لڑکا سے لڑکے۔
- جمع مکسر
- وہ جمع جس میں واحد کی شکل ٹوٹ جائے یعنی حروف کی ترتیب اور حرکات بدل جائیں ("مکسر" کا مطلب ہے ٹوٹا ہوا)۔ مثالیں: شعر سے اشعار، علم سے علوم، قاعدہ سے قواعد، کتاب سے کتب۔
- جمع الجمع
- جمع کی جمع، یعنی پہلے سے جمع لفظ (عموماً جمع مکسر) کی دوبارہ جمع بنانا۔ مثالیں: وجہ سے وجوہ اور وجوہ سے وجوہات، نادر سے نوادر اور نوادر سے نوادرات۔
- اسمِ جمع
- وہ لفظ جو شکل میں واحد ہو مگر ایک گروہ یا جماعت کو ظاہر کرے: فوج، قوم، جماعت، لشکر، قافلہ، ریوڑ، گروہ۔ یہ جمع کی قسم نہیں، واحد ہی شمار ہوتا ہے۔
| واحد | جمع | جمع کی قسم | جمع الجمع |
|---|---|---|---|
| وجہ | وجوہ | مکسر | وجوہات |
| اثر | آثار | مکسر | آثارات |
| نادر | نوادر | مکسر | نوادرات |
| جوہر | جواہر | مکسر | جواہرات |
| رسم | رسوم | مکسر | رسومات |
| عجیب | عجائب | مکسر | عجائبات |
| حکم | احکام | مکسر | احکامات |
| خبر | اخبار | مکسر | اخبارات |
| فتح | فتوح | مکسر | فتوحات |
| لازمہ | لوازم | مکسر | لوازمات |
| دوا | ادویہ | مکسر | ادویات |
| واحد | جمع مکسر | واحد | جمع مکسر |
|---|---|---|---|
| شعر | اشعار | علم | علوم |
| کتاب | کتب | عالم | علما |
| حال | احوال | شے | اشیا |
| قاعدہ | قواعد | مسجد | مساجد |
| دلیل | دلائل | فن | فنون |
| سبب | اسباب | شخص | اشخاص |
| قوم | اقوام | ملک | ممالک |
| شہر | شہور (مہینے) / شہروں (اردو) | وقت | اوقات |
| مضمون | مضامین | قانون | قوانین |
| حادثہ | حوادث | مسئلہ | مسائل |
| واحد | جمع سالم | واحد | جمع سالم |
|---|---|---|---|
| خیال | خیالات | حاضر | حاضرین |
| سوال | سوالات | ناظر | ناظرین |
| حیوان | حیوانات | مسلم | مسلمین |
| اثر | اثرات | مومن | مومنین |
| کلمہ | کلمات | معلم | معلمین |
| کتاب | کتابیں (اردو قاعدہ) | لڑکا | لڑکے (اردو قاعدہ) |
مرکب: مرکبِ تام اور مرکبِ ناقص
دو یا دو سے زیادہ الفاظ مل کر مرکب بناتے ہیں۔ یہ موضوع گیارھویں جماعت میں پڑھا جا چکا ہے مگر تراکیبِ لفظی سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
- مرکبِ تام
- وہ مرکب جس سے پوری بات سمجھ میں آ جائے اور سننے والا مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کرے، یعنی جملہ۔ مثال: "اسلم کتاب پڑھ رہا ہے۔"
- مرکبِ ناقص
- وہ مرکب جس سے پوری بات سمجھ میں نہ آئے، بات ادھوری رہے۔ مثال: "نیک لڑکا"، "علی کی کتاب"۔
مرکبِ ناقص کی اہم قسمیں
| قسم | پہچان | مثالیں |
|---|---|---|
| مرکبِ توصیفی | ایک لفظ صفت ہو اور دوسرا موصوف (جس کی صفت بیان ہو) | نیک لڑکا، سچی بات، مردِ مومن |
| مرکبِ اضافی | ایک چیز کا تعلق دوسری سے ظاہر ہو، بیچ میں کا، کی، کے یا زیرِ اضافت | علی کی کتاب، گھر کا دروازہ، اہلِ وطن |
| مرکبِ عطفی | دو الفاظ حرفِ عطف (اور، و) سے جڑے ہوں | دن اور رات، شب و روز، رنج و غم |
| مرکبِ تابع (تابع مہمل یا تابع موضوع) | ایک بامعنی لفظ کے ساتھ ملتا جلتا دوسرا لفظ جو اکیلا بے معنی ہو یا ہم معنی ہو | پانی وانی، دبلا پتلا، الٹا سیدھا |
تراکیبِ لفظیOften examined
ترکیبِ لفظی دو یا زیادہ الفاظ کو (زیادہ تر فارسی اور عربی کے قاعدے سے) جوڑ کر ایک مختصر اور خوب صورت اکائی بنانے کو کہتے ہیں۔ پوری بات کو دو تین لفظوں میں سمیٹ دیا جاتا ہے، جیسے "دیوار کا سایہ" کے بجائے "سایۂ دیوار"۔
تراکیب کی قسمیں اور پہچان
| ترکیب | کیسے بنتی ہے | مثالیں |
|---|---|---|
| ترکیبِ اضافی | دو اسموں کے بیچ زیرِ اضافت (ِ) یا ہمزۂ اضافت (ۂ، ئے) جو "کا، کی، کے" کا کام دیتا ہے | اہلِ وطن (وطن کے لوگ)، اہلِ جنوں، دردِ دل، شبِ غم، سایۂ دیوار، قہرِ دارا، نغمۂ بلبل |
| ترکیبِ توصیفی | موصوف کے بعد زیرِ اضافت لگا کر صفت لائی جاتی ہے | مردِ مومن، آبِ رواں، جوانِ رعنا، دلِ زندہ |
| ترکیبِ عطفی | دو الفاظ کے بیچ واؤ عطف (و) | شب و روز، عروج و زوال، صبح و شام، دل و جان، رنج و غم |
تراکیب کی اہمیت
- بات مختصر ہو جاتی ہے: "وطن کے رہنے والے" کی جگہ "اہلِ وطن"۔
- تحریر میں وقار اور حسن پیدا ہوتا ہے، اسی لیے شاعری اور ادبی نثر میں ان کا استعمال زیادہ ہے۔
- شعر کے وزن میں پوری بات سما جاتی ہے، جیسے اقبال کا "مقاماتِ آہ و فغاں" (ترکیبِ اضافی اور عطفی ایک ساتھ)۔
مصدر، مرکب مصدر، اصل فعل اور امدادی فعلOften examined
- مصدر
- وہ لفظ جس سے فعل بنتے ہیں اور جس کے آخر میں علامتِ مصدر "نا" ہو۔ مثالیں: لکھنا، پڑھنا، آنا، جانا۔
- مرکب مصدر
- وہ مصدر جو دو یا دو سے زیادہ الفاظ سے مل کر بنے: یا تو دو مصادر مل کر (لکھ لینا، گر پڑنا، اٹھ بیٹھنا)، یا ایک اسم یا صفت اور ایک مصدر مل کر (یاد کرنا، کام کرنا، انتظار کرنا، صاف کرنا)۔
- اصل فعل
- مرکب مصدر یا مرکب فعل میں پہلا فعل، جو اصل کام بتاتا ہے۔ "وہ گر پڑا" میں "گر" اصل فعل ہے۔
- امدادی فعل (معاون فعل)
- مرکب مصدر یا مرکب فعل میں دوسرا فعل، جو اصل فعل کی مدد کرتا اور معنی میں زور، تکمیل یا اچانک پن پیدا کرتا ہے۔ "وہ گر پڑا" میں "پڑا" امدادی فعل ہے۔
| مرکب مصدر | اصل فعل یا لفظ | امدادی فعل |
|---|---|---|
| لکھ لینا | لکھ | لینا |
| گر پڑنا | گر | پڑنا |
| اٹھ بیٹھنا | اٹھ | بیٹھنا |
| کھا جانا | کھا | جانا |
| رو دینا | رو | دینا |
| یاد کرنا | یاد (اسم) | کرنا |
متشابہاتOften examined
متشابہات وہ الفاظ ہیں جو سننے یا دیکھنے میں ایک جیسے لگیں مگر ان کا املا اور معنی الگ ہوں۔ لکھتے وقت ذرا سی غلطی سے معنی بدل جاتے ہیں، اس لیے ان کا درست استعمال ضروری ہے۔ مثال: "سدا" (ہمیشہ) اور "صدا" (آواز)۔
| لفظ | معنی | ملتا جلتا لفظ | معنی |
|---|---|---|---|
| سدا | ہمیشہ | صدا | آواز |
| اَلم | رنج، دکھ | عَلم / عِلم | جھنڈا / جاننا |
| ارض | زمین | عرض | چوڑائی؛ گزارش |
| بے باک | نڈر، بے خوف | بے باق | ادا شدہ، چکتا (قرض) |
| خوار | ذلیل، رسوا | خار | کانٹا |
| صورت | شکل | سورت | قرآن مجید کی سورت |
| نذر | منت، پیش کش | نظر | نگاہ |
| معمور | بھرا ہوا، آباد | مامور | مقرر کیا ہوا |
| عام | عمومی | آم | ایک پھل |
| حال | کیفیت | ہال | بڑا کمرہ |
| غذا | خوراک | غزا | جنگ، جہاد |
| ثنا | تعریف | سنا | سننا سے ماضی |
| سفر | مسافرت | صفر | خالی، عدد صفر؛ اسلامی مہینہ |
| اثر | تاثیر | عصر | زمانہ؛ نمازِ عصر |
| حلال | جائز | ہلال | پہلی راتوں کا چاند |
| ثواب | نیکی کا اجر | صواب | درست، ٹھیک |
| صحیح | درست | سہی | برداشت کی (سہنا سے) |
| ظن | گمان | زن | عورت |
| قریب | نزدیک | غریب | مفلس |
ذو معنی الفاظOften examined
ذو معنی (دو معنی والا) وہ لفظ ہے جس کا املا ایک ہی ہو مگر اس کے دو یا زیادہ معنی ہوں۔ جملے میں سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے کہ کون سا معنی مراد ہے۔ متشابہات میں املا الگ ہوتا ہے، ذو معنی میں املا ایک۔
| لفظ | پہلا معنی | دوسرا معنی |
|---|---|---|
| ہار | گلے کا زیور | شکست |
| مغرب | مغربی سمت، یورپ و امریکا | سورج ڈوبنے کا وقت، نمازِ مغرب |
| لگن | شوق، دھن | تسلا، بڑا برتن |
| کل | گزرا ہوا یا آنے والا دن | مشین، پرزہ؛ (کُل) سارا |
| سونا | نیند کرنا | ایک قیمتی دھات |
| آب | پانی | چمک، رونق |
| دام | قیمت | جال، پھندا |
| پر | پرندے کا بازو | اوپر؛ لیکن |
| قلم | لکھنے کا آلہ | پودے کی قلم (شاخ) |
| چال | رفتار، چلنے کا انداز | فریب، داؤ |
| تار | دھاگا، تار | ٹیلی گرام |
| من | دل | وزن کا ایک پیمانہ |
| عین | آنکھ؛ چشمہ | بالکل، ٹھیک ٹھیک |
روزمرہ، محاورہ اور ضرب المثل (کہاوت)Often examined
- روزمرہ
- اہلِ زبان کی بول چال کا وہ انداز جس میں الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں آتے ہیں اور جس کی پابندی ضروری ہے۔ روزمرہ اہلِ زبان کے اسلوب کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ مثالیں: آگے پیچھے، دو چار دن، بات چیت، کھانا پینا، دن بدن۔
- محاورہ
- دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا وہ مجموعہ جو اپنے لغوی (حقیقی) معنی کے بجائے مجازی معنی دے۔ محاورے کے آخر میں عموماً مصدر (نا) ہوتا ہے اور اس کے الفاظ بدلے نہیں جا سکتے۔ مثالیں: آسمان سے باتیں کرنا (بہت بلند ہونا)، عید کا چاند ہونا (بہت دنوں بعد ملنا)، آب آب ہونا (شرمندہ ہونا)۔
- ضرب المثل (کہاوت)
- ایک مکمل جملہ یا مصرع جس میں کوئی تجربہ، نصیحت یا سچائی بیان ہو اور جو عموماً کسی واقعے یا کہانی سے مشہور ہوا ہو۔ مثالیں: جیسی کرنی ویسی بھرنی؛ نیکی کر دریا میں ڈال؛ اونٹ کے منہ میں زیرہ۔
| روزمرہ | محاورہ | ضرب المثل | |
|---|---|---|---|
| معنی | حقیقی | مجازی | حقیقی یا مجازی، پوری بات |
| شکل | لفظوں کی جوڑی یا بول چال کا انداز | ٹکڑا جس کے آخر میں عموماً مصدر | مکمل جملہ |
| مثال | آگے پیچھے | ناک میں دم کرنا | جیسی کرنی ویسی بھرنی |
| محاورہ | معنی |
|---|---|
| آسمان سے باتیں کرنا | بہت اونچا ہونا |
| عید کا چاند ہونا | بہت دنوں بعد نظر آنا |
| آب آب ہونا | شرم سے پانی پانی ہونا |
| آنکھ کا تارا ہونا | بہت پیارا ہونا |
| دانت کھٹے کرنا | شکست دینا |
| ناک میں دم کرنا | بہت تنگ کرنا |
| ہاتھ پاؤں پھول جانا | گھبرا جانا |
| آستین کا سانپ ہونا | دوست بن کر نقصان پہنچانا |
| جان پر کھیلنا | خطرہ مول لینا |
| کان کھڑے ہونا | چوکنا ہو جانا |
جملوں کی درستی
درست جملہ وہ ہے جس کی ساخت (لفظوں کی ترتیب)، املا، روزمرہ، محاورہ، تذکیر و تانیث اور واحد جمع سب اہلِ زبان کے مطابق ہوں۔ MCQ میں غلط جملہ دے کر پوچھا جاتا ہے کہ غلطی کس قسم کی ہے۔
| غلط جملہ | درست جملہ | غلطی |
|---|---|---|
| مجھ سے غم دیکھا نہیں جاتا اس کا۔ | مجھ سے اس کا غم دیکھا نہیں جاتا۔ | ساخت (لفظوں کی ترتیب) |
| اس نے دانت کھٹے کر دیے دشمن کے۔ | اس نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ | ساخت |
| وہ بہت ذلیل و خار ہوا۔ | وہ بہت ذلیل و خوار ہوا۔ | املا |
| عمارت فلک سے باتیں کر رہی ہے۔ | عمارت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ | محاورہ (محاورے کا لفظ بدلا نہیں جاتا) |
| اس نے پیچھے آگے دیکھا۔ | اس نے آگے پیچھے دیکھا۔ | روزمرہ |
| اس کے آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ | اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ | تذکیر و تانیث (آنکھ مؤنث ہے) |
| اس نے میرے ناک میں دم کر دیا۔ | اس نے میری ناک میں دم کر دیا۔ | تذکیر و تانیث (ناک مؤنث ہے) |
| لڑکیاں کھیل رہی ہے۔ | لڑکیاں کھیل رہی ہیں۔ | واحد جمع (فعل کی مطابقت) |
| میں نے کل جاؤں گا۔ | میں کل جاؤں گا۔ | حرف "نے" کا غلط استعمال |
| میں نے کالج جانا ہے۔ | مجھے کالج جانا ہے۔ | روزمرہ |
الفاظ کی اصل: عربی، فارسی، ترکی اور ہندی
اردو کئی زبانوں کے ملاپ سے بنی ہے۔ ماڈل پیپر میں "شعر کس زبان کا لفظ ہے؟" جیسا سوال آیا، اس لیے یہ پہچان کام آتی ہے۔
| زبان | پہچان | مثالیں |
|---|---|---|
| عربی | ث، ح، ص، ض، ط، ظ، ع، ق جیسے حروف؛ تفعیل، مفعول، فاعل کے وزن | شعر، علم، کتاب، قلم، تعلیم، مدرسہ، صبر |
| فارسی | خانہ، گاہ، ستان، دان جیسے لاحقے؛ زیرِ اضافت والی تراکیب | آب، گل، دل، شب، روز، باغ، درخت |
| ترکی | لشکر اور دربار سے آنے والے لفظ | اردو (لشکر)، بیگم، قینچی، توپ، چاقو، قلی، بہادر |
| ہندی اور مقامی | روزمرہ زندگی کے لفظ | پانی، گھر، آنکھ، ہاتھ، بات، سورج |
گیارھویں جماعت کے قواعد: مختصر دہرائی
بارھویں کے پرچے میں سوال بارھویں کے حاصلاتِ تعلم سے آتے ہیں، مگر گیارھویں کے یہ موضوعات اکثر غلط اختیارات میں نظر آتے ہیں۔ ان کی پہچان ہو تو غلط جواب جلدی کٹ جاتے ہیں۔
- متضاد الفاظ
- ایک دوسرے کے الٹ معنی والے الفاظ: دن، رات؛ فنا، بقا؛ عروج، زوال؛ صبح، شام؛ ارض، سما۔
- مترادف الفاظ
- ایک جیسے معنی والے مختلف الفاظ: آسمان، فلک، سما؛ پانی، آب؛ رات، شب۔
- تذکیر و تانیث
- اسم کا مذکر یا مؤنث ہونا: لڑکا، لڑکی؛ شیر، شیرنی؛ آنکھ، ناک اور کتاب مؤنث ہیں جبکہ دل، دن اور قلم مذکر۔
- سابقے اور لاحقے
- لفظ کے شروع میں لگنے والا حصہ سابقہ (بے نام، ان گنت، ناکام، لاجواب) اور آخر میں لگنے والا لاحقہ (گلستان، عیدگاہ، قلم دان، کاری گر)۔
Key terms
- جمع سالم
- واحد کی شکل سلامت رہے، آخر میں حروف بڑھیں: خیال سے خیالات۔
- جمع مکسر
- واحد کی شکل ٹوٹ جائے: شعر سے اشعار، علم سے علوم۔
- جمع الجمع
- جمع کی جمع: وجوہ سے وجوہات، آثار سے آثارات، نوادر سے نوادرات۔
- اسمِ جمع
- شکل میں واحد مگر معنی میں گروہ: فوج، قوم، قافلہ۔
- ترکیبِ لفظی
- الفاظ کو فارسی یا عربی قاعدے سے جوڑ کر مختصر اکائی بنانا: اہلِ وطن، شب و روز۔
- مرکب مصدر
- دو مصادر یا اسم اور مصدر کا مجموعہ: گر پڑنا، یاد کرنا۔
- اصل فعل
- مرکب فعل کا پہلا حصہ جو اصل کام بتائے: گر پڑا میں "گر"۔
- امدادی فعل
- مرکب فعل کا دوسرا حصہ جو مدد کرے: گر پڑا میں "پڑا"۔
- متشابہات
- ہم آواز الفاظ جن کا املا اور معنی الگ: سدا، صدا؛ ارض، عرض۔
- ذو معنی لفظ
- ایک املا اور دو معنی: ہار، مغرب، لگن۔
- روزمرہ
- اہلِ زبان کی بول چال، حقیقی معنوں میں، جو ان کے اسلوب کے ساتھ بدلتی رہے۔
- محاورہ
- مجازی معنی دینے والا ٹکڑا جس کے آخر میں عموماً مصدر: آسمان سے باتیں کرنا۔
- ضرب المثل
- نصیحت یا تجربے والا مکمل جملہ: جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
مختصر سوالات: نمونے کے جوابات
حصہ قواعد میں تعریف اور مثال والے سوال کی تیاری کے لیے۔ ہر جواب میں تعریف، کم از کم دو مثالیں اور ایک فرق یا پہچان لکھیں۔
جمع سالم: وہ جمع جس میں واحد کی شکل سلامت رہے اور آخر میں حروف بڑھا دیے جائیں، جیسے خیال سے خیالات، حاضر سے حاضرین۔
جمع مکسر: وہ جمع جس میں واحد کی شکل ٹوٹ جائے، جیسے شعر سے اشعار، علم سے علوم۔
جمع الجمع: جمع کی پھر سے جمع، جیسے وجہ سے وجوہ اور وجوہ سے وجوہات؛ اثر سے آثار اور آثار سے آثارات۔
محاورہ دو یا زیادہ الفاظ کا وہ مجموعہ ہے جو لغوی معنی کے بجائے مجازی معنی دے اور جس کے آخر میں عموماً مصدر ہو، جیسے "آسمان سے باتیں کرنا" (بہت بلند ہونا)۔
ضرب المثل ایک مکمل جملہ ہے جس میں کوئی تجربہ یا نصیحت ہو اور جو کسی واقعے سے مشہور ہوا ہو، جیسے "جیسی کرنی ویسی بھرنی"۔
فرق: محاورہ جملے کا حصہ بن کر آتا ہے اور فعل کی طرح بدلتا ہے (باتیں کر رہی ہے)، جبکہ ضرب المثل پوری کی پوری جوں کی توں بولی جاتی ہے۔
دو یا زیادہ الفاظ کو فارسی یا عربی قاعدے سے جوڑ کر ایک مختصر اور خوب صورت اکائی بنانا ترکیبِ لفظی کہلاتا ہے۔
ترکیبِ اضافی: زیرِ اضافت یا ہمزۂ اضافت سے، جیسے اہلِ وطن، سایۂ دیوار۔ ترکیبِ عطفی: واؤ عطف سے، جیسے شب و روز، عروج و زوال۔ ترکیبِ توصیفی: موصوف اور صفت، جیسے مردِ مومن۔
تراکیب سے بات مختصر اور پر اثر ہو جاتی ہے، اس لیے شاعری میں ان کا استعمال عام ہے۔
مرکب مصدر: دو یا زیادہ مصادر، یا ایک اسم اور ایک مصدر مل کر بننے والا مصدر، جیسے گر پڑنا، لکھ لینا، یاد کرنا۔
"وہ گر پڑا" میں "گر" اصل فعل ہے جو اصل کام بتاتا ہے اور "پڑا" امدادی فعل ہے جو اس کی مدد کر کے اچانک پن کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔
متشابہات دو الگ الفاظ ہیں جو سننے میں ایک جیسے ہوں مگر املا اور معنی الگ ہوں: سدا (ہمیشہ)، صدا (آواز)؛ ارض (زمین)، عرض (گزارش)۔
ذو معنی ایک ہی لفظ ہے جس کا املا ایک مگر معنی دو ہوں: ہار (زیور اور شکست)، سونا (نیند اور دھات)۔
کتاب کی مشقوں کے قواعد والے MCQs
درسی کتاب کی مشقوں سے صرف وہ MCQs جو سبق کے متن کے بغیر حل ہو سکتے ہیں، حل اور وجہ کے ساتھ۔
- Aمحاورہ
- Bاستعارہ
- Cضرب المثل
- DروزمرہAnswer
روزمرہ میں الفاظ اپنے حقیقی معنوں میں بولے جاتے ہیں، محاورہ مجازی معنوں میں۔
Note. کتاب: سبق 4: رستم و سہراب، صفحہ 44
FBISE 2026 and model paper questions
Questions from the FBISE HSSC-II 2026 (1st Annual) and FBISE HSSC-II model paper (Assessment Framework 2022-23) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
- AمحاورہAnswer
- Bضرب المثل
- Cکہاوت
- Dامدادی فعل
یہ ٹکڑا مصدر "کرنا" پر ختم ہوتا ہے اور اپنے لغوی معنی کے بجائے مجازی معنی (بہت بلند ہونا) دیتا ہے، اس لیے محاورہ ہے۔
- Aمثنیہ
- Bجمع الجمعAnswer
- Cجمع مکسر
- Dجمع سالم
جمع کی دوبارہ جمع بنائی جائے (وجوہ سے وجوہات) تو وہ جمع الجمع کہلاتی ہے۔
- Aغیر حقیقی فعل
- Bاصل فعل
- Cپہلا فعل
- Dدوسرا فعلAnswer
مرکب مصدر میں پہلا فعل اصل فعل اور دوسرا امدادی فعل ہوتا ہے (گر پڑا: پڑا امدادی)۔
- Aسایۂ دیوارAnswer
- Bان گنت
- Cبے نام
- Dخاطر خواہ
"سایۂ دیوار" (دیوار کا سایہ) میں ہمزۂ اضافت ہے، یہ ترکیبِ اضافی ہے۔ "ان گنت" اور "بے نام" سابقوں سے بنے ہیں اور "خاطر خواہ" ایک صفت ہے۔
- Aوجہات
- Bوجوہ
- CوجوہاتAnswer
- Dتوجیہات
وجہ کی جمع مکسر "وجوہ" ہے اور اس کی پھر جمع "وجوہات"، اس لیے وجوہات جمع الجمع ہے۔ "وجوہ" صرف جمع ہے۔
- Aمحاورہ
- Bضرب المثل
- Cمصدر
- Dمرکب مصدرAnswer
دو مصادر مل کر (گر پڑنا، لکھ لینا) مرکب مصدر بناتے ہیں۔
- Aاندھادھند
- Bتقلید
- CمغربAnswer
- Dمناسب
"مغرب" کے دو معنی ہیں: مغربی دنیا اور سورج ڈوبنے کا وقت (نمازِ مغرب)۔
- Aدن، رات
- Bروز، شب
- Cسدا، صداAnswer
- Dفنا، بقا
سدا (ہمیشہ) اور صدا (آواز) کی آواز ایک ہے، املا اور معنی الگ۔ باقی تینوں جوڑے متضاد ہیں۔
- Aامدادی فعل
- BمحاورہAnswer
- Cضرب المثل
- Dکہاوت
مجازی معنی (بہت دنوں بعد نظر آنا) اور آخر میں مصدر "ہونا": یہ محاورہ ہے۔
- Aجمع اضافی
- Bجمع سالم
- Cجمع مکسرAnswer
- Dجمع الجمع
"مکسر" یعنی ٹوٹا ہوا: جب واحد کی شکل ٹوٹ جائے (علم سے علوم) تو جمع مکسر ہے۔
- Aاصل فعلAnswer
- Bمحاورہ
- Cمعاون فعل
- Dامدادی فعل
پہلا فعل اصل کام بتاتا ہے، اس لیے اصل فعل ہے۔ معاون فعل اور امدادی فعل ایک ہی چیز (دوسرا فعل) کے دو نام ہیں۔
- Aخاطر خواہ
- Bاہلِ جنوںAnswer
- Cبے نام
- Dان گنت
"اہلِ جنوں" میں زیرِ اضافت ہے (جنوں والے)، یہ ترکیبِ اضافی ہے۔
- AآثاراتAnswer
- Bاثروں
- Cآثار
- Dاثرات
اثر کی جمع مکسر "آثار" ہے اور آثار کی جمع "آثارات"، یعنی جمع الجمع۔ "اثرات" اثر کے ساتھ "ات" لگا کر بنی جمع سالم ہے اور "آثار" صرف جمع مکسر۔
Note. کچھ کتابیں "اثرات" کو بھی جمع الجمع لکھ دیتی ہیں، مگر قاعدے کی رو سے اثر سے آثار اور آثار سے آثارات ہی جمع الجمع ہے۔
- Aانسان
- Bسچی
- Cکامیابی
- DلگنAnswer
"لگن" کے دو معنی ہیں: شوق اور دھن، اور تسلا (بڑا برتن)۔
- Aفنا، بقا
- Bگل، گلزار
- Cصبح، شام
- Dالم، علمAnswer
الم (دکھ) اور علم (جھنڈا یا جاننا) ہم آواز ہیں مگر املا اور معنی مختلف۔
- AمحاورہAnswer
- Bضرب المثل
- Cکہاوت
- Dامدادی فعل
"آب آب ہونا" یعنی شرم سے پانی پانی ہو جانا؛ مجازی معنی اور مصدر پر اختتام، اس لیے محاورہ۔
- Aجمع مکسر
- Bجمع سالمAnswer
- Cجمع الجمع
- Dجمع اضافی
واحد کی شکل سلامت رہے اور صرف آخر میں حروف بڑھیں (خیال سے خیالات) تو جمع سالم ہے۔
- Aضرب المثل
- Bمحاورہ
- Cاصل فعل
- Dامدادی فعلAnswer
دوسرا فعل پہلے کی مدد کرتا ہے، اس لیے امدادی فعل ہے۔
- Aاہلِ وطنAnswer
- Bبے نام
- Cان گنت
- Dخاطر خواہ
"اہلِ وطن" (وطن کے لوگ) زیرِ اضافت سے بنی ترکیبِ اضافی ہے۔
- Aنادروں
- Bنوادر
- CنوادراتAnswer
- Dنادرات
نادر سے نوادر (جمع مکسر) اور نوادر سے نوادرات (جمع الجمع)۔
- Aوہ سویا۔
- Bوہ بھاگا۔
- Cوہ رکا نہیں۔
- Dوہ گر پڑا۔Answer
"گر پڑا" دو فعلوں (گر + پڑا) سے بنا ہے؛ باقی جملوں میں ایک ہی فعل ہے۔
- Aقیمتی
- Bگم
- CہارAnswer
- Dگیا
"ہار" کے دو معنی: گلے کا زیور اور شکست۔
- Aارض، سما
- Bفنا، بقا
- Cارض، عرضAnswer
- Dگل، گلزار
ارض (زمین) اور عرض (چوڑائی یا گزارش) سننے میں ایک جیسے ہیں: متشابہ جوڑا۔
- Aمہربانو
- Bدبلا پتلا
- Cعروج و زوال
- Dقہرِ داراAnswer
"قہرِ دارا" (دارا کا قہر) زیرِ اضافت والی ترکیبِ اضافی ہے۔ "دبلا پتلا" مرکبِ تابع ہے اور "مہربانو" ایک اسم۔
Note. "عروج و زوال" بھی ترکیبِ عطفی ہے؛ بورڈ کی کلید شائع نہیں ہوئی۔ 2026 کے پرچوں میں ہر بار زیرِ اضافت والی ترکیب درست جواب تھی، اس لیے "قہرِ دارا" محفوظ انتخاب ہے۔
- Aفنا، بقا
- Bبے باک، بے باقAnswer
- Cنمودِ صبح
- Dنظریۂ پاکستان
بے باک (نڈر) اور بے باق (چکتا، ادا شدہ) سننے میں ایک جیسے ہیں مگر املا اور معنی الگ: یہ متشابہات ہیں۔ فنا، بقا متضاد ہیں۔
- Aمحاورہ
- Bمصدر
- CروزمرہAnswer
- Dحرف
روزمرہ اہلِ زبان کی بول چال کا انداز ہے اور زمانے کے ساتھ ان کے اسلوب کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ محاورے کے الفاظ بدلے نہیں جا سکتے۔
- Aفارسی
- Bاردو
- Cترکی
- DعربیAnswer
"شعر" عربی لفظ ہے؛ اسی لیے اس کی جمع عربی قاعدے سے "اشعار" (جمع مکسر) بنتی ہے۔
- Aامدادی فعل
- Bمرکب مصدرAnswer
- Cحروف
- Dاصل فعل
اسم اور مصدر مل کر مرکب مصدر بناتے ہیں، جیسے یاد کرنا، کام کرنا۔
- Aذو معنیAnswer
- Bتذکیر و تانیث
- Cجمع مکسر
- Dمتشابہ
ذو معنی کا مطلب ہی دو معنی والا ہے۔ متشابہ میں دو الگ الفاظ ہوتے ہیں جن کا املا الگ ہو۔
- Aساخت کیAnswer
- Bاملا کی
- Cمحاورہ کی
- Dضرب المثل کی
سارے الفاظ درست ہیں، صرف ترتیب غلط ہے: "مجھ سے اس کا غم دیکھا نہیں جاتا۔" لفظوں کی ترتیب کی غلطی ساخت کی غلطی ہے۔
- Aجمع سالم
- Bجمع مکسرAnswer
- Cجمع الجمع
- Dاسمِ جمع
دونوں میں واحد کی شکل ٹوٹ گئی ہے (حروف کی ترتیب اور حرکات بدل گئیں)، اس لیے جمع مکسر۔
Exam focus
- جمع الجمع کی پہچان: وجوہات، آثارات، نوادرات، جواہرات (mcq)تین میں سے دو 2026 پرچوں میں آیا؛ "اثرات" اور "وجوہ" غلط اختیار بن کر آتے ہیں۔Go to answer
- ترکیبِ لفظی کی نشان دہی (mcq)ماڈل پیپر اور 2026 کے تینوں پرچوں میں آیا۔Go to answer
- مرکب مصدر، اصل فعل اور امدادی فعل (mcq)ہر پرچے میں ایک یا دو MCQ اسی سے۔Go to answer
- متشابہ جوڑا اور ذو معنی لفظ (mcq)ہر پرچے میں دونوں پر ایک ایک MCQ۔Go to answer
- محاورہ، روزمرہ، ضرب المثل کی پہچان (mcq)ہر سیٹ کا پہلا یا دوسرا سوال یہی تھا۔Go to answer