Kamal-e-Nafs aur Makarim-e-Akhlaq

کمالِ نفس اور مکارمِ اخلاق (صفی الرحمٰن مبارک پوری)

Class 12 Urdu, Prose 1

یہ حصہ نثر کا پہلا سبق ہے جو مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری کی کتاب "الرحیق المختوم" سے لیا گیا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کی فصاحت، حلم، سخاوت، شجاعت، حیا، صداقت، تواضع اور حسنِ معاشرت کو صحابہ کی روایات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہاں مصنف کا تعارف، ترتیب وار خلاصہ، اہم نکات کا جدول، دو امتحانی اقتباسات چھ چھ سوالات اور مکمل جوابات کے ساتھ، اور ایک نثر پارے کی مکمل تشریح دی گئی ہے۔

Learning outcomes (4)
  • کلام کو سن کر یا پڑھ کر مرکزی خیال اور سیاق و سباق سمجھ سکیں۔
  • سیرت نگاری کے اسلوب اور روایت کے ذریعے دلیل دینے کے انداز کو پہچان سکیں۔
  • سبق کے مشکل الفاظ اور تراکیب کے معنی سمجھ کر انھیں جملوں میں استعمال کر سکیں۔
  • نثر پارے کی تشریح حوالۂ متن اور سیاق و سباق کے ساتھ لکھ سکیں۔

مصنف کا تعارف: مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری (1943ء تا 2006ء)Often examined

مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری ایک سوانح نگار، عالم اور معروف مصنف تھے۔ وہ اتر پردیش (ہندوستان) کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے دادا جان اور چچا جان سے حاصل کی جو زیادہ تر فارسی، عربی اور قرآن مجید سے متعلق تھی۔ اس کے بعد باقاعدہ تعلیم کے لیے مدرسہ احیاء العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا۔

ان کی شہرۂ آفاق تصنیف "الرحیق المختوم" ہے جو سیرتِ رسول ﷺ یا حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں اور زاویوں پر مستند ترین دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب پہلے عربی میں لکھی گئی اور بعد میں مصنف نے خود ہی اس کا اردو ترجمہ کیا۔ رابطۂ عالمِ اسلامی مکہ کے زیرِ اہتمام 1979ء میں منعقدہ مقابلۂ سیرت النبی ﷺ میں اس کتاب کو دنیا بھر سے آئے ہوئے مقالات کے مقابلے میں پہلے انعام سے نوازا گیا۔

  • دیگر تصانیف: اسلام اور عدمِ تشدد، تذکرہ مولانا محمد بن عبدالوہاب، قادیانیت اپنے آئینے میں۔
  • فارسی اور عربی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔
  • تریسٹھ (63) سال کی عمر میں وفات پائی اور مبارک پور میں سپردِ خاک ہوئے۔
  • یہ سبق "الرحیق المختوم" سے لیا گیا ہے۔

سبق کا خلاصہOften examined

یہ سبق سیرت کا ایک باب ہے جس میں مصنف نے حضور اکرم ﷺ کے کمالِ نفس (ذاتی کمالات) اور مکارمِ اخلاق (اعلیٰ اخلاقی خوبیاں) کو احادیث اور صحابہ کرام کی روایات کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ ہر صفت کے ساتھ کوئی واقعہ یا روایت دی گئی ہے تاکہ بات محض دعویٰ نہ رہے بلکہ ثبوت کے ساتھ سامنے آئے۔

فصاحت و بلاغت

آپ ﷺ فصاحت و بلاغت میں سب سے بڑھ کر تھے۔ آپ ﷺ کو جوامع الکلام عطا ہوئے تھے یعنی تھوڑے لفظوں میں بہت سے معانی ادا کر دیتے تھے۔ آپ ﷺ عرب کے ہر قبیلے سے اسی کے لب و لہجے اور محاورے میں بات کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی گفتگو میں بدویوں کا زورِ بیان اور شہریوں کی شستگیِ الفاظ دونوں جمع تھے، اور اس کے پیچھے تائیدِ ربانی کارفرما تھی۔

حلم، بردباری اور عفو

آپ ﷺ نہایت حلیم اور بردبار تھے۔ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کو دو کاموں میں اختیار دیا جاتا تو آسان کام اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا، البتہ اللہ کی حرمت پامال کی جاتی تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ آپ ﷺ غیظ و غضب سے دور اور سب سے جلد راضی ہونے والے تھے۔

جود و کرم

آپ ﷺ کا جود و کرم بے مثال تھا۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ سب سے بڑھ کر سخی تھے اور رمضان میں، جب حضرت جبریلؑ آپ ﷺ سے ملاقات کرتے، آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتی تھی۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ آپ ﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ ﷺ نے "نہیں" کہا ہو، ایسا کبھی نہیں ہوا۔

شجاعت

آپ ﷺ سب سے زیادہ بہادر تھے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جب جنگ کی شدت بڑھ جاتی تو ہم رسول اللہ ﷺ کی آڑ لیتے تھے۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ ایک رات مدینہ والے ایک آواز سن کر گھبرا گئے۔ لوگ اس طرف چلے تو دیکھا کہ آپ ﷺ حضرت ابو طلحہؓ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار، گردن میں تلوار حمائل کیے، خبر لے کر واپس آ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: "ڈرو نہیں، ڈرو نہیں۔"

حیا

حضرت ابو سعید خدریؓ کے مطابق آپ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ نگاہ پست رکھتے اور کسی کی ناپسندیدہ بات پر اس کا نام لے کر نہیں ٹوکتے تھے بلکہ فرماتے: "لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسا کرتے ہیں۔" فرزدق کا شعر اسی صفت کی تصویر ہے کہ آپ ﷺ حیا کے سبب نگاہ نیچی رکھتے اور لوگ آپ ﷺ کی ہیبت کے سبب نگاہیں نیچی رکھتے۔

عدل، امانت اور صداقت

آپ ﷺ سب سے زیادہ عادل، پاک دامن، صادق اللہجہ اور عظیم الامانۃ تھے، اور اس کا اعتراف دوست دشمن سب کو تھا۔ نبوت سے پہلے آپ ﷺ کو امین کہا جاتا تھا اور دورِ جاہلیت میں لوگ اپنے مقدمات فیصلے کے لیے آپ ﷺ کے پاس لاتے تھے۔ ابو جہل نے کہا کہ ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ جو کچھ آپ لائے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں، اس پر سورۂ انعام کی آیت اتری۔ ہرقل کے پوچھنے پر ابو سفیان نے بھی گواہی دی کہ نبوت سے پہلے لوگ آپ ﷺ پر جھوٹ کا الزام نہیں لگاتے تھے۔

تواضع اور سادگی

آپ ﷺ سب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے دور تھے۔ صحابہ کو اپنے لیے کھڑے ہونے سے منع فرماتے، مسکینوں کی عیادت کرتے، فقرا کے ساتھ بیٹھتے اور غلام کی دعوت قبول کرتے۔ اپنا جوتا خود ٹانکتے، کپڑے خود سیتے، بکری خود دوہتے اور گھر کے کام اپنے ہاتھ سے کرتے۔ سفر میں بکری پکانے کے وقت آپ ﷺ نے لکڑیاں جمع کرنے کا کام اپنے ذمے لیا اور فرمایا کہ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندہ اپنے ساتھیوں میں خود کو ممتاز سمجھے۔

حسنِ معاشرت

آپ ﷺ عہد کی پابندی اور صلۂ رحمی میں سب سے بڑھ کر تھے۔ بد خلقی سے دور تھے، نہ لعنت کرتے، نہ بازار میں شور کرتے، نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے بلکہ معاف کر دیتے۔ خادم کو کبھی "اُف" تک نہ کہا۔ مسکینوں سے محبت کرتے، ان کے جنازوں میں شریک ہوتے اور کسی فقیر کو اس کے فقر کی وجہ سے حقیر نہ سمجھتے۔

حضرت ہندؓ کی زبانی اوصاف اور آپ ﷺ کی مجلس

حضرت ہندؓ بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ ہمیشہ غور و فکر میں رہتے، بلا ضرورت نہ بولتے، جامع اور دو ٹوک بات کرتے، نرم خو تھے، معمولی نعمت کی بھی تعظیم کرتے اور حق کو نقصان پہنچتا تو غضب ناک ہو جاتے۔ آپ ﷺ کی ہنسی زیادہ تر تبسم ہوتی اور مسکراتے تو دانت اولوں کی طرح چمکتے۔ آپ ﷺ مجلس میں جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے، ہر شخص پر برابر توجہ دیتے، کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔ آپ ﷺ کی مجلس حلم، حیا، صبر اور امانت کی مجلس تھی جس میں آوازیں بلند نہ ہوتیں اور فضیلت کا معیار صرف تقویٰ تھا۔

نتیجہ

حاصل یہ کہ آپ ﷺ بے نظیر صفاتِ کمال سے آراستہ تھے اور خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وانک لعلی خلق عظیم" (یقیناً آپ عظیم اخلاق پر ہیں)۔ انھی خوبیوں کی وجہ سے دل آپ ﷺ کی طرف کھنچے، قوم کی سختی نرمی میں بدلی اور لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے۔ مصنف کہتے ہیں کہ یہ تو آپ ﷺ کے کمال کی چند چھوٹی چھوٹی لکیریں ہیں، ورنہ آپ ﷺ کے شمائل و خصائل کی حقیقت تک رسائی ممکن نہیں، کیونکہ کتابِ الٰہی ہی آپ ﷺ کا خلق قرار پائی۔

اہم نکات: صفت اور اس کا ثبوت

امتحان میں "سیاق و سباق" یا مختصر سوال لکھتے ہوئے ہر صفت کے ساتھ اس کا راوی یا واقعہ لکھ دیں۔ یہی جواب کو سبق سے جوڑتا ہے۔

سبق میں بیان کردہ اوصاف
صفتروایت یا واقعہراوی یا گواہ
فصاحت و بلاغتجوامع الکلام؛ ہر قبیلے سے اس کے محاورے میں باتمصنف کا بیان
حلم و عفودو کاموں میں آسان کام چننا؛ ذاتی انتقام نہ لیناحضرت عائشہؓ
سخاوترمضان میں تیز ہوا سے بڑھ کر سخاوتحضرت ابن عباسؓ
سخاوتکبھی کسی سائل کو "نہیں" نہ کہاحضرت جابرؓ
شجاعتجنگ میں صحابہ آپ ﷺ کی آڑ لیتےحضرت علیؓ
شجاعترات کے خطرے میں ابو طلحہؓ کے گھوڑے پر سب سے پہلے پہنچنا، "ڈرو نہیں"حضرت انسؓ
حیاکنواری پردہ نشین سے زیادہ حیا؛ نام لے کر نہ ٹوکناحضرت ابو سعید خدریؓ
صداقت و امانتامین کا لقب؛ "ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے"ابو جہل، ابو سفیان (ہرقل کے دربار میں)
تواضعجوتا ٹانکنا، کپڑے سینا، بکری دوہناحضرت عائشہؓ
مساواتسفر میں لکڑیاں جمع کرناسبق کا واقعہ
مجلس کے آدابجہاں جگہ ملی بیٹھ گئے؛ سب پر برابر توجہحضرت ہندؓ
وقارمجلس میں پاؤں نہ پھیلاناحضرت خارجہ بن زیدؓ

Key terms

ایذا رسانی
تکلیف دینا۔
پست نگاہ
نیچی نظریں کر کے۔
جزالت
روانی، کثرت۔
جود و کرم
بخشش اور مہربانی۔
حلیم
اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام، بردبار۔
خود سری
اپنے آپ کو بہتر سمجھنا، ضدی، مغرور، خود پسند۔
شمائل
وضع قطع، حلیہ، عادات۔
غیظ و غضب
شدید غصہ۔
بردباری
برداشت، تحمل۔
تائیدِ ربانی
رب کی تائید۔
تلوار حمائل کرنا
تلوار گلے میں لٹکانا۔
جوامع الکلام
کلام جس کے بہت سے معانی ہوں۔
حاشیہ بردار
درباری، نوکر۔
خصائل
عادتیں، کردار۔
شستگیِ الفاظ
الفاظ کی پاکیزگی، سلیس، رواں۔
صادق اللہجہ
لہجے کے اعتبار سے سچا۔

اقتباسات اور سوالات (سوال 2، حصہ نثر)

دونوں اقتباسات سبق کے ان حصوں سے لیے گئے ہیں جو امتحان میں سب سے زیادہ متوقع ہیں۔ ہر جز 3 نمبر کا ہے۔ جواب میں اقتباس کے ساتھ سبق کا سیاق بھی شامل کریں۔

18 marks
درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیں اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب لکھیں۔

آپ ﷺ سب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے دور تھے۔ جس طرح بادشاہوں کے لیے ان کے خدام و حاشیہ بردار کھڑے رہتے ہیں اس طرح اپنے لیے آپ ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کو کھڑے ہونے سے منع فرماتے تھے۔ مسکینوں کی عیادت کرتے تھے، فقرا کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے، غلام کی دعوت منظور فرماتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم میں کسی امتیاز کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے جوتے خود ٹانکتے تھے، اپنے کپڑے خود سیتے تھے اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کام کرتے تھے جیسے تم میں سے کوئی آدمی اپنے گھر کے کام کاج کرتا ہے۔ آپ ﷺ بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ اپنی بکری خود دوہتے اور اپنا کام خود کرتے تھے۔ آپ ﷺ سب سے بڑھ کر عہد کی پابندی اور صلۂ رحمی فرماتے تھے۔ لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ شفقت و رحم و مروت سے پیش آتے تھے۔ رہائش اور ادب میں سب سے اچھے تھے۔

سوالات
  1. (i)یہ اقتباس کس سبق سے لیا گیا ہے، اس کے مصنف کون ہیں اور سبق کس کتاب سے ماخوذ ہے؟ اقتباس سبق کے کس حصے سے تعلق رکھتا ہے؟
  2. (ii)آپ ﷺ صحابہ کو اپنے لیے کھڑے ہونے سے کیوں منع فرماتے تھے؟ سبق کے کسی اور واقعے سے اس رویے کی تائید کریں۔
  3. (iii)حضرت عائشہؓ نے آپ ﷺ کے گھریلو معمولات کے بارے میں کیا بتایا ہے؟ اس سے کیا سبق ملتا ہے؟
  4. (iv)اقتباس اور سبق کی روشنی میں آپ ﷺ کے غریبوں اور کمزوروں کے ساتھ سلوک پر نوٹ لکھیں۔
  5. (v)درج ذیل کے معنی لکھیں اور جمع یا واحد بتائیں: (الف) حاشیہ بردار (ب) فقرا (ج) خدام۔ نیز "صلۂ رحمی" کون سی ترکیب ہے؟
  6. (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
Solution
(i) یہ اقتباس کس سبق سے لیا گیا ہے، اس کے مصنف کون ہیں اور سبق کس کتاب سے ماخوذ ہے؟ اقتباس سبق کے کس حصے سے تعلق رکھتا ہے؟

یہ اقتباس سبق "کمالِ نفس اور مکارمِ اخلاق" سے لیا گیا ہے جس کے مصنف مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری ہیں۔ یہ سبق ان کی شہرۂ آفاق سیرت "الرحیق المختوم" سے ماخوذ ہے۔

سبق میں پہلے آپ ﷺ کی فصاحت، حلم، سخاوت، شجاعت، حیا اور صداقت کا ذکر ہے۔ یہ اقتباس اس کے بعد کا حصہ ہے جہاں مصنف آپ ﷺ کی تواضع، سادگی اور حسنِ معاشرت بیان کرتے ہیں۔

(ii) آپ ﷺ صحابہ کو اپنے لیے کھڑے ہونے سے کیوں منع فرماتے تھے؟ سبق کے کسی اور واقعے سے اس رویے کی تائید کریں۔

بادشاہوں کے دربار میں خادم اور حاشیہ بردار ان کی تعظیم میں کھڑے رہتے ہیں۔ آپ ﷺ متواضع اور تکبر سے دور تھے، اس لیے یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ ﷺ کو بادشاہوں کی طرح دوسروں سے بلند اور ممتاز سمجھا جائے۔

سبق میں سفر کا واقعہ اسی کی تائید کرتا ہے: جب بکری پکانے کا کام بانٹا گیا تو آپ ﷺ نے لکڑیاں جمع کرنے کا کام اپنے ذمے لیا اور فرمایا کہ اللہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ بندہ خود کو اپنے رفقا سے ممتاز سمجھے۔ حضرت ہندؓ کی روایت کے مطابق بھی آپ ﷺ مجلس میں جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے اور اپنے لیے کوئی امتیازی جگہ مقرر نہ فرماتے۔

(iii) حضرت عائشہؓ نے آپ ﷺ کے گھریلو معمولات کے بارے میں کیا بتایا ہے؟ اس سے کیا سبق ملتا ہے؟

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنے جوتے خود ٹانکتے، کپڑے خود سیتے، بکری خود دوہتے اور گھر کے کام اسی طرح اپنے ہاتھ سے کرتے جیسے کوئی عام آدمی اپنے گھر کا کام کاج کرتا ہے۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا کوئی عیب نہیں بلکہ سنت ہے۔ بڑا مرتبہ رکھنے والا انسان بھی دوسروں پر بوجھ نہ بنے اور گھر والوں کا ہاتھ بٹائے۔ "آپ ﷺ بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے" کہہ کر مصنف بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ کا یہ عمل ہمارے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔

(iv) اقتباس اور سبق کی روشنی میں آپ ﷺ کے غریبوں اور کمزوروں کے ساتھ سلوک پر نوٹ لکھیں۔

اقتباس کے مطابق آپ ﷺ مسکینوں کی عیادت کرتے، فقرا کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور غلام کی دعوت بھی قبول فرما لیتے۔ صحابہ میں ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے۔

سبق میں آگے بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ مسکینوں سے محبت کرتے، ان کے جنازوں میں شریک ہوتے، کسی فقیر کو اس کے فقر کی وجہ سے حقیر نہ سمجھتے اور اپنے خادم کو کبھی "اُف" تک نہ کہا۔ یوں آپ ﷺ نے عملاً ثابت کیا کہ انسان کی عزت دولت سے نہیں، تقویٰ سے ہے۔

(v) درج ذیل کے معنی لکھیں اور جمع یا واحد بتائیں: (الف) حاشیہ بردار (ب) فقرا (ج) خدام۔ نیز "صلۂ رحمی" کون سی ترکیب ہے؟

(الف) حاشیہ بردار: درباری، نوکر، ہر وقت ساتھ رہنے والا خادم (فرہنگ)۔ اس کی جمع "حاشیہ برداران" ہے۔

(ب) فقرا: فقیر کی جمع (جمع مکسر)، یعنی محتاج اور غریب لوگ۔

(ج) خدام: خادم کی جمع (جمع مکسر)، یعنی خدمت کرنے والے۔

صلۂ رحمی مرکبِ اضافی (ترکیبِ اضافی) ہے: "صلہ" مضاف اور "رحم" مضاف الیہ، درمیان کا ہمزہ اضافت کی علامت ہے۔ معنی: رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔

(vi) اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔

مرکزی خیال: حضور اکرم ﷺ سراپا تواضع اور سادگی تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے لیے کوئی شاہانہ امتیاز پسند نہ کیا، غریبوں اور غلاموں کو برابر کی عزت دی اور گھر کے کام اپنے ہاتھ سے کیے۔ یہ سیرت ہمیں عاجزی، خود انحصاری اور حسنِ سلوک کا درس دیتی ہے۔

تلخیص: آپ ﷺ تکبر سے دور اور سب سے زیادہ متواضع تھے۔ صحابہ کو اپنی تعظیم میں کھڑے ہونے سے روکتے، مسکینوں کی عیادت کرتے، فقرا کے ساتھ بیٹھتے اور غلام کی دعوت قبول کرتے۔ حضرت عائشہؓ کے مطابق آپ ﷺ اپنے جوتے ٹانکتے، کپڑے سیتے اور بکری دوہتے تھے۔ آپ ﷺ عہد کے پابند، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنے والے اور لوگوں سے شفقت اور مروت سے پیش آنے والے تھے۔

18 marks
درج ذیل اقتباس کو غور سے پڑھیں اور آخر میں دیے گئے سوالات کے جواب لکھیں۔

آئیے! ذرا ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی رسول اللہ ﷺ کے اوصاف سنیں۔ حضرت ہند رضی اللہ عنہ اپنی ایک طویل روایت میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ ہمیشہ غور و فکر فرماتے رہتے تھے۔ بلا ضرورت نہ بولتے تھے۔ دیر تک خاموش رہتے تھے، از اول تا آخر بات پورے منہ سے کرتے تھے یعنی صرف منہ کے کنارے سے نہ بولتے تھے۔ جامع اور دو ٹوک کلمات کہتے تھے جن میں نہ فضول گوئی ہوتی تھی نہ کوتاہی۔ نرم خو تھے۔ نعمت معمولی بھی ہوتی تو اس کی تعظیم کرتے تھے۔ کسی چیز کی مذمت نہیں فرماتے تھے۔ حق کو کوئی نقصان پہنچتا تو جب تک انتقام نہ لے لیتے آپ ﷺ کے غضب کو روکا نہ جا سکتا تھا۔ جب آپ ﷺ اشارہ فرماتے تو پوری ہتھیلی سے اشارہ فرماتے اور تعجب کے وقت ہتھیلی پلٹتے۔ آپ ﷺ کی بیشتر ہنسی تبسم کی صورت میں تھی، مسکراتے تو دانت اولوں کی طرح چمکتے۔ ساتھیوں کو جوڑتے تھے، توڑتے نہ تھے۔ ہر قوم کے معزز آدمی کی تکریم فرماتے تھے اور اسی کو ان کا والی بناتے تھے۔

سوالات
  1. (i)حضرت ہندؓ کی روایت سبق میں کس مقصد کے لیے لائی گئی ہے؟ سبق کے عنوان سے اس کا تعلق واضح کریں۔
  2. (ii)آپ ﷺ کے انداز گفتگو کی کون سی خصوصیات اقتباس میں بیان ہوئی ہیں؟ سبق میں "جوامع الکلام" کے ذکر سے انھیں جوڑیں۔
  3. (iii)"حق کو کوئی نقصان پہنچتا تو ... غضب کو روکا نہ جا سکتا تھا" اس جملے کو سبق میں حلم اور عفو کے بیان سے ملا کر سمجھائیں۔
  4. (iv)آپ ﷺ کی ہنسی اور اشارے کا انداز کیسا تھا؟ اس سے آپ ﷺ کی شخصیت کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟
  5. (v)متضاد لکھیں: جوڑنا، معزز، تبسم۔ اور "خاتم النبیین" کی ترکیب واضح کریں۔
  6. (vi)اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔
Solution
(i) حضرت ہندؓ کی روایت سبق میں کس مقصد کے لیے لائی گئی ہے؟ سبق کے عنوان سے اس کا تعلق واضح کریں۔

سبق میں مصنف پہلے اپنی زبان سے آپ ﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہیں، پھر "آئیے! ذرا ہند رضی اللہ عنہ کی زبانی" کہہ کر ایک صحابی کی چشم دید گواہی پیش کرتے ہیں تاکہ بیان مستند ہو جائے۔

عنوان "کمالِ نفس اور مکارمِ اخلاق" کے دونوں حصے اس روایت میں موجود ہیں: غور و فکر، خاموشی، جامع کلام اور وقار کمالِ نفس ہیں، جبکہ نرم خوئی، ساتھیوں کو جوڑنا اور معزز لوگوں کی تکریم مکارمِ اخلاق ہیں۔

(ii) آپ ﷺ کے انداز گفتگو کی کون سی خصوصیات اقتباس میں بیان ہوئی ہیں؟ سبق میں "جوامع الکلام" کے ذکر سے انھیں جوڑیں۔

اقتباس کے مطابق آپ ﷺ بلا ضرورت نہیں بولتے تھے، دیر تک خاموش رہتے، بات پورے منہ سے کرتے، اور جامع اور دو ٹوک کلمات کہتے جن میں نہ فضول گوئی ہوتی نہ کوتاہی۔

سبق کے آغاز میں مصنف نے بتایا ہے کہ آپ ﷺ فصاحت و بلاغت میں سب سے بڑھ کر تھے اور آپ ﷺ کو "جوامع الکلام" عطا ہوئے تھے یعنی کم الفاظ میں زیادہ معانی۔ حضرت ہندؓ کا "جامع اور دو ٹوک کلمات" کہنا اسی صفت کی گواہی ہے۔

(iii) "حق کو کوئی نقصان پہنچتا تو ... غضب کو روکا نہ جا سکتا تھا" اس جملے کو سبق میں حلم اور عفو کے بیان سے ملا کر سمجھائیں۔

سبق میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی انتقام نہیں لیا اور غیظ و غضب سے دور تھے۔ بظاہر یہ جملہ اس کے الٹ لگتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ آپ ﷺ کا غصہ ذاتی معاملے میں نہیں بلکہ حق اور اللہ کی حرمت کے لیے ہوتا تھا۔

یعنی اپنی ذات کے لیے حلم اور معافی، اور حق کی پامالی پر غیرت۔ یہی توازن آپ ﷺ کے کامل اخلاق کی دلیل ہے۔

(iv) آپ ﷺ کی ہنسی اور اشارے کا انداز کیسا تھا؟ اس سے آپ ﷺ کی شخصیت کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے؟

آپ ﷺ کی زیادہ تر ہنسی تبسم (مسکراہٹ) کی صورت میں ہوتی تھی اور مسکراتے تو دانت اولوں کی طرح چمکتے۔ اشارہ کرتے تو پوری ہتھیلی سے کرتے اور تعجب کے وقت ہتھیلی پلٹتے۔

اس سے آپ ﷺ کا وقار اور سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نہ قہقہہ لگاتے نہ انگلی سے حقارت آمیز اشارہ کرتے۔ سبق میں فرزدق کا شعر بھی یہی بتاتا ہے کہ آپ ﷺ سے گفتگو اسی وقت ہوتی جب آپ ﷺ تبسم فرما رہے ہوں۔

(v) متضاد لکھیں: جوڑنا، معزز، تبسم۔ اور "خاتم النبیین" کی ترکیب واضح کریں۔

جوڑنا کا متضاد توڑنا؛ معزز کا متضاد ذلیل (یا حقیر)؛ تبسم کا متضاد گریہ (رونا)۔

خاتم النبیین عربی مرکبِ اضافی ہے: "خاتم" (ختم کرنے والا، مہر) مضاف اور "النبیین" (نبیوں کی جمع) مضاف الیہ۔ معنی: نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے یعنی آخری نبی ﷺ۔

(vi) اقتباس کا مرکزی خیال لکھیں یا تلخیص کریں۔

مرکزی خیال: حضرت ہندؓ کی گواہی کے مطابق حضور ﷺ کی گفتگو جامع اور باوقار، مزاج نرم اور غصہ صرف حق کے لیے تھا۔ آپ ﷺ لوگوں کو جوڑنے والے اور ہر ایک کو اس کا مقام دینے والے تھے۔

تلخیص: حضرت ہندؓ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ غور و فکر میں رہتے، بے ضرورت نہ بولتے اور جامع، دو ٹوک بات کرتے۔ نرم خو تھے، معمولی نعمت کی بھی قدر کرتے اور کسی چیز کی برائی نہ کرتے، البتہ حق کو نقصان پہنچتا تو غضب ناک ہوتے۔ آپ ﷺ پوری ہتھیلی سے اشارہ کرتے، زیادہ تر مسکراتے، ساتھیوں کو جوڑتے اور ہر قوم کے معزز آدمی کی عزت کر کے اسے ان کا سردار بناتے۔

تشریح (سوال 3)

نثر پارے کی تشریح 6 نمبر کی ہوتی ہے۔ حوالۂ متن، سیاق و سباق اور تشریح تینوں حصے الگ عنوانات کے ساتھ لکھیں۔

6 marks
درج ذیل نثر پارے کی تشریح کریں۔ سبق اور مصنف کا نام بھی لکھیں۔

کسی فقیر کو اس کے فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ ﷺ سفر میں تھے۔ ایک بکری کاٹنے پکانے کا مشورہ ہوا۔ ایک نے کہا: ذبح کرنا میرے ذمے۔ دوسرے نے کہا: کھال اتارنا میرے ذمے۔ تیسرے نے کہا: پکانا میرے ذمے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ایندھن کی لکڑیاں جمع کرنا میرے ذمے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم آپ ﷺ کا کام کر دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ تم لوگ میرا کام کر دو گے لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کروں کیوں کہ اللہ اپنے بندے کی یہ حرکت ناپسند فرماتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنے رفقا سے ممتاز سمجھے۔" اس کے بعد آپ ﷺ نے اٹھ کر لکڑیاں جمع فرمائیں۔

Solution
حوالۂ متن

سبق: کمالِ نفس اور مکارمِ اخلاق

مصنف: مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری (ماخذ: الرحیق المختوم)

سیاق و سباق

اس سبق میں مصنف نے احادیث اور صحابہ کی روایات کی روشنی میں حضور اکرم ﷺ کے اوصاف بیان کیے ہیں: فصاحت، حلم، سخاوت، شجاعت، حیا، صداقت اور امانت۔ اس کے بعد آپ ﷺ کی تواضع کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ صحابہ کو اپنے لیے کھڑے ہونے سے منع کرتے، اپنے جوتے خود ٹانکتے اور اپنی بکری خود دوہتے۔ پھر مصنف بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ بد خلقی سے دور تھے، خادم کو کبھی "اُف" نہ کہا اور مسکینوں سے محبت کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں یہ واقعہ آتا ہے۔ اس کے بعد حضرت ہندؓ کی زبانی آپ ﷺ کے اوصاف اور آپ ﷺ کی مجلس کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔

تشریح

اس نثر پارے میں مصنف نے حضور اکرم ﷺ کی مساوات پسندی اور عاجزی کو ایک چھوٹے سے مگر بہت جامع واقعے کے ذریعے دکھایا ہے۔ آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کسی فقیر کو اس کے فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ یعنی آپ ﷺ کی نگاہ میں انسان کی قدر اس کی دولت یا حیثیت سے نہیں تھی۔

پھر سفر کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ ساتھیوں نے کھانا تیار کرنے کے لیے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور ہر شخص نے ایک کام اپنے ذمے لے لیا: کسی نے ذبح کرنا، کسی نے کھال اتارنا اور کسی نے پکانا۔ آپ ﷺ چاہتے تو سب کچھ دوسروں پر چھوڑ سکتے تھے، کیونکہ صحابہ آپ ﷺ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ مگر آپ ﷺ نے ایندھن کی لکڑیاں جمع کرنے کی مشقت والی ذمہ داری خود لی۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم آپ ﷺ کا کام بھی کر دیں گے، تو آپ ﷺ نے جو جواب دیا وہ اس نثر پارے کا مرکز ہے: "میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کروں کیوں کہ اللہ اپنے بندے کی یہ حرکت ناپسند فرماتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنے رفقا سے ممتاز سمجھے۔"

اس جملے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ قیادت کا مطلب آرام اور برتری نہیں بلکہ ساتھیوں کے ساتھ برابر کی محنت ہے۔ دوسری یہ کہ خود کو دوسروں سے بالاتر سمجھنا تکبر ہے جو اللہ کو ناپسند ہے۔ یہی بات سبق میں پہلے بھی آئی ہے کہ آپ ﷺ صحابہ کو اپنے لیے کھڑا ہونے سے منع کرتے اور ان کے درمیان کسی امتیاز کے بغیر عام آدمی کی طرح بیٹھتے تھے۔ آپ ﷺ نے صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے یہ تعلیم دی، اسی لیے نثر پارہ اس جملے پر ختم ہوتا ہے کہ "اس کے بعد آپ ﷺ نے اٹھ کر لکڑیاں جمع فرمائیں۔"

مصنف کا اسلوب سادہ اور بیانیہ ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملے ("ذبح کرنا میرے ذمے"، "کھال اتارنا میرے ذمے") منظر کو آنکھوں کے سامنے لے آتے ہیں اور حدیث کے الفاظ بیان کو مستند بناتے ہیں۔ یہ واقعہ آج کے افسروں، اساتذہ، والدین اور ہر رہنما کے لیے پیغام ہے کہ عزت عاجزی اور مل جل کر کام کرنے سے ملتی ہے۔ سبق کے آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ انھی خوبیوں کی وجہ سے دل آپ ﷺ کی طرف کھنچ آئے، اور اللہ نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا: "وانک لعلی خلق عظیم"۔

Exam focus

  1. تواضع والا اقتباس (جوتے ٹانکنا، کپڑے سینا) اور اس کا مرکزی خیال (long)
    سبق کا سب سے مانوس حصہ؛ اقتباس اور تشریح دونوں کے لیے موزوں۔
    Go to answer
  2. حضرت ہندؓ کی روایت: گفتگو، تبسم اور مجلس (long)
    کتاب کی مشق کا سوال "مجالس کی کیفیت" اسی حصے سے ہے۔
    Go to answer
  3. شجاعت اور سخاوت کے واقعات (حضرت انسؓ، حضرت ابن عباسؓ) (short)
    کتاب کی مشق کے مختصر سوالات (ہ، و، ز) انھی پر ہیں۔
    Go to answer
  4. مصنف اور ماخذ: صفی الرحمٰن مبارک پوری، الرحیق المختوم (mcq)
    کتاب کے MCQ میں ماخذ پوچھا گیا ہے اور حوالۂ متن میں لازمی ہے۔
    Go to answer
  5. نبوت سے پہلے لقب "امین" اور دانت "اولوں کی طرح" چمکنا (mcq)
    کتاب کی مشق کے MCQ (iv) اور (v)۔
    Go to answer

Mark this unit as done to fill the Class 12 Urdu ring.

Next, unit 12
Mehshar

© 2026 FBISE Fold. Independent study notes, not affiliated with the Federal Board of Intermediate and Secondary Education.