Hamd: Kabe ki raunaq

حمد: کعبے کی رونق کعبے کا منظر

Class 12 Urdu, Nazm 1

سید صبیح الدین رحمانی کی حمد جس میں خانہ کعبہ کی زیارت کے مناظر اور کیفیات بیان ہوئی ہیں۔ یہاں پوری حمد کا متن، شاعر کا تعارف، مرکزی خیال، مشکل الفاظ، ہر شعر کی امتحانی طرز پر تشریح (مفہوم، تشریح، شعری محاسن)، ماڈل پیپر کا حل شدہ سوال اور امتحانی طرز کے نئے سوالات دیے گئے ہیں۔

Learning outcomes (3)
  • نظم کو فہم کے ساتھ پڑھ کر شاعر کی تکنیک، مقصد اور اسلوب پر مبنی سوالات کے جواب دے سکیں۔
  • کسی بھی نظم کو پڑھ کر سوالوں کے ساتھ اس کے اشعار کی تشریح کرتے ہوئے تنقید و تبصرہ کر سکیں۔
  • نظم کو بلحاظِ موضوع (حمد، نعت، ملی نظم، قصیدہ، ہجو، دعا/مناجات، منقبت، مرثیہ، مثنوی) شناخت کر سکیں۔

شاعر اور نظم کا تعارف

سید صبیح الدین رحمانی (پیدائش 1965ء)

سید صبیح الدین رحمانی 27 جون 1965ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ معروف نعت خواں، نعت گو شاعر اور نعتیہ ادب کے محقق و نقاد ہیں۔ نعتیہ ادب کے جریدے "نعت رنگ" کے مدیر اور نعت ریسرچ سینٹر کے بانی و سیکرٹری ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے نعت کے شعبے میں خدمات پر انھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ "کلیاتِ صبیح رحمانی" کے نام سے ان کا نعتیہ کلام شائع ہو چکا ہے اور ان کے دو نعتیہ مجموعوں کا انگریزی ترجمہ (Jada e Rehmat اور Reverence Unto His Feet) بھی ہو چکا ہے۔

ان کے کلام کی نمایاں خوبیاں: سادگی اور روانی، عقیدت اور ادب کا لہجہ، ترنم (اسی لیے ان کا کلام ترنم سے پڑھا جاتا ہے) اور منظر نگاری، جیسے اس حمد میں حرم کے مناظر۔

نظم کے بارے میں

صنف (موضوع کے لحاظ سے)حمد: اللہ تعالیٰ کی تعریف اور کعبۃ اللہ کی زیارت کا بیان
ہیئتغزل کی ہیئت؛ پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف (مطلع) اور آخری شعر میں تخلص "صبیحؔ" (مقطع)
قافیہمنظر، برابر، مقدر، سر پر، پکڑ کر، سمندر، کرم کر
ردیفاللہ اکبر اللہ اکبر
خاص خوبیہر شعر کے پہلے مصرعے میں اندرونی قافیے (زبانیں، اذانیں؛ دعائیں، التجائیں) جو ترنم بڑھاتے ہیں
ماخذکلیاتِ صبیح رحمانی

حمد کا متنOften examined

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبردیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیںبس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
تیرے حرم کی کیا بات مولیٰ، تیرے کرم کی کیا بات مولیٰتا عمر لکھ دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گیمیزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں، اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کوکہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیںرویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے، چوما ہے تجھ کو میرے مصطفیٰ ﷺ نےاے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھا صفا اور مروہ بھی دیکھا، رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھادیکھا وہاں اک سروں کا سمندر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مولیٰ صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہےبخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
(کلیاتِ صبیح رحمانی)

مرکزی خیالOften examined

اس حمد میں شاعر حج یا عمرے کے دوران خانہ کعبہ کی زیارت کا اپنا تجربہ بیان کرتا ہے۔ کعبے کا منظر اتنا پُر رونق ہے کہ نظر ہٹتی نہیں، ہر طرف اللہ کی حمد اور اذان کی صدا ہے۔ میزابِ رحمت کے نیچے کھڑے شاعر کو یقین ہے کہ اس کی ہر دعا قبول ہو گی۔ اپنی خطائیں یاد آتی ہیں تو وہ غلافِ کعبہ پکڑ کر روتا ہے، حجرِ اسود کی خوش قسمتی پر رشک کرتا ہے، صفا و مروہ اور لاکھوں انسانوں کا سمندر دیکھتا ہے، اور آخر میں اللہ سے صرف مغفرت اور بخشش مانگتا ہے۔ ہر شعر "اللہ اکبر" پر ختم ہو کر اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے۔

مشکل الفاظ و تراکیب

لفظمعنی
رونقچہل پہل، شان و شوکت، چمک دمک
منظرنظارہ، دیکھنے کی جگہ
برابرمسلسل، لگاتار
رس گھولنامٹھاس اور لذت پیدا کرنا
صداآواز
حرمخانہ کعبہ اور اس کے ارد گرد کا محترم علاقہ
کرممہربانی، عنایت
تا عمرساری زندگی
مقدرقسمت
میزابِ رحمتخانہ کعبہ کی چھت پر لگا سونے کا پرنالہ جس سے بارش کا پانی حطیم میں گرتا ہے؛ اسے رحمت کا باعث سمجھا جاتا ہے
خطائیںگناہ، غلطیاں
اشکآنسو
التجائیںعاجزی سے کی گئی درخواستیں
غلافِ کعبہخانہ کعبہ پر چڑھایا جانے والا سیاہ ریشمی پردہ
سنگِ اسود (حجرِ اسود)کالا پتھر جو خانہ کعبہ کے ایک کونے میں نصب ہے اور جنت سے لایا گیا
صفا، مروہکعبے کے قریب دو پہاڑیاں جن کے درمیان حج و عمرہ میں سعی کی جاتی ہے
مغفرت، بخششگناہوں کی معافی
طالبطلب کرنے والا، مانگنے والا

تشریح لکھنے کا طریقہ

امتحان میں سوال 4 کے لیے ہر شعر کی تشریح اسی ترتیب سے لکھیں: حوالہ (نظم: حمد، شاعر: سید صبیح الدین رحمانی) ایک بار شروع میں، پھر ہر شعر کے نیچے مشکل الفاظ، مفہوم، تشریح، تائیدی شعر یا آیت اور شعری محاسن۔ نیچے ہر شعر کی تشریح اسی نمونے پر ہے؛ تین اشعار کی تشریح تقریباً تین صفحے بنتی ہے۔

شعر 1 کی تشریحOften examined

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبردیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
رونقشان و شوکت
منظرنظارہ
برابرمسلسل
مفہوم

خانہ کعبہ کی شان اور اس کا نظارہ اتنا دل کش ہے کہ شاعر اسے مسلسل دیکھتے رہنا چاہتا ہے اور بے اختیار اس کی زبان پر "اللہ اکبر" جاری ہو جاتا ہے۔

تشریح

حمد کے اس مطلع میں شاعر اپنی زندگی کے اس لمحے کو بیان کرتا ہے جب وہ پہلی بار خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا۔ کعبہ دنیا میں اللہ کا پہلا گھر ہے جو انسانوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا" (بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا)۔ اسی برکت اور تقدس کی وجہ سے اس کے گرد ایک ایسی رونق ہے جو دنیا کے کسی محل میں نہیں۔

شاعر کہتا ہے کہ کعبے پر ایک بار نظر پڑ جائے تو آنکھ ہٹنے کا نام نہیں لیتی؛ جی چاہتا ہے کہ بس دیکھتے ہی رہیں۔ اس کیفیت میں انسان کے پاس اللہ کی عظمت کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں بچتا، اس لیے اس کی زبان پر بے اختیار "اللہ اکبر" یعنی اللہ سب سے بڑا ہے، جاری ہو جاتا ہے۔ یوں پہلا شعر ہی پوری حمد کا لہجہ طے کر دیتا ہے: حیرت، عقیدت اور اللہ کی کبریائی کا اقرار۔

تائیدی شعر
دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کاہم اس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا
علامہ اقبالؔ
شعری محاسن

یہ شعر حمد کا مطلع ہے (دونوں مصرعے "منظر" اور "برابر" پر ہم قافیہ)۔ "کعبے کی رونق کعبے کا منظر" اور "دیکھوں تو دیکھے جاؤں" میں صنعتِ تکرار ہے۔ پورا شعر منظر نگاری کی عمدہ مثال ہے۔

شعر 2 کی تشریحOften examined

حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیںبس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
تربھیگی ہوئی، یہاں: مشغول
رس گھولنامٹھاس پیدا کرنا
صداآواز
مفہوم

حرم میں ہر شخص کی زبان اللہ کی حمد میں مصروف ہے، اذانوں کی آواز کانوں میں مٹھاس گھولتی ہے، اور ہر طرف سے مسلسل ایک ہی صدا آ رہی ہے: اللہ اکبر۔

تشریح

اس شعر میں شاعر حرم کی فضا کی تصویر کھینچتا ہے۔ وہاں دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگ ہیں جن کی زبانیں، رنگ اور قومیں الگ ہیں، مگر سب کی زبانیں ایک ہی کام میں "تر" ہیں: اللہ کی حمد و ثنا۔ "زبان تر ہونا" کا مطلب ہے کسی ذکر میں مسلسل مصروف رہنا۔

پھر جب اذان ہوتی ہے تو اس کی آواز کانوں میں رس گھول دیتی ہے، یعنی ایک روحانی لذت دل تک اتر جاتی ہے۔ اذان کا آغاز بھی "اللہ اکبر" سے ہوتا ہے، اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ وہاں بس ایک ہی صدا برابر آتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حرم میں ہزاروں آوازیں مل کر ایک ہو جاتی ہیں، کیونکہ سب کا مقصود ایک ہے: اللہ کی بڑائی کا اعلان۔

شعری محاسن

"زبانیں" اور "اذانیں" مصرعے کے اندر ہم قافیہ ہیں جس سے ترنم پیدا ہوا۔ "کانوں میں رس گھولنا" محاورہ ہے۔ زبان، کان اور صدا کا ایک ساتھ ذکر مراعات النظیر ہے۔

شعر 3 کی تشریحOften examined

تیرے حرم کی کیا بات مولیٰ، تیرے کرم کی کیا بات مولیٰتا عمر لکھ دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
حرمخانہ کعبہ
مولیٰمالک، آقا (اللہ تعالیٰ)
تا عمرساری زندگی
مقدرقسمت
مفہوم

اے میرے مالک! تیرے گھر اور تیری مہربانی کی کیا ہی بات ہے۔ میری قسمت میں لکھ دے کہ میں ساری عمر یہاں آتا رہوں۔

تشریح

شاعر اللہ تعالیٰ کو "مولیٰ" کہہ کر براہِ راست مخاطب کرتا ہے، جو قربت اور محبت کا انداز ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تیرے حرم کی شان بیان سے باہر ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھ جیسے گناہ گار کو یہاں تک پہنچا دیا۔ "کیا بات ہے" اردو روزمرہ میں کسی چیز کی بے پناہ تعریف کے لیے بولا جاتا ہے۔

دوسرے مصرعے میں شاعر کی دلی آرزو ہے۔ ایک بار حرم کی زیارت کرنے والا بار بار وہاں جانے کی تمنا کرتا ہے۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ یہ حاضری ایک بار کی نہ ہو بلکہ اس کی قسمت میں لکھ دی جائے کہ وہ زندگی بھر یہاں آتا رہے۔ یہاں اس عقیدے کا بھی اظہار ہے کہ حرم کی حاضری قسمت سے ملتی ہے اور قسمت لکھنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔

شعری محاسن

"تیرے حرم کی کیا بات مولیٰ" اور "تیرے کرم کی کیا بات مولیٰ" میں تکرار اور "حرم"، "کرم" میں اندرونی قافیہ ہے۔ پورا شعر خطابیہ انداز (براہِ راست اللہ سے خطاب) میں ہے۔ "مقدر لکھنا" محاورہ ہے۔

شعر 4 کی تشریحOften examined

مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گیمیزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
منظور، مقبولقبول کی گئی
میزابِ رحمتکعبہ کی چھت کا سونے کا پرنالہ
مفہوم

میں نے جتنی دعائیں مانگی ہیں وہ سب قبول ہوں گی، کیونکہ میں میزابِ رحمت کے نیچے کھڑا ہوں۔

تشریح

میزابِ رحمت خانہ کعبہ کی چھت پر لگا ہوا سونے کا پرنالہ ہے جس سے بارش کا پانی کعبے کی چھت سے حطیم میں گرتا ہے۔ اس کے پانی کو رحمت کا باعث سمجھا جاتا ہے، اس لیے اسے عربی میں "میزابِ رحمت" کہتے ہیں، اور اس کے نیچے کھڑے ہو کر دعا مانگنا قبولیت کا مقام سمجھا جاتا ہے۔

شاعر اسی جگہ کھڑا ہے اور اس کا دل یقین سے بھرا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری مانگی ہوئی ساری دعائیں "منظور ہوں گی، مقبول ہوں گی"۔ یہ تکبر نہیں بلکہ اللہ کی رحمت پر بھروسا ہے، کیونکہ اللہ نے خود دعا کا حکم دے کر قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے: "اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ" (مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا)۔ "میرے سر پر" میں دوہرا معنی ہے: پرنالہ واقعی سر کے اوپر ہے، اور اللہ کی رحمت کا سایہ بھی شاعر کے سر پر ہے۔

تائیدی شعر
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
علامہ اقبالؔ
شعری محاسن

"میزابِ رحمت" ترکیبِ اضافی ہے اور اس میں تلمیح بھی ہے۔ "منظور ہوں گی، مقبول ہوں گی" میں ہم معنی الفاظ کی تکرار سے یقین اور زور پیدا ہوا۔ "دعائیں" کا اندرونی قافیہ اگلے اشعار کی "خطائیں، التجائیں" سے ملتا ہے۔

شعر 5 کی تشریحOften examined

حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں، اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کوکہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
حیرتتعجب
حرمخانہ کعبہ
مفہوم

میں کبھی حیرت سے اپنے آپ کو دیکھتا ہوں اور کبھی حرم کو، کہ میری قسمت مجھے کہاں لے آئی ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر کی عاجزی اور حیرت کی کیفیت ہے۔ وہ ایک طرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے: ایک عام، کمزور اور خطا کار انسان؛ اور دوسری طرف حرم کو: اللہ کا مقدس گھر جہاں پہنچنے کی تمنا کروڑوں مسلمان دل میں لیے پھرتے ہیں۔ دونوں کا موازنہ کر کے اسے یقین نہیں آتا کہ وہ واقعی یہاں موجود ہے۔

شاعر کو حیرت کا سامنا اس لیے ہے کہ وہ خود کو اس عظیم سعادت کے لائق نہیں سمجھتا۔ وہ اسے اپنی کوشش کا نہیں بلکہ اپنے مقدر اور اللہ کے کرم کا نتیجہ مانتا ہے: "لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر"۔ یہ وہی کیفیت ہے جو ہر زائر پر پہلی حاضری کے وقت طاری ہوتی ہے: خوشی، شکر اور حیرت ایک ساتھ۔ عاجزی کا یہ احساس ہی اصل بندگی ہے۔

شعری محاسن

"خود کو کبھی دیکھتا ہوں" اور "دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو" میں تکرار اور خود اور حرم میں تقابل ہے۔ "کہاں" سوالیہ نہیں بلکہ استعجابیہ انداز میں ہے۔ شعر میں کیفیت نگاری نمایاں ہے۔

شعر 6 کی تشریحOften examined

یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیںرویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
خطائیںگناہ
اشکآنسو
التجائیںعاجزانہ درخواستیں
غلافِ کعبہکعبے کا سیاہ پردہ
مفہوم

جب مجھے اپنے گناہ یاد آئے تو میری التجائیں آنسوؤں میں بدل گئیں اور میں غلافِ کعبہ پکڑ کر رو پڑا۔

تشریح

یہ حمد کا سب سے پُر اثر شعر ہے۔ حرم کی پاکیزہ فضا میں جب انسان اللہ کے گھر کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی کی غلطیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ شاعر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کے لب جو دعائیں مانگ رہے تھے، اب ان کی جگہ آنسوؤں نے لے لی: "اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیں"۔ یعنی الفاظ ختم ہو گئے اور آنسو ہی دعا بن گئے۔

شاعر غلافِ کعبہ پکڑ کر روتا ہے۔ غلافِ کعبہ پکڑنا اس بچے کی طرح ہے جو ڈر کر ماں کا دامن تھام لیتا ہے؛ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اب میرا کوئی ٹھکانا نہیں سوائے تیرے در کے۔ شاعر غلافِ کعبہ پکڑ کر اس لیے رویا کہ اسے اپنی خطاؤں پر شرمندگی تھی اور وہ اللہ سے معافی کا طلب گار تھا۔ اللہ نے بھی مایوس نہ ہونے کا حکم دیا ہے: "لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ" (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو)۔ توبہ کے یہ آنسو اللہ کو بہت پسند ہیں۔

شعری محاسن

"خطائیں" اور "التجائیں" اندرونی قافیے ہیں۔ "اشکوں میں ڈھلنا" خوب صورت استعارہ ہے (التجائیں جیسے پگھل کر آنسو بن گئیں)۔ "غلافِ کعبہ" ترکیبِ اضافی ہے۔ شعر میں جذبات نگاری اور سوز و گداز ہے۔

شعر 7 کی تشریحOften examined

بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے، چوما ہے تجھ کو میرے مصطفیٰ ﷺ نےاے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
سنگِ اسودحجرِ اسود، کالا پتھر
چومنابوسہ دینا
مقدرقسمت
مفہوم

اے حجرِ اسود! تیری قسمت کتنی اچھی ہے کہ تجھے اللہ نے جنت سے بھیجا اور میرے آقا حضرت محمد ﷺ نے تجھے چوما۔

تشریح

اب شاعر حجرِ اسود سے مخاطب ہے۔ حجرِ اسود (سنگِ اسود) وہ کالا پتھر ہے جو خانہ کعبہ کے ایک کونے میں نصب ہے۔ روایات کے مطابق یہ پتھر جنت سے اتارا گیا اور شروع میں دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ طواف اسی کونے سے شروع ہوتا ہے، اور حضور اکرم ﷺ نے اسے بوسہ دیا، اسی لیے حاجی آج بھی اسے چومتے ہیں۔

شاعر کہتا ہے کہ اے حجرِ اسود، تجھے دو ایسی سعادتیں ملیں جن پر رشک ہی کیا جا سکتا ہے: تیرا تعلق جنت سے ہے، اور تجھے رسولِ اکرم ﷺ کے مبارک لبوں نے چھوا۔ یوں ایک پتھر بھی نسبت کی وجہ سے اتنا محترم ہو گیا کہ کروڑوں انسان اسے چومنے کی تمنا کرتے ہیں۔ یہاں ایک لطیف پیغام یہ بھی ہے کہ عزت نسبت سے ملتی ہے: جو حضور ﷺ سے جڑ گیا وہ معتبر ہو گیا۔

شعری محاسن

حجرِ اسود کے جنت سے آنے اور حضور ﷺ کے اسے چومنے کی طرف اشارہ صنعتِ تلمیح ہے۔ پتھر کو "اے" کہہ کر پکارنا خطابیہ انداز (حرفِ ندا) ہے۔ "خدا نے" اور "مصطفیٰ ﷺ نے" میں اندرونی قافیہ ہے۔ شعر میں حمد کے ساتھ نعت کا رنگ بھی آ گیا ہے۔

شعر 8 کی تشریحOften examined

دیکھا صفا اور مروہ بھی دیکھا، رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھادیکھا وہاں اک سروں کا سمندر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
صفا، مروہکعبے کے قریب دو پہاڑیاں
جلوہنظارہ، روشنی
سروں کا سمندربے شمار انسان
مفہوم

میں نے صفا اور مروہ کو دیکھا، وہاں رب کی رحمت کا نظارہ دیکھا اور انسانوں کا ایسا ہجوم دیکھا جو سمندر کی طرح تھا۔

تشریح

صفا اور مروہ خانہ کعبہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں۔ حضرت ہاجرہؑ اپنے پیاسے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے لیے پانی کی تلاش میں ان کے درمیان سات بار دوڑی تھیں، اور اللہ نے ان کی بے قراری کے صلے میں زمزم کا چشمہ جاری کیا۔ اسی یاد میں حج اور عمرے میں ان کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: "اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ" (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں)۔

شاعر کہتا ہے کہ وہاں اس نے صرف دو پہاڑیاں نہیں بلکہ رب کے کرم کا جلوہ دیکھا: ایک ماں کی تڑپ اور اللہ کی طرف سے اس کا جواب۔ پھر اس نے "سروں کا سمندر" دیکھا، یعنی دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں انسان جو ایک ہی لباس میں، ایک ہی سمت میں، ایک ہی رب کو پکار رہے تھے۔ یہ منظر اسلامی اخوت اور مساوات کی سب سے بڑی تصویر ہے۔

شعری محاسن

"دیکھا" کی بار بار تکرار (صنعتِ تکرار) سے منظر ایک کے بعد ایک کھلتا ہے۔ صفا و مروہ کے ذکر میں تلمیح (حضرت ہاجرہؑ کا واقعہ) ہے۔ "سروں کا سمندر" میں استعارہ اور مبالغہ ہے: بے شمار لوگوں کو سمندر کہا گیا۔ "صفا اور مروہ" مرکبِ عطفی ہے۔

شعر 9 کی تشریحOften examined

مولیٰ صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہےبخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مشکل الفاظ
لفظمعنی
مغفرتگناہوں کی معافی
عطابخشش، دین
طالبمانگنے والا
مفہوم

اے مولیٰ! صبیح اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ تو اسے مغفرت عطا کر دے۔ بخشش مانگنے والے پر اپنا کرم فرما۔

تشریح

حمد کے اس مقطع میں شاعر اپنا تخلص "صبیحؔ" لا کر اپنی آخری اور سب سے بڑی دعا پیش کرتا ہے۔ حرم کی ساری سعادتیں دیکھنے کے بعد وہ دنیا کی کوئی چیز، دولت یا شہرت نہیں مانگتا بلکہ صرف مغفرت مانگتا ہے۔ "اور کیا چاہتا ہے" سے ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک بخشش مل جائے تو باقی سب کچھ مل گیا۔

دوسرے مصرعے میں وہ خود کو "بخشش کا طالب" کہتا ہے، یعنی ایک سوالی جو اپنی کوئی خوبی نہیں بلکہ صرف اپنی حاجت لے کر آیا ہے۔ وہ اللہ سے اس کے کرم کی بنیاد پر مانگتا ہے، اپنے عمل کی بنیاد پر نہیں۔ یہ بندگی کا سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ آخر میں "اللہ اکبر" پر حمد ختم ہو کر پھر یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے۔

شعری محاسن

یہ شعر مقطع ہے جس میں تخلص "صبیحؔ" آیا ہے۔ "مغفرت" اور "بخشش" ہم معنی الفاظ ہیں جن سے زور پیدا ہوا۔ "چاہتا ہے" کی تکرار سے ترنم ہے۔ شعر دعائیہ انداز میں ہے، اس لیے حمد کا اختتام مناجات کے رنگ میں ہوا ہے۔

حمد کی فنی خوبیاں (ایک نظر میں)

  • ردیف "اللہ اکبر اللہ اکبر" ہر شعر کو اللہ کی کبریائی کے اعلان پر ختم کرتی ہے اور پڑھنے والے کو بھی ساتھ دہرانے پر آمادہ کرتی ہے۔
  • اندرونی قافیے (زبانیں، اذانیں؛ دعائیں؛ خطائیں، التجائیں؛ خدا نے، مصطفیٰ نے) نظم کو گانے کے قابل بناتے ہیں: یہی شاعر کے نعت خواں ہونے کا اثر ہے۔
  • تلمیحات: میزابِ رحمت، حجرِ اسود، صفا و مروہ، غلافِ کعبہ۔
  • منظر نگاری اور کیفیت نگاری: ہر شعر حج کا ایک منظر اور اس پر دل کی ایک کیفیت دکھاتا ہے: حیرت، یقین، ندامت، رشک، شکر۔
  • زبان: سادہ، رواں اور عام فہم؛ مشکل فارسی تراکیب کم ہیں۔

Key terms

حمد
اللہ تعالیٰ کی تعریف میں نظم۔
میزابِ رحمت
کعبے کی چھت کا سونے کا پرنالہ؛ اس کے نیچے دعا قبول ہونے کی امید۔
حجرِ اسود
کعبے میں نصب جنتی پتھر جسے حضور ﷺ نے چوما۔
صفا و مروہ
دو پہاڑیاں جن کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔
غلافِ کعبہ
کعبے کا سیاہ پردہ۔
ردیف
اللہ اکبر اللہ اکبر

امتحانی طرز کے سوالات: حصہ نظم (سوال 2 ب)

ہر سیٹ میں تین اشعار اور تین سوال ہیں (3 x 3 = 9 نمبر)۔ ہر جواب تین سے پانچ سطروں کا ہو اور اس میں شعر کا حوالہ دیں۔

19 marks
درج ذیل اشعار پڑھ کر سوالات کے جواب لکھیں:
کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبردیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حمدِ خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیںبس اک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر اللہ اکبر
تیرے حرم کی کیا بات مولیٰ، تیرے کرم کی کیا بات مولیٰتا عمر لکھ دے آنا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
سوالات
  1. (i)شاعر کعبے کو برابر کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟
  2. (ii)"کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں" سے کیا مراد ہے؟
  3. (iii)شاعر اپنے مقدر میں کیا لکھوانا چاہتا ہے؟
Solution
(i) شاعر کعبے کو برابر کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟

کعبہ اللہ کا گھر ہے اور اس کی رونق اور منظر اتنا دل کش اور پُر نور ہے کہ ایک بار نظر پڑ جائے تو ہٹتی نہیں۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے "دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر"، اور یہ منظر دیکھ کر اس کی زبان پر بے اختیار "اللہ اکبر" جاری ہو جاتا ہے۔

(ii) "کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں" سے کیا مراد ہے؟

حرم میں اذان کی آواز اتنی پیاری اور روح پرور لگتی ہے کہ جیسے کانوں میں مٹھاس گھل گئی ہو۔ "رس گھولنا" محاورہ ہے جس کا مطلب ہے لذت اور مٹھاس پیدا کرنا؛ یعنی اذان سن کر دل کو روحانی سکون ملتا ہے۔

(iii) شاعر اپنے مقدر میں کیا لکھوانا چاہتا ہے؟

شاعر اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اس کی قسمت میں لکھ دے کہ وہ ساری عمر حرم میں حاضر ہوتا رہے: "تا عمر لکھ دے آنا مقدر"۔ یعنی وہ ایک بار کی زیارت پر قناعت نہیں کرنا چاہتا بلکہ تمام عمر خانہ کعبہ کی حاضری کا طلب گار ہے۔

29 marks
درج ذیل اشعار پڑھ کر سوالات کے جواب لکھیں:
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے، چوما ہے تجھ کو میرے مصطفیٰ ﷺ نےاے سنگِ اسود تیرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
دیکھا صفا اور مروہ بھی دیکھا، رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھادیکھا وہاں اک سروں کا سمندر، اللہ اکبر اللہ اکبر
مولیٰ صبیحؔ اور کیا چاہتا ہے، بس مغفرت کی عطا چاہتا ہےبخشش کے طالب پہ اپنا کرم کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
سوالات
  1. (i)شاعر سنگِ اسود کے مقدر پر رشک کیوں کرتا ہے؟
  2. (ii)"سروں کا سمندر" سے کیا مراد ہے؟
  3. (iii)مقطع میں شاعر اللہ تعالیٰ سے کیا طلب کرتا ہے؟
Solution
(i) شاعر سنگِ اسود کے مقدر پر رشک کیوں کرتا ہے؟

حجرِ اسود کو دو سعادتیں ملیں: اسے اللہ نے جنت سے بھیجا، اور حضور اکرم ﷺ نے اسے اپنے مبارک لبوں سے چوما۔ اسی نسبت کی وجہ سے شاعر کہتا ہے "اے سنگِ اسود تیرا مقدر"، یعنی تیری قسمت قابلِ رشک ہے۔

(ii) "سروں کا سمندر" سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد حج یا عمرے کے موقع پر حرم میں جمع لاکھوں انسانوں کا ہجوم ہے۔ لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ دور سے صرف سر ہی سر نظر آتے ہیں جیسے سمندر کی لہریں۔ یہ استعارہ اور مبالغہ ہے اور اسلامی اخوت و مساوات کا منظر بھی۔

(iii) مقطع میں شاعر اللہ تعالیٰ سے کیا طلب کرتا ہے؟

شاعر اپنا تخلص "صبیح" لا کر کہتا ہے کہ وہ اللہ سے مغفرت کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ وہ خود کو بخشش کا طالب کہتا ہے اور اللہ سے اپنے عمل کے بجائے اس کے کرم کے سہارے معافی مانگتا ہے۔

کتاب کی مشق کے مختصر سوالات

درسی کتاب (صفحہ 102) کے سوالات کے نمونے کے جوابات۔

اردو ادب میں حمد اور نعت میں کیا فرق ہوتا ہے؟
Solution

حمد وہ نظم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، یکتائی اور صفات کا ذکر ہو۔ نعت وہ نظم ہے جس میں حضور اکرم ﷺ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ ہو۔ یعنی حمد کا موضوع خالق ہے اور نعت کا موضوع اللہ کے محبوب رسول ﷺ۔

"میزابِ رحمت" کی وضاحت کریں۔
Solution

خانہ کعبہ کی چھت پر لگا سونے کا پرنالہ جس سے بارش کا پانی حطیم میں گرتا ہے۔ اس کا پانی رحمت کا باعث سمجھا جاتا ہے اس لیے اسے میزابِ رحمت کہتے ہیں۔

شاعر نے حمد میں کون کون سی تلمیحات استعمال کی ہیں؟
Solution

میزابِ رحمت، غلافِ کعبہ، حجرِ اسود (جنت سے آنا اور حضور ﷺ کا اسے چومنا)، اور صفا و مروہ (حضرت ہاجرہؑ کی سعی)۔

حمد میں "حجرِ اسود" کے بارے میں کیا معلومات دی گئی ہیں؟
Solution

یہ کہ حجرِ اسود کو اللہ تعالیٰ نے جنت سے بھیجا اور حضور اکرم ﷺ نے اسے چوما، اس لیے اس کا مقدر قابلِ رشک ہے۔

FBISE and model paper questions

Questions from the FBISE HSSC-II model paper (Assessment Framework 2022-23) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.

2 (ب)Model paper, Q.2 (ب)3,3,3 = 9 marks
درج ذیل نظمیہ بند پڑھ کر دیے گئے سوالات کے جواب لکھیں:
مانگی ہیں میں نے جتنی دعائیں، منظور ہوں گی، مقبول ہوں گیمیزابِ رحمت ہے میرے سر پر، اللہ اکبر اللہ اکبر
حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں، اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کوکہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر اللہ اکبر
یاد آ گئیں جب اپنی خطائیں، اشکوں میں ڈھلنے لگیں التجائیںرویا غلافِ کعبہ پکڑ کر، اللہ اکبر اللہ اکبر
سوالات
  1. (i)دیے گئے نظمیہ بند میں "میزابِ رحمت" کی وضاحت کیجیے۔
  2. (ii)شاعر کو حیرت کا سامنا کیوں ہے؟
  3. (iii)شاعر غلافِ کعبہ پکڑ کر کیوں رویا؟ (یا: پہلے شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیں)
Solution
(i) دیے گئے نظمیہ بند میں "میزابِ رحمت" کی وضاحت کیجیے۔

"میزابِ رحمت" خانہ کعبہ کی چھت پر لگا ہوا سونے کا پرنالہ ہے جس سے بارش کا پانی حطیم میں گرتا ہے۔ اس پانی کو رحمت کا باعث سمجھا جاتا ہے اس لیے اسے میزابِ رحمت کہتے ہیں، اور اس کے نیچے مانگی گئی دعا قبول ہونے کی امید کی جاتی ہے۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ میری سب دعائیں منظور ہوں گی کیونکہ میزابِ رحمت میرے سر پر ہے۔

(ii) شاعر کو حیرت کا سامنا کیوں ہے؟

شاعر کبھی اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور کبھی حرم کو۔ وہ خود کو ایک عام اور خطا کار انسان سمجھتا ہے، اس لیے اسے یقین نہیں آتا کہ وہ اللہ کے مقدس گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ وہ اسے اپنی کوشش نہیں بلکہ مقدر کا کرم سمجھتا ہے: "کہ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر"۔ یہی عاجزی اس کی حیرت کا سبب ہے۔

(iii) شاعر غلافِ کعبہ پکڑ کر کیوں رویا؟ (یا: پہلے شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھیں)

جب شاعر کو اللہ کے گھر کے سامنے اپنی خطائیں یاد آئیں تو اسے سخت ندامت ہوئی؛ اس کی دعائیں آنسوؤں میں بدل گئیں اور وہ غلافِ کعبہ پکڑ کر رو پڑا تاکہ اللہ سے گناہوں کی معافی مانگے۔ (یا) پہلے شعر کا مفہوم: میں نے جتنی دعائیں مانگی ہیں وہ سب قبول ہوں گی، کیونکہ میں میزابِ رحمت کے نیچے کھڑا ہوں اور اللہ کی رحمت کا سایہ میرے سر پر ہے۔

Exam focus

  1. اشعار 4، 5، 6 (میزابِ رحمت، حیرت، غلافِ کعبہ) پر سوالات (short)
    ماڈل پیپر کا سوال 2 (ب) یہی بند تھا۔
    Go to answer
  2. حمد کے کسی بند کی تشریح (long)
    سوال 4 میں نظم پارے کی تشریح؛ حمد اور نعت نصاب کی پہلی دو نظمیں ہیں۔
    Go to answer
  3. حمد کی تلمیحات (short)
    کتاب کی مشق اور صنعتِ تلمیح کے سوال میں کام آتی ہیں۔
    Go to answer

Mark this unit as done to fill the Class 12 Urdu ring.

Next, unit 22
Naat: Dilon ke saath jabeenein

© 2026 FBISE Fold. Independent study notes, not affiliated with the Federal Board of Intermediate and Secondary Education.