Maan Ji

ماں جی (قدرت اللہ شہاب)

Class 12 Urdu, Prose 3

قدرت اللہ شہاب کی یہ تحریر ان کی والدہ کا خاکہ ہے۔ ماں جی کی غربت میں گزری کم سنی، لائل پور کی طرف پیدل ہجرت، عبداللہ صاحب سے شادی، گلگت کی گورنری کا جاہ و جلال اور آخر میں دکھ اور وفات، ہر مرحلے پر ان کی سادگی، صبر و شکر اور قناعت نمایاں رہتی ہے۔ یہاں خلاصہ، کردار، دو امتحانی اقتباسات اور ایک تشریح ہے۔

مصنف کا تعارف: قدرت اللہ شہاب

قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ریاست جموں و کشمیر اور موضع چمکور صاحب (ضلع انبالہ) میں حاصل کی اور گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کیا۔

1941ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے، بہار، اڑیسہ اور بنگال میں خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد آزاد کشمیر حکومت کے سیکرٹری جنرل بنے، پھر گورنر جنرل غلام محمد، اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے سیکرٹری رہے۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں سول سروس سے مستعفی ہو کر یونیسکو سے وابستہ ہو گئے۔ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل بھی انھی کی کوششوں سے عمل میں آئی۔

وہ عمدہ نثر نگار اور ادیب تھے۔ ان کی تصانیف میں یا خدا، نفسانے، ماں جی، سرخ فیتہ اور خود نوشت سوانح حیات شہاب نامہ قابلِ ذکر ہیں۔ 24 جولائی 1986ء کو اسلام آباد میں وفات پائی۔

خلاصہ (1): ماں جی کا بچپن اور ہجرت

ماں جی کی پیدائش کا صحیح سال معلوم نہیں۔ جب لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کا ضلع نیا نیا آباد ہو رہا تھا اور لوگ "بار" کے علاقے میں جوق در جوق آ رہے تھے، اس وقت ان کی عمر دس بارہ سال تھی۔ ان کا آبائی وطن تحصیل روپڑ، ضلع انبالہ کا گاؤں منیلہ تھا۔

نانا جی کی زمین نہر سرہند کی کھدائی میں آ گئی۔ سیدھے سادے آدمی تھے، معاوضہ نہ لے سکے اور صبر و شکر کر کے نہر کی مزدوری کرنے لگے۔ لائل پور کالونی کی خبر سن کر بیوی، دو بیٹوں اور ایک بیٹی (ماں جی) کو لے کر پیدل روانہ ہوئے۔ راستے میں نانا جی قلی کا کام کرتے اور لکڑیاں چیرتے، جبکہ نانی اور ماں جی سوت کاتتیں اور لوگوں کے گھر لیپتیں۔ ڈیڑھ دو مہینے کی مسافت کے بعد جڑانوالا پہنچے۔

جڑانوالا میں بقر عید پر نانا جی نے ماں جی کو تین آنے عیدی دی۔ وہ ساری عمر ان کا مصرف نہ سوچ سکیں۔ رخصتی کے وقت ایک پیسے کا تیل خرید کر مسجد کے چراغ میں ڈالا اور پھر عمر بھر ہر جمعرات کی شام مسجد میں تیل ڈالنے کا یہ عمل جاری رکھا۔

زمین کی تلاش میں خاندان چک نمبر 392 پہنچا، جھونپڑی بنائی مگر الاٹ منٹ کے کاغذات نہ ہونے پر محکمۂ مال کے عملے نے انھیں نکال دیا، برتن اور بستر قرق کر لیے اور ماں جی کے کان کی بالیاں بھی کھینچ کر اتار لیں جس سے ان کا کان پھٹ گیا۔ پھر چک نمبر 507 میں ایک جان پہچان کے آدمی نے نانا جی کو مزارع رکھ لیا۔ وہاں فاقے، جنگلی بیر، خربوزے کے چھلکے اور ٹوٹی ہنڈیا کا ساگ لکڑیوں سے چاٹ کر کھانے کے دن بھی دیکھے۔

آخر چک 507 راس آیا، نانا جی کو آسان قسطوں پر ایک مربع زمین مل گئی اور تین سال میں ان کا شمار کھاتے پیتے لوگوں میں ہونے لگا۔ پھر سارا خاندان ریل میں بیٹھ کر منیلہ گیا۔ کھڑکی سے منہ نکالنے پر ماں جی کی آنکھوں میں کوئلے کے ذرے پڑے اور وہ آشوبِ چشم میں مبتلا ہوئیں۔

خلاصہ (2): عبداللہ صاحب سے شادی

مربعے داروں کی بڑی دھوم تھی، ماں جی کے لیے پے در پے پیغام آنے لگے۔ ماں جی کی ایک ہی خواہش تھی کہ انھیں کوئی دو حرف پڑھا لکھا آدمی ملے۔ اسی سال ان کی شادی عبداللہ صاحب سے ہو گئی۔

عبداللہ صاحب ایک امیر گھرانے کے چشم و چراغ تھے مگر بچپن میں یتیم ہو گئے اور جائیداد رہن نکلی۔ انھوں نے محنت سے تعلیم حاصل کی، پنجاب یونی ورسٹی کے میٹرک میں اول آئے اور سر سید احمد خان انھیں علی گڑھ لے گئے۔ انیس برس کی عمر میں بی اے کر کے وہیں لیکچرار ہو گئے۔

سر سید نے انھیں آئی سی ایس کے امتحان کے لیے انگلستان بھیجنے کا وظیفہ دلوایا مگر والدہ نے ولایت جانے سے منع کر دیا اور عبداللہ صاحب نے وظیفہ واپس کر دیا۔ سر سید نے غصے میں انھیں پیٹا اور علی گڑھ سے نکال دیا۔ عبداللہ صاحب نقشے پر سب سے دور افتادہ مقام گلگت پہنچے اور وہاں کے گورنر بن گئے۔

منگنی کے بعد ایک میلے میں ماں جی نے عبداللہ صاحب سے صرف گیارہ پیسے مانگے تاکہ ان کے نام سے مسجد میں تیل ڈالیں۔ زندگی بھر ان کا لین دین انھی گیارہ پیسوں تک محدود رہا۔

خلاصہ (3): گلگت کی زندگی

گلگت میں گورنر کی بڑی شان و شوکت تھی: بنگلہ، باغ، نوکر چاکر، پہرہ اور توپوں کی سلامی۔ مگر ماں جی پر اس جاہ و جلال کا ذرہ برابر اثر نہ ہوا؛ الٹا ان کی سادگی اور خود اعتمادی ماحول پر چھا گئی۔

لیڈی ہیلی کی بیٹی فراک پہنے ماں جی سے ملنے آئی تو ماں جی کو یہ بے حجابی پسند نہ آئی۔ انھوں نے مس ہیلی کو اپنے پاس رکھ کر کھانا پکانا، سینا پرونا اور گھر کے کام سکھائے اور پھر واپس بھیجا۔

لارڈ کچنر سرحدوں کا معائنہ کرنے گلگت آئے تو ماں جی نے دس بارہ قسم کے کھانے پکائے۔ لارڈ کچنر نے خانساماں کے ہاتھ چومنے کی بات کی، جبکہ ماں جی خود باورچی خانے کے کونے میں چٹنی سے مکئی کی روٹی کھا رہی تھیں۔

گلگت میں سارے احکام "گورنری" کے نام سے جاری ہوتے تھے۔ عبداللہ صاحب نے مذاق میں گورنری کو ماں جی کی سوکن کہہ دیا۔ یہ بات ماں جی کے دل میں بیٹھ گئی۔ مہاراجا پرتاب سنگھ کی مہارانی سے انھوں نے یہ دکھ کہا تو مہاراجا نے حکم دیا کہ آئندہ گلگت کی گورنری کو وزارت اور گورنر کو وزیرِ وزارت کہا جائے۔ مہارانی نے ماں جی سے کہا "اب تم دودھوں نہاؤ، پوتوں پھلو" اور اپنے لیے دعا کی درخواست کی۔

خلاصہ (4): دکھ، عبداللہ صاحب کی وفات اور ماں جی کا انتقال

ماں جی کو تین بیٹیاں اور تین بیٹے ملے۔ دو بیٹیاں شادی کے کچھ عرصے بعد فوت ہو گئیں اور سب سے بڑا بیٹا عین جوانی میں انگلستان جا کر گزر گیا۔ ماں جی کہتی تھیں "اللہ کا مال تھا، اللہ نے لے لیا" لیکن مصنف سوال اٹھاتا ہے کہ کیا وہ اکیلے میں چھپ چھپ کر خون کے آنسو نہ روتی ہوں گی۔

عبداللہ صاحب باسٹھ سال کی عمر میں سہ پہر کے وقت گاؤ تکیے پر گنا چوستے ہوئے چل بسے۔ آخری لمحوں میں انھوں نے مذاق میں گیارہ پیسے واپس مانگے تو ماں جی نے کہا "ابھی وقت کہاں آیا ہے میرے سرتاج"۔ ماں جی نے بچوں کو رونے سے منع کیا کہ ابا جی کی روح کو تکلیف ہو گی۔

سبق کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو مکئی کی روٹی اور نمک مرچ کی چٹنی سامنے آتی ہے، اور ان کی یاد میں رونے سے ڈر لگتا ہے کہ ان کی روح کو تکلیف نہ پہنچے۔

اہم کردار اور ماں جی کی خصوصیات

کردارتعارف
ماں جیمصنف کی والدہ؛ سادگی، صبر و شکر، قناعت اور خود داری کی تصویر۔
عبداللہ صاحبمصنف کے والد؛ ذہین، سعادت مند بیٹا اور شاگرد، گلگت کے گورنر، خوش مزاج۔
نانا جیماں جی کے والد؛ سیدھے سادے، محنتی اور صابر کسان۔
سر سید احمد خانعبداللہ صاحب کے استاد اور سرپرست؛ قوم کی ترقی کے لیے بے چین۔
لارڈ کچنر، مس ہیلی، مہاراجا پرتاب سنگھ اور مہارانیگلگت کے واقعات کے ضمنی کردار جن سے ماں جی کی سادگی اور خود اعتمادی نمایاں ہوتی ہے۔
  • سادگی: تین جوڑے کپڑے، دیسی جوتا، مکئی کی روٹی اور چٹنی؛ گورنر کی بیوی ہو کر بھی یہی طرزِ زندگی۔
  • صبر و شکر: ہر نوالے پر اللہ کا شکر؛ اولاد کی موت پر "اللہ کا مال تھا، اللہ نے لے لیا"۔
  • قناعت اور خود داری: کسی سے کچھ مانگنا گوارا نہیں؛ دعا کرتیں کہ اللہ کسی کا محتاج نہ کرے۔
  • دین داری: جمعرات کو مسجد کے چراغ میں تیل ڈالنا اور گیارہ پیسوں کا عمل۔
  • خود اعتمادی: گلگت کا جاہ و جلال ان پر اثر نہ کر سکا۔
  • نسوانی جذبہ: گورنری کو سوکن کہنے پر رشک و حسد، جو ہر عورت کا ازلی ورثہ ہے۔

Key terms

الھڑ
کم سن، بھولا بھالا
بے حجابی
بے پردگی، بے شرمی
پاپیادہ
پیدل
جوق در جوق
بڑی تعداد میں
حاجت روائی
ضرورت پوری کرنا
قرق کرنا
ضبط کر لینا
مفلوک الحال
غریب
ناگہانی
اچانک آنے والی
وضع داری
رکھ رکھاؤ
آشوبِ چشم
آنکھوں کا دکھنا، ایک بیماری
پائنتی
جس طرف سونے والے کے پاؤں ہوں
چشم و چراغ
اولاد، بیٹا
دانستہ
جان بوجھ کر
منہمک
مصروف
ورثہ
باپ دادا سے ملی ہوئی چیز

اقتباسات اور سوالات (سوال 2، حصہ نثر)

ہر اقتباس پر چھے سوال ہیں، ہر سوال 3 نمبر کا۔ جواب میں اقتباس کے ساتھ سبق کا پس منظر بھی لکھیں۔

18 marks
درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیں اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب دیں۔

عبداللہ صاحب کی والدہ نے بیٹے کو ولایت جانے سے منع کر دیا۔ عبداللہ صاحب کی سعادت مندی آڑے آئی اور انھوں نے وظیفہ واپس کر دیا۔ اس حرکت پر سر سید کو بے حد غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔ انھوں نے لاکھ سمجھایا، بجھایا، ڈرایا، دھمکایا لیکن عبداللہ صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے۔ "کیا تم اپنی بوڑھی ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہو؟" سر سید نے کڑک کر پوچھا: "جی ہاں" عبداللہ صاحب نے جواب دیا۔ یہ ٹکا سا جواب سن کر سر سید آپے سے باہر ہو گئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے پہلے انھوں نے عبداللہ صاحب کو لاتوں، مکوں، تھپڑوں اور جوتوں سے خوب پیٹا اور کالج کی نوکری سے برخاست کر کے یہ کہ کر علی گڑھ سے نکال دیا: "اب تم ایسی جگہ جا کر مرو جہاں سے میں تمھارا نام بھی نہ سن سکوں۔" عبداللہ صاحب جتنے سعادت مند بیٹے تھے، اتنے ہی سعادت مند شاگرد بھی تھے۔ نقشے پر انھیں سب سے دور افتادہ اور دشوار گزار مقام گلگت نظر آیا۔ چناں چہ وہ ناک کی سیدھ میں گلگت پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی گورنری کے عہدے پر فائز ہو گئے۔

سوالات
  1. (i)سر سید نے عبداللہ صاحب کو سرکاری وظیفہ کیوں دلوایا تھا؟
  2. (ii)"عبداللہ صاحب کی سعادت مندی آڑے آئی" سے کیا مراد ہے؟
  3. (iii)سر سید نے عبداللہ صاحب کے جواب پر کیا ردِ عمل ظاہر کیا اور کیوں؟
  4. (iv)علی گڑھ سے نکالے جانے کے بعد عبداللہ صاحب کہاں گئے اور انھیں کیا مقام ملا؟
  5. (v)اقتباس سے دو محاورے تلاش کر کے جملوں میں استعمال کریں، نیز "لاتوں، مکوں" کے واحد لکھیں اور "دور افتادہ اور دشوار گزار" کی ترکیب بتائیں۔
  6. (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
Solution
(i) سر سید نے عبداللہ صاحب کو سرکاری وظیفہ کیوں دلوایا تھا؟

سر سید احمد خان کی دلی خواہش تھی کہ مسلمان نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں پر جائیں۔ عبداللہ صاحب ان کے ذہین ترین شاگرد تھے جو میٹرک میں اول آئے تھے اور انیس برس کی عمر میں علی گڑھ کالج میں لیکچرار بن چکے تھے۔ اسی لیے سر سید نے انھیں سرکاری وظیفہ دلوایا تاکہ وہ انگلستان جا کر آئی سی ایس کے امتحان میں شریک ہوں اور قوم کا نام روشن کریں۔

(ii) "عبداللہ صاحب کی سعادت مندی آڑے آئی" سے کیا مراد ہے؟

اس دور کے بڑے بوڑھے سمندر پار کے سفر کو اچانک آنے والی مصیبت سمجھتے تھے۔ عبداللہ صاحب کی والدہ نے انھیں ولایت جانے سے منع کر دیا۔ وہ ماں کے بے حد فرماں بردار بیٹے تھے، اس لیے ماں کا حکم ٹالنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ یوں ان کی فرماں برداری (سعادت مندی) ان کے انگلستان جانے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی اور انھوں نے وظیفہ واپس کر دیا۔

(iii) سر سید نے عبداللہ صاحب کے جواب پر کیا ردِ عمل ظاہر کیا اور کیوں؟

سر سید نے پوچھا کہ کیا تم بوڑھی ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہو؟ عبداللہ صاحب نے صاف "جی ہاں" کہا۔ یہ ٹکا سا جواب سن کر سر سید آپے سے باہر ہو گئے، کمرہ بند کر کے انھیں لاتوں، مکوں، تھپڑوں اور جوتوں سے پیٹا، کالج کی نوکری سے برخاست کیا اور علی گڑھ سے نکال دیا۔ اس غصے کے پیچھے دراصل قوم کا درد اور اپنے لائق شاگرد سے وابستہ امیدیں تھیں جو ٹوٹ گئی تھیں۔

(iv) علی گڑھ سے نکالے جانے کے بعد عبداللہ صاحب کہاں گئے اور انھیں کیا مقام ملا؟

سر سید نے کہا تھا کہ ایسی جگہ جا کر مرو جہاں سے میں تمھارا نام بھی نہ سن سکوں۔ عبداللہ صاحب جتنے سعادت مند بیٹے تھے، اتنے ہی سعادت مند شاگرد تھے، اس لیے انھوں نے استاد کا حکم لفظ بہ لفظ مانا۔ نقشے پر سب سے دور افتادہ اور دشوار گزار مقام گلگت نظر آیا تو سیدھے وہاں پہنچے اور دیکھتے ہی دیکھتے گلگت کی گورنری کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ وہیں بعد میں ماں جی بیاہ کر آئیں۔

(v) اقتباس سے دو محاورے تلاش کر کے جملوں میں استعمال کریں، نیز "لاتوں، مکوں" کے واحد لکھیں اور "دور افتادہ اور دشوار گزار" کی ترکیب بتائیں۔
  • ٹس سے مس نہ ہونا (اپنی بات پر ڈٹے رہنا): سب نے منت کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
  • آپے سے باہر ہونا (سخت غصے میں آنا): معمولی بات پر آپے سے باہر ہونا اچھا نہیں۔
  • دیگر محاورے: آڑے آنا، ناک کی سیدھ میں جانا۔
  • واحد: لاتوں سے لات، مکوں سے مکا (اسی طرح تھپڑوں سے تھپڑ، جوتوں سے جوتا)۔
  • دور افتادہ اور دشوار گزار: مرکبِ عطفی (حرفِ عطف "اور" سے جڑی دو صفات)۔
(vi) اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔

مرکزی خیال: ماں باپ کی فرماں برداری انسان کو بڑے سے بڑے فائدے کی قربانی پر آمادہ کر دیتی ہے، اور سچی سعادت مندی آخر کار عزت اور بلند مقام دلاتی ہے۔

تلخیص: عبداللہ صاحب کو سر سید نے آئی سی ایس کے لیے انگلستان بھیجنے کا وظیفہ دلوایا مگر ماں نے ولایت جانے سے روک دیا۔ ماں کی خاطر انھوں نے وظیفہ واپس کر دیا اور سر سید کے سوال پر صاف کہا کہ وہ ماں کو قوم کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ سر سید نے غصے میں انھیں پیٹا اور علی گڑھ سے نکال دیا۔ استاد کا حکم مان کر وہ سب سے دور مقام گلگت پہنچے اور وہاں کے گورنر بن گئے۔

18 marks
درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیں اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب دیں۔

جب روس میں انقلاب برپا ہوا تو لارڈ کچنر سرحدوں کا معائنہ کرنے گلگت آئے۔ ان کے اعزاز میں گورنر کی طرف سے ضیافت کا اہتمام ہوا۔ ماں جی نے اپنے ہاتھ سے دس بارہ قسم کے کھانے پکائے۔ کھانے لذیذ تھے۔ لارڈ کچنر نے اپنی تقریر میں کہا: "مسٹر گورنر! جس خانساماں نے یہ کھانے پکائے ہیں، بہ راہِ مہربانی میری طرف سے آپ ان کے ہاتھ چوم لیں۔" دعوت کے بعد عبداللہ صاحب فرحاں و شاداں گھر لوٹے تو دیکھا کہ ماں جی باورچی خانے کے ایک کونے میں چٹائی پر بیٹھی نمک اور مرچ کی چٹنی کے ساتھ مکئی کی روٹی کھا رہی ہیں۔ ایک اچھے گورنر کی طرح عبداللہ صاحب نے ماں جی کے ہاتھ چومے اور کہا: "اگر لارڈ کچنر یہ فرمائش کرتا کہ وہ خود خانساماں کے ہاتھ چومنا چاہتا ہے تو پھر تم کیا کرتیں؟" "میں" ماں جی تنک کر بولیں۔ "میں اس کی مونچھیں پکڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیتی۔ پھر آپ کیا کرتے؟" "میں" عبداللہ صاحب نے ڈراما کیا۔ "میں ان مونچھوں کو روئی میں لپیٹ کر وائسرائے کے پاس بھیج دیتا اور تمھیں ساتھ لے کر کہیں اور بھاگ جاتا، جیسے سر سید کے ہاں سے بھاگا تھا۔"

سوالات
  1. (i)لارڈ کچنر گلگت کیوں آئے اور ان کی دعوت کا انتظام کس نے کیا؟
  2. (ii)دعوت کے بعد عبداللہ صاحب نے ماں جی کو کس حال میں دیکھا؟ اس سے ماں جی کی کون سی صفت ظاہر ہوتی ہے؟
  3. (iii)ماں جی نے لارڈ کچنر کی ممکنہ فرمائش پر کیا جواب دیا اور اس سے ان کے کردار کا کون سا پہلو سامنے آتا ہے؟
  4. (iv)"جیسے سر سید کے ہاں سے بھاگا تھا" اس جملے میں کس واقعے کی طرف اشارہ ہے؟
  5. (v)اقتباس سے ایک مرکبِ عطفی اور ایک ترکیبِ اضافی تلاش کریں، نیز "لذیذ" اور "اعزاز" کے متضاد لکھیں۔
  6. (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
Solution
(i) لارڈ کچنر گلگت کیوں آئے اور ان کی دعوت کا انتظام کس نے کیا؟

روس میں انقلاب برپا ہوا تو برطانوی حکومت کو گلگت کی سرحدوں کی فکر ہوئی، کیوں کہ گلگت کی سرحدیں روس اور چین سے ملتی ہیں۔ اسی لیے لارڈ کچنر سرحدوں کا معائنہ کرنے گلگت آئے۔ ان کے اعزاز میں گورنر عبداللہ صاحب کی طرف سے ضیافت ہوئی اور ماں جی نے اپنے ہاتھ سے دس بارہ قسم کے لذیذ کھانے پکائے۔

(ii) دعوت کے بعد عبداللہ صاحب نے ماں جی کو کس حال میں دیکھا؟ اس سے ماں جی کی کون سی صفت ظاہر ہوتی ہے؟

دعوت کے بعد عبداللہ صاحب خوشی خوشی گھر لوٹے تو دیکھا کہ جس خاتون کے ہاتھ کے کھانوں کی لارڈ کچنر نے تعریف کی تھی، وہ خود باورچی خانے کے ایک کونے میں چٹائی پر بیٹھی نمک مرچ کی چٹنی کے ساتھ مکئی کی روٹی کھا رہی ہیں۔ اس سے ماں جی کی سادگی، قناعت اور بے نیازی ظاہر ہوتی ہے۔ گورنر کی بیوی ہو کر بھی ان کی پسند وہی سادہ غذا تھی جس کی وہ بچپن سے عادی تھیں۔

(iii) ماں جی نے لارڈ کچنر کی ممکنہ فرمائش پر کیا جواب دیا اور اس سے ان کے کردار کا کون سا پہلو سامنے آتا ہے؟

عبداللہ صاحب نے پوچھا کہ اگر لارڈ کچنر خود خانساماں کے ہاتھ چومنے کی فرمائش کرتا تو تم کیا کرتیں؟ ماں جی نے تنک کر کہا کہ میں اس کی مونچھیں پکڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیتی۔ اس جواب سے ماں جی کی غیرت، شرم و حیا اور مشرقی اقدار سے وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک کسی غیر مرد کا ہاتھ چومنا ناقابلِ برداشت تھا، چاہے وہ کتنا ہی بڑا افسر کیوں نہ ہو۔

(iv) "جیسے سر سید کے ہاں سے بھاگا تھا" اس جملے میں کس واقعے کی طرف اشارہ ہے؟

یہ اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جب سر سید نے عبداللہ صاحب کو آئی سی ایس کے لیے انگلستان بھیجنے کا وظیفہ دلوایا مگر والدہ کے منع کرنے پر انھوں نے وظیفہ واپس کر دیا۔ سر سید نے غصے میں انھیں پیٹا اور علی گڑھ سے نکال دیا تو وہ سب سے دور مقام گلگت چلے آئے تھے۔ یہاں عبداللہ صاحب مزاح کے انداز میں کہتے ہیں کہ وہ ایک بار پھر سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جاتے۔

(v) اقتباس سے ایک مرکبِ عطفی اور ایک ترکیبِ اضافی تلاش کریں، نیز "لذیذ" اور "اعزاز" کے متضاد لکھیں۔
  • مرکبِ عطفی: فرحاں و شاداں (واؤ عطف سے)۔
  • ترکیبِ اضافی: راہِ مہربانی (زیرِ اضافت سے)۔
  • لذیذ کا متضاد: بدمزہ / بے ذائقہ۔
  • اعزاز کا متضاد: بے عزتی / ذلت۔
(vi) اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔

مرکزی خیال: بلند مرتبے اور شان و شوکت کے باوجود سچا انسان اپنی سادگی، غیرت اور اقدار کو نہیں چھوڑتا۔

تلخیص: روس کے انقلاب کے بعد لارڈ کچنر گلگت آئے تو ان کی دعوت میں ماں جی نے دس بارہ قسم کے لذیذ کھانے پکائے۔ لارڈ کچنر نے خانساماں کے ہاتھ چومنے کی بات کی۔ عبداللہ صاحب گھر آئے تو ماں جی باورچی خانے کے کونے میں چٹنی سے مکئی کی روٹی کھا رہی تھیں۔ انھوں نے ماں جی کے ہاتھ چومے اور مذاق میں پوچھا کہ اگر کچنر خود ہاتھ چومنا چاہتا تو کیا ہوتا۔ ماں جی نے کہا وہ اس کی مونچھیں اکھاڑ دیتیں، اور عبداللہ صاحب نے کہا وہ مونچھیں وائسرائے کو بھیج کر ماں جی کو لے کر بھاگ جاتے۔

تشریح (سوال 3)

تشریح میں پہلے حوالۂ متن، پھر سیاق و سباق اور آخر میں کم از کم تین پیراگراف کی تشریح لکھیں۔

6 marks
درج ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔ سبق کا نام اور مصنف کا نام بھی لکھیں۔

ماں جی نے اپنے باقی ماندہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سینے سے لگا لگا کر تلقین کی: "بچے! رونا مت۔ تمھارے ابا جی جس آرام سے سو رہے تھے، اسی آرام سے چلے گئے۔ اب رونا مت۔ ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔" کہنے کو تو ماں جی نے کہ دیا کہ اپنے ابا کی یاد میں نہ رونا، ورنہ ان کو تکلیف پہنچے گی لیکن کیا وہ خود چوری چھپے اس خاوند کی یاد میں نہ روئی ہوں گی جس نے باسٹھ سال کی عمر تک انھیں ایک الھڑ دلہن سمجھا اور جس نے گورنری کے علاوہ اور کوئی سوکن اس کے سر پر لا کر نہیں بٹھائی۔ جب وہ خود چل دیں تو اپنے بچوں کے لیے ایک سوالیہ نشان چھوڑ گئیں، جو قیامت تک انھیں عقیدت کے بیابان میں سر گرداں رکھے گا۔ اگر ماں جی کے نام پر خیرات کی جائے تو گیارہ پیسے سے زیادہ ہمت نہیں ہوتی، لیکن مسجد کا ملا پریشان ہے کہ بجلی کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور تیل کی قیمت گراں ہو گئی ہے۔

Solution
حوالۂ متن

سبق کا نام: ماں جی۔ مصنف کا نام: قدرت اللہ شہاب۔

سیاق و سباق

یہ اقتباس سبق کے آخری حصے سے لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مصنف بیان کرتے ہیں کہ ماں جی کی اولاد میں سے دو بیٹیاں اور بڑا بیٹا جوانی میں فوت ہو گئے۔ پھر باسٹھ سال کی عمر میں عبداللہ صاحب ایک سہ پہر گنا چوستے ہوئے، ماں جی سے گیارہ پیسوں کا مذاق کرتے کرتے، گاؤ تکیے پر ہمیشہ کی نیند سو گئے۔ اس اقتباس کے بعد مصنف بتاتے ہیں کہ ماں جی کے نام پر فاتحہ دی جائے تو مکئی کی روٹی اور چٹنی سامنے آتی ہے اور ان کی یاد میں رونے سے ڈر لگتا ہے کہ ان کی روح کو تکلیف نہ پہنچے۔

تشریح

اس اقتباس میں مصنف نے ماں جی کے صبر، ضبط اور اپنے شوہر سے گہری محبت کو بڑے دل گداز انداز میں بیان کیا ہے۔ عبداللہ صاحب کی وفات پر ماں جی نے اپنے باقی ماندہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سینے سے لگا کر تلقین کی کہ رونا مت، تمھارے ابا جی جس آرام سے سو رہے تھے اسی آرام سے چلے گئے، رونے سے ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی۔ یہ وہ عورت ہے جس نے بچپن سے فاقے، ہجرت، بے گھری اور اولاد کی موت جیسے دکھ جھیلے تھے، اور ہر دکھ کو صبر و شکر سے قبول کیا تھا۔ شوہر کی موت پر بھی اس نے اپنا غم بچوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا تاکہ وہ حوصلہ نہ ہاریں۔

مصنف ایک بیٹے کی حیثیت سے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ماں جی خود چوری چھپے اس خاوند کی یاد میں نہ روئی ہوں گی؟ عبداللہ صاحب نے باسٹھ سال کی عمر تک انھیں ایک الھڑ دلہن کی طرح چاہا، ان سے ہنسی مذاق کیا اور ان کی زندگی میں "گورنری" کے سوا کوئی سوکن نہیں آنے دی۔ یہاں مصنف نے گورنری والے اس لطیفے کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر ماں جی رشک و حسد میں جل گئی تھیں۔ گویا ایسے وفادار اور محبت کرنے والے شوہر کی جدائی پر رونا فطری تھا، مگر ماں جی نے اپنے آنسو بچوں سے چھپا لیے۔ یہ ضبط ہی ان کی عظمت ہے۔

پھر مصنف کہتے ہیں کہ ماں جی جب خود دنیا سے رخصت ہوئیں تو اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا سوالیہ نشان چھوڑ گئیں جو قیامت تک انھیں عقیدت کے بیابان میں بھٹکائے رکھے گا۔ یعنی ماں جی کی شخصیت اتنی سادہ مگر اتنی عظیم تھی کہ اولاد آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پاتی کہ ان کی یاد کو کس طرح منائے اور ان کا حق کیسے ادا کرے۔ ان کی سادگی اتنی گہری تھی کہ ان کے نام پر کوئی بڑا کام کرنا ان کے مزاج کے خلاف لگتا ہے۔

اسی لیے اقتباس کے آخر میں مصنف لکھتے ہیں کہ ماں جی کے نام پر خیرات کی جائے تو گیارہ پیسے سے زیادہ کی ہمت نہیں ہوتی۔ یہ وہی گیارہ پیسے ہیں جو ماں جی نے منگنی کے میلے میں عبداللہ صاحب سے مانگے تھے اور جن سے ساری عمر جمعرات کو مسجد میں تیل ڈالا۔ مصنف ہلکے طنز و مزاح سے کہتے ہیں کہ مسجد کا ملا پریشان ہے کہ بجلی کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور تیل مہنگا ہو گیا ہے۔ یعنی زمانہ بدل گیا مگر ماں جی کی سادگی اور قناعت کا معیار ان کی اولاد کے دل میں آج بھی وہی ہے۔ اس جملے میں غم اور مسکراہٹ ایک ساتھ موجود ہیں، جو شہاب کے اسلوب کی خوبی ہے۔

مختصر یہ کہ اس اقتباس میں ایک صابر، وفادار اور سادہ مزاج مشرقی عورت کی تصویر ہے جس نے اپنے دکھ کو بچوں کی ڈھال نہیں بننے دیا، اور جس کی یاد اولاد کے لیے عقیدت اور حیرت کا سرمایہ ہے۔

Exam focus

  1. سر سید اور عبداللہ صاحب والا اقتباس (long)
    سبق کا سب سے مشہور واقعہ؛ محاورے (ٹس سے مس نہ ہونا، آپے سے باہر ہونا) بھی اسی میں ہیں۔
    Go to answer
  2. لارڈ کچنر کی دعوت اور ماں جی کی سادگی (long)
    ماں جی کی سادگی اور غیرت ایک ہی پیراگراف میں؛ اقتباس کے لیے موزوں۔
    Go to answer
  3. عبداللہ صاحب کی وفات کے بعد کا اقتباس (تشریح) (long)
    جذباتی اور معنی خیز پیراگراف؛ گیارہ پیسوں اور سوکن کے اشارے سیاق و سباق مانگتے ہیں۔
    Go to answer
  4. ماں جی کی سیرت کے اہم پہلو (short)
    خلاصے یا کردار پر سوال میں یہی نکات لکھنے ہیں۔
    Go to answer

Mark this unit as done to fill the Class 12 Urdu ring.

Next, unit 14
Rustam aur Sohrab

© 2026 FBISE Fold. Independent study notes, not affiliated with the Federal Board of Intermediate and Secondary Education.