Letters, tehniyat namay, invitations and essays

خطوط، تہنیت نامے، دعوت نامے، ای میل اور مضامین (نمونوں کے ساتھ)

Class 12 Urdu, Writing

یہ حصہ پرچے کے سوال 6 (خط یا تہنیت نامہ، 8 نمبر) اور سوال 7 (مضمون، 12 نمبر) کی مکمل تیاری کے لیے ہے۔ پہلے رسمی اور غیر رسمی خط، تہنیت نامے، دعوت نامے اور ای میل کی بناوٹ دی گئی ہے، پھر ماڈل پیپر اور 2026 کے پرچوں کے موضوعات پر مکمل نمونے، اور آخر میں مضمون نویسی کا طریقہ اور پانچ مکمل مضامین۔

رسمی خط کی بناوٹ (مدیر یا افسر کے نام)Often examined

سوال 6 میں عام طور پر ایک رسمی خط (اخبار کے مدیر یا کسی سرکاری افسر کے نام) اور ایک تہنیت نامہ دیا جاتا ہے اور ان میں سے ایک لکھنا ہوتا ہے۔ اس کے 8 نمبر ہیں۔ رسمی خط کی ترتیب مقرر ہے اور ممتحن سب سے پہلے یہی ترتیب دیکھتا ہے، اس لیے اسے پوری طرح یاد کر لیں۔

رسمی خط کے آٹھ حصے
حصہکیا لکھیںمثال
1. القاب و پتا (دائیں طرف اوپر)جسے خط لکھا جا رہا ہے اس کا عہدہ، ادارہ اور شہربخدمت جناب مدیرِ اعلیٰ صاحب، روزنامہ "جنگ"، اسلام آباد
2. موضوعایک سطر میں خط کا عنوانموضوع: بڑھتی ہوئی مہنگائی
3. تخاطبرسمی آدابجنابِ عالی! / محترم مدیر صاحب!
4. تمہیدخط لکھنے کی وجہ، ایک دو جملوں میںآپ کے مؤقر اخبار کی وساطت سے میں ارباب اختیار کی توجہ ... کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔
5. نفسِ مضمونمسئلہ، اس کے اسباب اور اثرات، دو تین پیراگراف میںشہر کی صورت حال، عوام کی مشکلات، ذمہ دار عوامل
6. مطالبات / تجاویزتین چار نکات، ترتیب وارمیری گزارش ہے کہ: (1) ... (2) ... (3) ...
7. اختتامی جملہامید یا شکریہامید ہے آپ اس خط کو اپنے اخبار میں جگہ دیں گے۔
8. خاتمہ (بائیں طرف نیچے)والسلام، اختتامی الفاظ، نام، پتا، تاریخوالسلام / آپ کا مخلص / الف ب ج / امتحانی مرکز / تاریخ

غیر رسمی خط کی بناوٹ (عزیزوں اور دوستوں کے نام)Often examined

غیر رسمی یا نجی خط گھر والوں، رشتے داروں اور دوستوں کو لکھا جاتا ہے۔ اس کا لہجہ بے تکلف اور اپنائیت بھرا ہوتا ہے، مگر ترتیب پھر بھی مقرر ہے۔ تہنیت نامہ اور دعوت نامہ بھی اسی ترتیب کی شاخیں ہیں۔

غیر رسمی خط کے سات حصے
حصہکیا لکھیںمثال
1. مقام اور تاریخ (دائیں طرف اوپر)جہاں سے خط لکھا جا رہا ہے اور تاریخامتحانی مرکز، اسلام آباد / 15 مارچ 2026
2. القابرشتے کے مطابقبڑوں کے لیے: محترم بھائی جان / قبلہ چچا جان؛ چھوٹوں کے لیے: عزیزم / پیارے بھائی؛ دوست کے لیے: پیارے دوست
3. آدابسلام یا دعاالسلام علیکم! / خوش رہو! / آداب!
4. تمہیدخیریت اور خط کی وجہامید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کا خط ملا ...
5. نفسِ مضموناصل بات، دو تین پیراگرافنصیحت، مبارک باد، دعوت یا حال احوال
6. اختتامگھر والوں کو سلام، دعا، جواب کی درخواستامی ابو کو سلام کہنا۔ جواب جلد دینا۔
7. خاتمہ (بائیں طرف نیچے)رشتے کے مطابق اختتامی الفاظ اور نامآپ کا چھوٹا بھائی / تمہارا خیر خواہ / تمہارا دوست، الف ب ج
رشتے کے مطابق القاب و خاتمہ
کس کوالقاباختتامی الفاظ
والد / والدہقبلہ ابو جان / امی جانآپ کا تابع دار بیٹا / آپ کی پیاری بیٹی
بڑا بھائی / بہنمحترم بھائی جان / آپا جانآپ کا چھوٹا بھائی
چھوٹا بھائی / بہنعزیزم / پیاری بہنتمہارا خیر خواہ بھائی
چچا / ماموںقبلہ چچا جان / ماموں جانآپ کا بھتیجا / بھانجا
دوستپیارے دوست / عزیز دوستتمہارا مخلص دوست

تہنیت نامہ، دعوت نامہ اور ای میل کی بناوٹ

تہنیت نامہ

تہنیت نامہ مبارک باد کا خط ہے جو کسی کی کامیابی یا خوشی (امتحان میں کامیابی، نئی ملازمت، شادی، نیا گھر، نئی گاڑی) پر لکھا جاتا ہے۔ اس کی بناوٹ غیر رسمی خط والی ہے، مگر اس کا ہر جملہ خوشی اور مبارک باد کے گرد گھومتا ہے۔

  1. مقام اور تاریخ، القاب اور آداب۔
  2. پہلے ہی جملے میں خبر ملنے کی خوشی اور دلی مبارک باد۔
  3. کامیابی کی تعریف اور اس کے پیچھے کی محنت کا ذکر۔
  4. گھر والوں کی خوشی کا بیان اور اس کامیابی کی اہمیت۔
  5. آئندہ کے لیے نیک تمنائیں اور دعا (کوئی موزوں شعر ہو تو اور اچھا)۔
  6. سلام، دعا اور رشتے کے مطابق خاتمہ۔

دعوت نامہ

دعوت نامہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک رسمی دعوت نامہ (کارڈ) جس میں صرف تقریب کی ضروری معلومات ہوتی ہیں، اور دوسرا نجی دعوتی خط جو کسی عزیز یا دوست کو اپنائیت سے لکھا جاتا ہے۔

دعوت نامے کی دو صورتیں
رسمی دعوت نامہ (کارڈ) میںنجی دعوتی خط میں
دعوت دینے والے کا نامالقاب، آداب اور خیریت
تقریب کی نوعیت (شادی، عقیقہ، سالانہ تقریب)تقریب کی خبر اور خوشی کا اظہار
تاریخ، دن اور وقتتاریخ، وقت اور جگہ
مقام (پورا پتا)آنے پر اصرار اور پروگرام کی تفصیل
منجانب اور "آپ کی شرکت باعثِ مسرت ہوگی"سلام اور خاتمہ

ای میل

ای میل جدید دور کا خط ہے۔ اس میں تاریخ اور پتا لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیوں کہ یہ خود بخود درج ہو جاتے ہیں، مگر بھیجنے والے، وصول کنندہ اور موضوع کے خانے لازمی ہیں۔

ای میل کے خانے
خانہکیا لکھیں
بنام (To)وصول کنندہ کا ای میل پتا
منجانب (From)اپنا ای میل پتا (امتحان میں فرضی، جیسے abc@example.com)
موضوع (Subject)چند الفاظ میں خط کا مقصد
تخاطب اور متنرسمی ای میل میں "محترم ...!" اور مختصر، واضح پیراگراف
خاتمہوالسلام، نام اور ضرورت ہو تو فون نمبر

رسمی خطوط کے مکمل نمونےOften examined

ذیل کے چاروں رسمی خطوط ماڈل پیپر اور 2026 کے پرچوں میں آئے ہوئے موضوعات پر ہیں۔ ہر خط 8 نمبر کے لیے کافی طوالت کا ہے۔

نمونہ 1: مدیر کے نام خط، بڑھتی ہوئی مہنگائی (2026، سیٹ B)

بخدمت جناب مدیرِ اعلیٰ صاحب

روزنامہ "جنگ"، اسلام آباد

موضوع: بڑھتی ہوئی مہنگائی

جنابِ عالی!

آپ کے مؤقر اخبار کی وساطت سے میں ارباب اختیار کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس نے ہر گھر کا سکون چھین لیا ہے، اور وہ ہے روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی۔

آٹا، چینی، گھی، دالیں اور سبزیاں، غرض روزمرہ استعمال کی ہر چیز کی قیمت چند مہینوں میں کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ ایک مزدور اور تنخواہ دار شخص کی آمدنی وہیں کی وہیں ہے مگر اخراجات ہر مہینے بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ سفید پوش گھرانے بچوں کی فیسیں، دوائیں اور دو وقت کی روٹی پوری کرنے سے بھی قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔

اس مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے۔ بعض تاجر اشیا گوداموں میں چھپا کر مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں اور پھر من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں بازاروں میں نظر نہیں آتیں اور سرکاری نرخ نامے صرف کاغذوں تک محدود ہیں۔

میری حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ:

  1. ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
  2. ہر دکان پر سرکاری نرخ نامہ آویزاں کرنا لازمی ہو اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں باقاعدگی سے بازاروں کا معائنہ کریں۔
  3. یوٹیلیٹی سٹورز پر بنیادی اشیا رعایتی نرخوں پر وافر مقدار میں فراہم کی جائیں۔
  4. کم آمدنی والے طبقے کی تنخواہوں اور امدادی رقوم میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

امید ہے آپ میرے اس خط کو اپنے اخبار میں جگہ دے کر عوام کی آواز ارباب اختیار تک پہنچائیں گے۔

والسلام

آپ کا مخلص

الف ب ج

امتحانی مرکز، اسلام آباد

تاریخ: 15 مارچ 2026

نمونہ 2: مدیر کے نام خط، بڑھتی ہوئی بے روزگاری (2026، سیٹ D)

بخدمت جناب مدیرِ اعلیٰ صاحب

روزنامہ "نوائے وقت"، اسلام آباد

موضوع: بڑھتی ہوئی بے روزگاری

جنابِ عالی!

میں آپ کے کثیر الاشاعت اخبار کے ذریعے حکام بالا کی توجہ نوجوانوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بے روزگاری کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو آج ہمارے معاشرے کا سب سے سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر تعلیمی اداروں سے نکلتے ہیں مگر ان کے لیے ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چند آسامیوں کے لیے ہزاروں درخواستیں آتی ہیں اور سفارش کے بغیر نوکری ملنا خواب بن گیا ہے۔ مایوس ہو کر بہت سے نوجوان بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ جرائم، منشیات اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔

اس مسئلے کی بڑی وجوہات میں صنعتوں کا جمود، آبادی میں تیز اضافہ، تعلیمی نظام کا بازار کی ضرورتوں سے ہم آہنگ نہ ہونا اور فنی تعلیم کی کمی شامل ہیں۔

میری حکومت سے گزارش ہے کہ:

  1. نئی صنعتیں لگانے اور بند کارخانے چلانے کے لیے سرمایہ کاروں کو سہولتیں دی جائیں۔
  2. ہر ضلع میں فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ادارے قائم کیے جائیں۔
  3. نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں۔
  4. سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کا عمل صرف میرٹ پر اور شفاف بنایا جائے۔

امید ہے آپ اس خط کو شائع کر کے نوجوانوں کی آواز ارباب اختیار تک پہنچائیں گے۔

والسلام

آپ کا خیر اندیش

الف ب ج

امتحانی مرکز، اسلام آباد

تاریخ: 15 مارچ 2026

نمونہ 3: مدیر کے نام خط، ٹریفک کے مسائل (2026، سیٹ A)

بخدمت جناب مدیرِ اعلیٰ صاحب

روزنامہ "ایکسپریس"، اسلام آباد

موضوع: شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل

جنابِ عالی!

آپ کے مؤقر اخبار کی وساطت سے میں متعلقہ حکام کی توجہ شہر میں ٹریفک کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی طرف دلانا چاہتا ہوں جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

صبح اور شام کے اوقات میں شہر کی بڑی شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ دفتر جانے والے، طلبہ اور مریض گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ کئی بار ایمبولینس کو بھی راستہ نہیں ملتا۔ بغیر لائسنس کے کم عمر ڈرائیور، اشارہ توڑنا، غلط سمت سے گاڑی چلانا اور سڑکوں پر تجاوزات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ان بے احتیاطیوں کے باعث آئے دن حادثات ہوتے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ دھویں اور شور نے فضا کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔

اس صورت حال کی وجوہات میں گاڑیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی، پارکنگ کی جگہوں کا فقدان اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں نرمی شامل ہیں۔

میری متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ:

  1. ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز بھاری جرمانے کیے جائیں اور کم عمر ڈرائیوروں پر پابندی سختی سے نافذ ہو۔
  2. آرام دہ اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کا دائرہ بڑھایا جائے۔
  3. سڑکوں سے تجاوزات ختم کی جائیں اور بازاروں کے قریب پارکنگ پلازے بنائے جائیں۔
  4. سکولوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ٹریفک قوانین سے آگاہی کی مہم چلائی جائے۔

امید ہے آپ اس خط کو اپنے اخبار میں نمایاں جگہ دیں گے۔

والسلام

آپ کا مخلص

الف ب ج

امتحانی مرکز، اسلام آباد

تاریخ: 15 مارچ 2026

نمونہ 4: ناظم اعلیٰ کے نام خط، پینے کے صاف پانی کی فراہمی (ماڈل پیپر)

بخدمت جناب ناظمِ اعلیٰ صاحب

میونسپل کارپوریشن، اسلام آباد

موضوع: پینے کے صاف پانی کی فراہمی

جنابِ عالی!

گزارش ہے کہ میں آپ کی توجہ اپنے علاقے میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے ہمارے محلے میں نلکوں میں پانی یا تو آتا ہی نہیں یا اتنا گدلا اور بدبودار آتا ہے کہ پینا تو درکنار، نہانے دھونے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ معلوم ہوا ہے کہ پانی کی پرانی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں اور ان میں گندے نالوں کا پانی شامل ہو رہا ہے۔ اس آلودہ پانی کے باعث علاقے میں ہیضہ، اسہال اور یرقان جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ غریب گھرانے مہنگے داموں ٹینکر یا بوتلوں کا پانی خریدنے پر مجبور ہیں جو ان کی استطاعت سے باہر ہے۔

آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ:

  1. علاقے کی خستہ پائپ لائنیں فوری طور پر تبدیل کی جائیں۔
  2. پانی کی فراہمی کا باقاعدہ نظام الاوقات مقرر کیا جائے۔
  3. علاقے میں فلٹریشن پلانٹ لگایا جائے اور پانی کا باقاعدہ لیبارٹری معائنہ ہو۔
  4. مرمت مکمل ہونے تک سرکاری ٹینکروں کے ذریعے مفت صاف پانی مہیا کیا جائے۔

امید ہے آپ اس مسئلے پر فوری توجہ فرما کر اہلِ علاقہ کو اس اذیت سے نجات دلائیں گے۔ اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔

العارض

الف ب ج

منجانب اہلِ محلہ، امتحانی مرکز، اسلام آباد

تاریخ: 15 مارچ 2026

غیر رسمی خط کا مکمل نمونہ

نمونہ 5: چھوٹے بھائی کے نام خط، پڑھائی پر توجہ کی نصیحت

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

عزیزم احمد!

خوش رہو!

کل امی جان کا فون آیا تو معلوم ہوا کہ تمہارے ششماہی امتحان کے نتائج اچھے نہیں آئے اور آج کل تمہارا زیادہ وقت موبائل فون اور دوستوں کے ساتھ گزرتا ہے۔ یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا، کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ تم ذہین ہو اور محنت کرو تو کسی سے پیچھے نہیں رہ سکتے۔

پیارے بھائی! یہ عمر بنیاد رکھنے کی عمر ہے۔ جو وقت آج گزر رہا ہے وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔ موبائل فون اور کھیل بری چیز نہیں، مگر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اپنے لیے ایک نظام الاوقات بنا لو جس میں پڑھائی، نماز، کھیل اور آرام سب کا وقت مقرر ہو۔ روزانہ کا سبق اسی دن یاد کر لیا کرو تاکہ امتحان کے دنوں میں بوجھ نہ بنے۔ جو بات سمجھ نہ آئے وہ اپنے استاد سے بلا جھجک پوچھ لیا کرو۔

دوستوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کرو۔ اچھا دوست انسان کو آگے لے جاتا ہے اور برا دوست پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ ابو جان دن رات محنت کر کے ہماری تعلیم کا خرچ اٹھاتے ہیں؛ ہماری کامیابی ہی ان کی محنت کا صلہ ہے۔

مجھے یقین ہے کہ تم میری باتوں پر عمل کرو گے اور سالانہ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے سب کا سر فخر سے بلند کرو گے۔ امی ابو کو میرا سلام کہنا اور خط کا جواب جلد دینا۔

تمہارا خیر خواہ بھائی

الف ب ج

تہنیت ناموں کے مکمل نمونےOften examined

ذیل کے پانچ تہنیت نامے ماڈل پیپر اور 2026 کے تینوں سیٹوں میں آئے ہوئے موضوعات پر ہیں۔ ہر ایک میں القاب اور خاتمہ رشتے کے مطابق بدلا گیا ہے۔

تہنیت نامہ 1: بھائی کو امتحان میں کامیابی پر (2026، سیٹ B)

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

پیارے بھائی عمر!

خوش رہو!

ابھی ابھی امی جان کا فون آیا اور انھوں نے یہ خوش خبری سنائی کہ تم نے میٹرک کا امتحان اے ون گریڈ میں پاس کر لیا ہے۔ یہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میری طرف سے دلی مبارک باد قبول کرو۔

مجھے یاد ہے کہ تم نے امتحان کی تیاری کے دنوں میں کس قدر محنت کی تھی۔ راتوں کو دیر تک پڑھنا، صبح سویرے اٹھ کر دہرائی کرنا اور کھیل کود کو کچھ عرصے کے لیے چھوڑ دینا آسان نہ تھا۔ آج تمہاری اسی محنت کا پھل تمہارے سامنے ہے۔ ابو جان بتا رہے تھے کہ سارا خاندان تمہاری تعریف کر رہا ہے اور دادی جان نے تو محلے بھر میں مٹھائی بانٹ دی ہے۔

یہ کامیابی ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ اب تم کالج میں قدم رکھو گے جہاں مقابلہ اور بھی سخت ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ تم اسی لگن سے آگے بڑھتے رہو گے اور ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹو گے۔

ایک بار پھر ڈھیروں مبارک باد۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ امی ابو کو سلام کہنا۔

تمہارا بڑا بھائی

الف ب ج

تہنیت نامہ 2: بڑے بھائی کو نئی ملازمت ملنے پر (2026، سیٹ D)

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

محترم بھائی جان!

السلام علیکم!

آج صبح ابو جان سے یہ خوش خبری سن کر دل باغ باغ ہو گیا کہ آپ کو ایک معروف ادارے میں انجینئر کی ملازمت مل گئی ہے۔ میری طرف سے اس شان دار کامیابی پر دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔

بھائی جان! میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ آپ نے ڈگری مکمل کرنے کے بعد کتنی جگہ درخواستیں دیں، کتنے امتحان اور انٹرویو دیے اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔ آج اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس ثابت قدمی کا بہترین صلہ دیا ہے۔ امی جان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور وہ بار بار شکرانے کے نفل ادا کر رہی تھیں۔

آپ ہمیشہ سے میرے لیے مثال رہے ہیں اور آج آپ کی کامیابی نے میرا حوصلہ اور بڑھا دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی دیانت داری اور محنت سے اس ادارے میں بھی جلد نمایاں مقام حاصل کریں گے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نئی ذمہ داری میں کامیاب فرمائے اور رزقِ حلال میں برکت دے۔ پہلی تنخواہ پر دعوت کا وعدہ یاد رکھیے گا!

آپ کا چھوٹا بھائی

الف ب ج

تہنیت نامہ 3: چچا جان کو نئی گاڑی خریدنے پر (2026، سیٹ A)

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

قبلہ چچا جان!

السلام علیکم!

کل شام ابو جان نے بتایا کہ آپ نے نئی گاڑی خرید لی ہے۔ یہ خبر سن کر ہم سب کو بے حد خوشی ہوئی۔ میری اور گھر کے سب افراد کی طرف سے دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔

چچا جان! ہمیں معلوم ہے کہ آپ کافی عرصے سے گاڑی لینے کا سوچ رہے تھے اور اس کے لیے آپ نے بڑی کفایت شعاری سے بچت کی تھی۔ آج آپ کا یہ خواب پورا ہوا ہے۔ اب چچی جان اور بچوں کو بازار اور سکول آنے جانے میں آسانی ہوگی اور آپ کو دفتر جانے کے لیے بسوں کے انتظار کی زحمت سے نجات مل جائے گی۔

میں نے سنا ہے کہ گاڑی کا رنگ سفید ہے اور یہ نیا ماڈل ہے۔ میں تو اسے دیکھنے کے لیے بے تاب ہوں۔ امید ہے آپ گرمیوں کی چھٹیوں میں اسی گاڑی پر ہم سے ملنے آئیں گے اور ہمیں بھی سیر کرائیں گے۔

دعا ہے کہ یہ گاڑی آپ کے لیے باعثِ آرام و برکت ہو اور اللہ تعالیٰ آپ کو ہر سفر میں اپنی حفاظت میں رکھے۔ چچی جان کو سلام اور بچوں کو پیار۔

آپ کا بھتیجا

الف ب ج

تہنیت نامہ 4: دوست کو امتحان میں شان دار کامیابی پر (ماڈل پیپر)

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

پیارے دوست حسن!

السلام علیکم!

آج کے اخبار میں انٹرمیڈیٹ کے نتائج دیکھے تو تمہارا نام اول آنے والے طلبہ کی فہرست میں جگمگا رہا تھا۔ یقین مانو، میں نے یہ خبر کئی بار پڑھی اور ہر بار خوشی دوگنی ہو گئی۔ اس شان دار کامیابی پر میری طرف سے دلی مبارک باد قبول کرو۔

دوست! تم نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلسل محنت اور اچھی منصوبہ بندی سے کوئی منزل دور نہیں۔ ہم سب نے دیکھا تھا کہ تم کس طرح وقت کی پابندی کرتے تھے، ہر مضمون کے نوٹس خود بناتے تھے اور کمزور ساتھیوں کی مدد بھی کرتے تھے۔ تمہاری یہ کامیابی نہ صرف تمہارے گھر والوں بلکہ ہمارے پورے کالج کے لیے باعثِ فخر ہے۔

مجھے یقین ہے کہ تم آگے بھی اسی طرح کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے رہو گے۔ بقول اقبال:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ایک بار پھر ڈھیروں مبارک باد۔ انکل آنٹی کو میرا سلام کہنا اور جلد ملاقات کا وقت نکالنا، مٹھائی ادھار ہے!

تمہارا مخلص دوست

الف ب ج

تہنیت نامہ 5: بہن کو شادی پر

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

پیاری آپا جان!

السلام علیکم!

امتحانات کی وجہ سے میں آپ کی شادی کی تقریب میں شریک نہ ہو سکا جس کا مجھے عمر بھر افسوس رہے گا۔ مگر دل سے میں ہر لمحہ آپ کے ساتھ تھا۔ اس مبارک موقع پر میری طرف سے دلی مبارک باد قبول فرمائیں۔

امی جان نے فون پر بتایا کہ رخصتی کا منظر بہت جذباتی تھا اور سب کی آنکھیں نم تھیں۔ آپ کے بغیر گھر سونا سونا لگتا ہوگا۔ آپ نے ہمیشہ ہم چھوٹے بہن بھائیوں کا ماں کی طرح خیال رکھا، ہماری پڑھائی میں مدد کی اور ہماری ہر شرارت پر پردہ ڈالا۔ آپ کی یہ محبت ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔

سنا ہے بھائی جان (دولہا) نہایت شریف، تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق انسان ہیں اور آپ کے سسرال والے بھی بہت محبت کرنے والے ہیں۔ یہ جان کر دل کو بڑا اطمینان ہوا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے اور آپ کی نئی زندگی کو خوشیوں اور برکتوں سے بھر دے۔ امتحان ختم ہوتے ہی آپ سے ملنے آؤں گا۔ بھائی جان کو میرا سلام کہیے گا۔

آپ کا چھوٹا بھائی

الف ب ج

دعوت ناموں کے نمونے

دعوت نامہ 1: شادی کا رسمی دعوت نامہ (کارڈ)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم و مکرم جناب ...... صاحب

السلام علیکم!

بفضلِ تعالیٰ ہمارے صاحب زادے محمد علی (ابنِ محمد اکرم) کی شادی خانہ آبادی بہمراہ بنتِ جناب عبدالرشید صاحب طے پائی ہے۔

اس پُر مسرت موقع پر آپ کو مع اہل و عیال شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

پروگرام:

بارات: بروز ہفتہ، 4 اپریل 2026، وقت روانگی: سہ پہر 3 بجے

دعوتِ ولیمہ: بروز اتوار، 5 اپریل 2026، وقت: دوپہر 1 بجے

مقام: النور شادی ہال، سیکٹر جی الیون، اسلام آباد

آپ کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ مسرت و افتخار ہوگی۔

منجانب: محمد اکرم اور جملہ اہلِ خانہ

رابطہ: 0300-0000000

دعوت نامہ 2: دوست کو سال گرہ کی تقریب میں بلانے کا خط

امتحانی مرکز، اسلام آباد

15 مارچ 2026

پیارے دوست فیصل!

السلام علیکم!

امید ہے تم خیریت سے ہو گے اور تمہارے امتحانات بھی اچھے ہو رہے ہوں گے۔ تمہیں یہ جان کر خوشی ہوگی کہ اگلے جمعے، 27 مارچ کو میری چھوٹی بہن کی سال گرہ ہے اور امی ابو نے اس موقع پر گھر میں ایک چھوٹی سی تقریب رکھی ہے۔

تقریب شام 6 بجے شروع ہوگی۔ کیک کاٹنے کے بعد کھانا ہوگا اور پھر ہم سب دوست مل کر بیت بازی کا مقابلہ کریں گے جس میں تم ہمیشہ بازی لے جاتے ہو۔ کالج کے پرانے دوست بھی آ رہے ہیں، اس لیے یہ ایک اچھی ملاقات بھی ہو جائے گی۔

میری اور گھر والوں کی خواہش ہے کہ تم ضرور تشریف لاؤ۔ تمہارے بغیر یہ محفل ادھوری رہے گی۔ گھر کا پتا تو تمہیں معلوم ہی ہے، پھر بھی راستے میں کوئی دقت ہو تو فون کر لینا۔

انکل آنٹی کو میرا سلام کہنا۔ تمہارے آنے کا شدت سے انتظار رہے گا۔

تمہارا مخلص دوست

الف ب ج

ای میل کا نمونہ

ای میل: کالج کے پرنسپل کو کھیلوں کے میدان کی مرمت کی درخواست

بنام: principal@college.edu.pk

منجانب: student.abc@example.com

موضوع: کھیلوں کے میدان کی مرمت

محترم پرنسپل صاحب!

السلام علیکم!

میں آپ کی توجہ کالج کے کھیلوں کے میدان کی خستہ حالت کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ میدان میں جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے ہیں، گھاس سوکھ چکی ہے اور بارش کے بعد کئی دن تک پانی کھڑا رہتا ہے۔ اس وجہ سے کئی طلبہ کو کھیلتے ہوئے چوٹیں آ چکی ہیں۔

سالانہ کھیلوں کے مقابلے قریب ہیں اور ٹیموں کو مشق کے لیے محفوظ جگہ کی ضرورت ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ میدان کی ہمواری، گھاس لگانے اور نکاسی آب کا بندوبست جلد کرا دیا جائے۔ طلبہ اس کام میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

آپ کی توجہ کا شکریہ۔

والسلام

الف ب ج، جماعت بارھویں (پری انجینئرنگ)

مضمون نویسی کا طریقہOften examined

سوال 7 میں چار موضوعات میں سے ایک پر مضمون لکھنا ہوتا ہے اور اس کے 12 نمبر ہیں، جو پرچے میں کسی ایک سوال کے سب سے زیادہ نمبر ہیں۔ مضمون 400 سے 500 الفاظ کا ہو اور اسے لکھنے سے پہلے دو منٹ میں خاکہ بنا لیں۔

خاکہ

مضمون کا خاکہ
حصہکیا لکھیںطوالت
تمہیدموضوع کا تعارف، اس کی اہمیت؛ کسی شعر، قول یا سوال سے آغازایک پیراگراف (60 سے 80 الفاظ)
نفسِ مضمونتین سے پانچ ذیلی سرخیاں، ہر سرخی کے نیچے ایک پیراگراف: تعریف، اسباب، اثرات، مثالیں، حل280 سے 340 الفاظ
اشعار و اقوالدو یا تین برمحل اشعار، کوئی آیت کا مفہوم، حدیث یا قائد اعظم کا قولمضمون کے بیچ میں موزوں جگہ
اختتامیہخلاصہ، پیغام یا تجاویز؛ آخر میں شعرایک پیراگراف (50 سے 70 الفاظ)

مضمون کی اقسام (فریم ورک کے مطابق)

بیانیہ مضمون
کسی واقعے، منظر، سفر یا شخصیت کو ترتیب سے بیان کیا جاتا ہے، جیسے "کسی تاریخی مقام کی سیر"۔ زور منظر کشی اور ترتیب پر ہوتا ہے۔
مدلل مضمون
ایک مؤقف اختیار کر کے اسے دلائل، مثالوں اور حوالوں سے ثابت کیا جاتا ہے، جیسے "برداشت اور رواداری: پُر امن معاشرے کی ضمانت"۔
بحثی مضمون
موضوع کے دونوں پہلو (حق اور مخالفت) پیش کر کے آخر میں متوازن نتیجہ نکالا جاتا ہے، جیسے "سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلو"۔
تفصیلی مضمون
کسی موضوع کے تمام پہلوؤں (تعریف، اقسام، اسباب، اثرات، حل) کا جامع احاطہ، جیسے "موسمیاتی تبدیلیاں اور ان کے اثرات"۔
تحقیقی و تنقیدی مضمون
حقائق، اعداد و شمار اور حوالوں کی مدد سے کسی مسئلے کا تجزیہ اور اس پر رائے، جیسے "بدعنوانی کے اسباب اور سدِ باب"۔

مضمون 1: سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوOften examined

تمہید

موجودہ دور کو اطلاعات کا دور کہا جاتا ہے اور اس دور کی سب سے نمایاں پہچان سوشل میڈیا ہے۔ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور ایکس جیسے پلیٹ فارموں نے دنیا کو واقعی ایک گاؤں بنا دیا ہے۔ آج ایک عام آدمی بھی چند لمحوں میں اپنی بات لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ مگر ہر ایجاد کی طرح سوشل میڈیا بھی دو دھاری تلوار ہے جس کا فائدہ یا نقصان اس کے استعمال پر منحصر ہے۔

مثبت پہلو

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ فوری رابطہ ہے۔ بیرونِ ملک مقیم عزیزوں سے ویڈیو کال پر بات کرنا اب معمولی بات ہے۔ تعلیم کے میدان میں یہ ایک کھلی درس گاہ بن گیا ہے؛ طلبہ آن لائن لیکچر سنتے، سوال پوچھتے اور مفت کتابیں حاصل کرتے ہیں۔ چھوٹے کاروباری افراد اور گھریلو خواتین اپنی مصنوعات آن لائن فروخت کر کے روزگار کما رہے ہیں۔ قدرتی آفات میں امداد جمع کرنے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں بھی اس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

منفی پہلو

اس کا تاریک رخ بھی کم خطرناک نہیں۔ جھوٹی خبریں اور افواہیں یہاں آگ کی طرح پھیلتی ہیں اور معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہیں۔ نوجوان گھنٹوں سکرین کے سامنے بیٹھ کر قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں جس سے ان کی پڑھائی اور صحت متاثر ہوتی ہے۔ نیند کی کمی، آنکھوں کی کمزوری، تنہائی اور احساسِ کمتری عام ہو رہے ہیں۔ ذاتی معلومات کی چوری، آن لائن دھوکا دہی اور دوسروں کی کردار کشی نے بھی سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے بے خبر اپنے اپنے موبائل میں گم رہتے ہیں۔ اقبال نے مشینوں کے بارے میں جو کہا تھا وہ آج اور بھی سچ لگتا ہے:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
علامہ محمد اقبال
درست استعمال کے اصول

سوشل میڈیا کو چھوڑنا حل نہیں بلکہ اسے سلیقے سے برتنا ضروری ہے۔ روزانہ استعمال کا وقت مقرر کیا جائے، کوئی خبر آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کی جائے، اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر احتیاط سے شیئر کی جائیں اور دوسروں کے بارے میں وہی لکھا جائے جو ہم اپنے بارے میں سننا پسند کریں۔

اختتامیہ

خلاصہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا؛ یہ ایک آلہ ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم اسے علم، رابطے اور بھلائی کے لیے استعمال کریں تو یہ ترقی کی سیڑھی ہے، اور اگر وقت ضائع کرنے اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کریں تو یہ تباہی کا راستہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم سکرین سے نظر ہٹا کر اپنے آپ کو بھی پہچانیں:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
علامہ محمد اقبال

مضمون 2: موسمیاتی تبدیلیاں اور ان کے اثراتOften examined

تمہید

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ایک خاص توازن کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ موسموں کا آنا جانا، بارشوں کا برسنا اور دریاؤں کا بہنا سب اسی توازن کا حصہ ہیں۔ مگر انسان نے ترقی کی دوڑ میں اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور آج موسمیاتی تبدیلی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بے وقت بارشیں، شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی اسی بگاڑ کی علامتیں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کیا ہے؟

کسی علاقے کے درجۂ حرارت، بارش اور ہواؤں کے طویل مدتی معمول میں مستقل تبدیلی کو موسمیاتی تبدیلی کہتے ہیں۔ آج کل اس سے مراد زیادہ تر عالمی حدت یعنی زمین کے اوسط درجۂ حرارت میں اضافہ ہے۔

اسباب

اس کا بڑا سبب کارخانوں، گاڑیوں اور بجلی گھروں میں کوئلے، تیل اور گیس کا بے تحاشا استعمال ہے جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسیں فضا میں جمع ہو کر گرمی کو زمین پر روک لیتی ہیں۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے اس مسئلے کو دوچند کر دیا ہے، کیوں کہ درخت ہی ان گیسوں کو جذب کرتے ہیں۔ آبادی میں اضافہ، شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور کچرے کو جلانا بھی اس کے اسباب میں شامل ہیں۔

اثرات

عالمی حدت کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ کہیں طوفانی بارشیں تباہی مچاتی ہیں تو کہیں برسوں بارش نہیں ہوتی۔ فصلیں متاثر ہونے سے غذائی قلت پیدا ہوتی ہے اور گرمی کی لہر سے انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ پاکستان اس کی واضح مثال ہے۔ عالمی آلودگی میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، مگر ہم سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہیں۔ 2022 کے سیلاب نے ملک کے ایک بڑے حصے کو ڈبو دیا اور تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔ یہ تباہی اچانک نہیں آئی، برسوں کی غفلت کا نتیجہ تھی:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
قابل اجمیری
تدارک

اس خطرے سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر کوشش ضروری ہے۔ بڑے پیمانے پر شجر کاری کی جائے اور جنگلات کی کٹائی روکی جائے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کو فروغ دیا جائے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم بنائے جائیں اور سیلابی علاقوں میں تعمیرات پر پابندی ہو۔ انفرادی طور پر ہم بجلی اور پانی کی بچت، پلاسٹک کے کم استعمال اور پبلک ٹرانسپورٹ کو اپنا کر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

اختتامیہ

موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک کا نہیں، پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے آج فطرت کا احترام نہ سیکھا تو آنے والی نسلوں کو ایک غیر محفوظ دنیا ورثے میں ملے گی۔ فطرت کا قانون اٹل ہے اور وہ قوموں کی اجتماعی غلطیاں معاف نہیں کرتی:

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
علامہ محمد اقبال

مضمون 3: برداشت اور رواداریOften examined

تمہید

انسان معاشرتی حیوان ہے اور مل جل کر رہنا اس کی فطرت ہے۔ مگر جہاں بہت سے لوگ اکٹھے رہتے ہیں وہاں رائے، عقیدے، زبان اور مزاج کا اختلاف بھی فطری ہے۔ اس اختلاف کو دشمنی بننے سے جو چیز روکتی ہے اسے برداشت اور رواداری کہتے ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جو ایک ہجوم کو قوم بناتی ہے۔

برداشت اور رواداری کا مفہوم

برداشت کا مطلب ہے ناگوار بات یا مخالف رائے کو تحمل سے سننا اور غصے میں آ کر ردِ عمل نہ دینا۔ رواداری اس سے ایک قدم آگے ہے؛ یعنی دوسروں کے عقیدے، رائے اور طرزِ زندگی کا احترام کرنا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھنا، چاہے ہم ان سے متفق نہ ہوں۔

اسلامی تعلیمات

اسلام برداشت اور رواداری کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔ قرآنِ مجید نے واضح فرمایا کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے طائف میں پتھر کھا کر بھی بددعا نہیں دی اور فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے بدترین دشمنوں کو یہ کہہ کر معاف کر دیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ طاقت ور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔

قائد اعظم کا تصور

قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب میں فرمایا تھا کہ اس ریاست میں ہر شہری اپنی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہے۔ گویا پاکستان کی بنیاد ہی رواداری اور سب شہریوں کے برابر حقوق پر رکھی گئی تھی۔

عدم برداشت کے اسباب اور نقصانات

آج ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ معمولی بات پر جھگڑا، سیاسی اور مسلکی اختلاف پر نفرت اور کردار کشی عام ہیں۔ اس کے اسباب میں جہالت، تعصب، انصاف کی کمی اور اشتعال انگیز تقریریں شامل ہیں۔ عدم برداشت گھروں کو توڑتی، معاشرے کو تقسیم کرتی اور ملک کی ترقی کو روکتی ہے۔ حالانکہ ہم سب کا نفع نقصان ایک ہے:

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک
علامہ محمد اقبال
فروغ کے طریقے

برداشت کی تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے؛ والدین بچوں کے سامنے تحمل کا عملی نمونہ پیش کریں۔ نصاب میں رواداری کے اسباق شامل ہوں اور اساتذہ مکالمے کی فضا پیدا کریں۔ علما اور ذرائع ابلاغ نفرت کے بجائے محبت کا پیغام دیں، اور ریاست قانون کی بالا دستی یقینی بنائے تاکہ کوئی خود منصف نہ بنے۔

اختتامیہ

برداشت کم زوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ جو معاشرہ اختلاف کو احترام سے برتنا سیکھ لیتا ہے وہی امن اور ترقی کی منزل پاتا ہے۔ انسان کی تخلیق کا مقصد ہی دوسروں کا درد محسوس کرنا ہے:

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
خواجہ میر درد

مضمون 4: بدعنوانی کے اسباب اور سدِ بابOften examined

تمہید

کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے دیانت داری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس معاشرے میں امانت اور دیانت ختم ہو جائے وہاں قانون کم زور، ادارے کھوکھلے اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔ بدعنوانی ایک ایسی دیمک ہے جو اندر ہی اندر قوموں کو چاٹ جاتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی اس مرض میں بری طرح مبتلا ہے۔

بدعنوانی کا مفہوم

اپنے عہدے، اختیار یا اعتماد کو ذاتی فائدے کے لیے ناجائز طور پر استعمال کرنا بدعنوانی کہلاتا ہے۔ رشوت، سفارش، اقربا پروری، سرکاری خزانے میں خرد برد، ناجائز کمیشن، ٹیکس چوری، ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی سب اس کی مختلف شکلیں ہیں۔

اسباب
  • احتساب کا کم زور نظام: جب بدعنوان سزا سے بچ نکلیں تو دوسروں کا حوصلہ بھی بڑھتا ہے۔
  • مادہ پرستی: راتوں رات امیر بننے کی خواہش اور نمود و نمائش کی دوڑ۔
  • کم تنخواہیں اور مہنگائی: بعض لوگ ضرورت کو جواز بنا کر ناجائز راستہ اختیار کرتے ہیں۔
  • پیچیدہ سرکاری طریقۂ کار: فائلوں کا لمبا سفر رشوت اور سفارش کے دروازے کھولتا ہے۔
  • اخلاقی تربیت کی کمی: گھر اور تعلیمی ادارے کردار سازی پر کم توجہ دیتے ہیں۔
نقصانات

بدعنوانی سے قومی دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے اور ترقیاتی منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ میرٹ کا قتل ہوتا ہے اور قابل نوجوان مایوس ہو کر ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، غربت بڑھتی ہے اور عوام کا ریاستی اداروں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ اسلام نے اسی لیے اسے سخت گناہ قرار دیا ہے؛ رسولِ اکرم ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔

سدِ باب

بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے احتساب کا ایسا آزاد اور بلا امتیاز نظام قائم کیا جائے جس میں بڑا چھوٹا سب برابر ہوں۔ سرکاری کاموں کو آن لائن اور شفاف بنایا جائے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو۔ ملازمین کو معقول تنخواہیں دی جائیں اور بھرتیاں صرف میرٹ پر ہوں۔ ذرائع ابلاغ بدعنوانی کو بے نقاب کریں اور عوام ہر سطح پر رشوت دینے سے انکار کریں۔ سب سے بڑھ کر گھروں، مسجدوں اور درس گاہوں میں دیانت داری کی تربیت دی جائے، کیوں کہ اصل تبدیلی کردار سے آتی ہے:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
علامہ محمد اقبال
اختتامیہ

بدعنوانی کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر شخص اپنے دائرے میں دیانت دار نہیں بنے گا، کوئی قانون اس مرض کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکتا۔ تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنی ذات سے کرنا ہوگا:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
مولانا ظفر علی خان

مضمون 5: میڈیا لٹریسی: اہمیت و ثمراتOften examined

تمہید

آج ہم معلومات کے سیلاب میں جی رہے ہیں۔ ٹیلی وژن، اخبارات، ویب سائٹیں اور سوشل میڈیا ہر لمحے خبروں، تبصروں اور اشتہارات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ ان میں سچ بھی ہے اور جھوٹ بھی، خبر بھی ہے اور پروپیگنڈا بھی۔ اس ہجوم میں سچ اور جھوٹ کو الگ کرنے کی صلاحیت کا نام میڈیا لٹریسی ہے، اور یہ آج کے دور کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہوگا
سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا
علامہ محمد اقبال
میڈیا لٹریسی کیا ہے؟

میڈیا لٹریسی سے مراد ذرائع ابلاغ کے پیغامات کو سمجھنے، پرکھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور خود ذمہ داری سے پیغام تیار کرنے کی صلاحیت ہے۔ میڈیا خواندہ شخص ہر خبر کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتا بلکہ پوچھتا ہے کہ یہ پیغام کس نے بنایا، کیوں بنایا، اس میں کیا چھپایا گیا ہے اور اس کا ذریعہ کتنا معتبر ہے۔

اہمیت

جعلی خبریں اور افواہیں معاشرے میں خوف، نفرت اور انتشار پھیلاتی ہیں۔ ایک جھوٹی پوسٹ فساد کا سبب بن سکتی ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی جعلی تصاویر اور ویڈیوز نے سچ اور جھوٹ کا فرق اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں میڈیا لٹریسی ہی وہ ڈھال ہے جو فرد کو دھوکے سے بچاتی ہے۔ ہمارا دین بھی یہی سکھاتا ہے؛ قرآنِ مجید کا حکم ہے کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، اور رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔

ثمرات
  • باشعور شہری: لوگ پروپیگنڈے کا شکار ہونے کے بجائے دلیل کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں۔
  • سماجی ہم آہنگی: افواہیں آگے نہ بڑھیں تو نفرت اور فرقہ واریت کم ہوتی ہے۔
  • تعلیمی فائدہ: طلبہ معتبر ذرائع سے تحقیق کرنا اور حوالہ دینا سیکھتے ہیں۔
  • معاشی تحفظ: آن لائن فراڈ اور جعلی اشتہارات سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
  • ذمہ دار صارف: ہر شخص خود بھی سچی اور مفید بات شیئر کرنے کا عادی بنتا ہے۔
فروغ کے طریقے

میڈیا لٹریسی کو نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور طلبہ کو عملی مشقوں کے ذریعے خبر کی تصدیق کا طریقہ سکھایا جائے۔ ذرائع ابلاغ غلط خبر کی فوراً تصحیح کریں۔ ہر فرد یہ اصول اپنا لے کہ تصدیق سے پہلے کوئی بات آگے نہیں بھیجے گا۔

اختتامیہ

جس طرح پچھلے زمانے میں پڑھنا لکھنا خواندگی کہلاتا تھا، اسی طرح آج میڈیا کو سمجھنا اصل خواندگی ہے۔ ہمارے نوجوان اگر یہ ہنر سیکھ لیں تو وہ نہ صرف خود دھوکے سے بچیں گے بلکہ معاشرے کو بھی سچ کی روشنی دکھائیں گے:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
علامہ محمد اقبال

مضمون: آخری مشورے

Exam focus

  1. مدیر کے نام خط: مہنگائی، بے روزگاری یا ٹریفک کے مسائل (long)
    2026 کے تینوں سیٹوں میں سوال 6 کا خط مدیر کے نام تھا۔
    Go to answer
  2. تہنیت نامہ: امتحان میں کامیابی، نئی ملازمت یا نئی گاڑی پر (long)
    ماڈل پیپر اور 2026 کے ہر سیٹ میں خط کا متبادل تہنیت نامہ تھا۔
    Go to answer
  3. مضمون: موسمیاتی تبدیلیاں اور ان کے اثرات (long)
    ماڈل پیپر اور 2026 کے تینوں سیٹوں میں شامل۔
    Go to answer
  4. مضمون: بدعنوانی کے اسباب اور سدِ باب (long)
    ماڈل پیپر اور 2026 کے دو سیٹوں میں شامل۔
    Go to answer
  5. مضمون: سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلو (long)
    ماڈل پیپر اور 2026 کے دو سیٹوں میں شامل۔
    Go to answer
  6. رسمی خط کے آٹھ حصے اور القاب و خاتمہ (short)
    ترتیب غلط ہو تو اچھے متن کے باوجود نمبر کٹتے ہیں۔
    Go to answer

Mark this unit as done to fill the Class 12 Urdu ring.

Next, unit 3
Grammar: plurals, compounds, idioms and correct sentences

© 2026 FBISE Fold. Independent study notes, not affiliated with the Federal Board of Intermediate and Secondary Education.