Grammar: figures of speech and poetic devices
قواعد: علمِ بیان اور علمِ بدیع
اس حصے میں علمِ بیان (تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازِ مرسل) اور علمِ بدیع کی صنعتیں (تلمیح، رعایتِ لفظی، مراعات النظیر، حسنِ تعلیل، مبالغہ، تکرار، تضاد) شعری مثالوں سمیت ہیں۔ حصہ اول میں 3 سے 4 MCQs اور حصہ قواعد کا 3 نمبر کا سوال انھی سے آتا ہے، اور غزل و نظم کی تشریح میں شعری محاسن لکھنے کے لیے بھی یہی علم چاہیے۔
Learning outcomes (2)
- علمِ بدیع کی صنعتوں (تلمیح، رعایتِ لفظی، مراعات النظیر، حسنِ تعلیل، مبالغہ، تکرار) کی شناخت کر سکیں اور تحریر میں استعمال کر سکیں۔
- علمِ بیان (تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازِ مرسل) کی شناخت کر سکیں۔
علمِ بیان اور علمِ بدیع: فرق
علمِ بیان وہ علم ہے جس سے ایک ہی بات کو مختلف طریقوں سے (کبھی صاف، کبھی اشارے سے) ادا کرنا آتا ہے۔ اس کی چار بنیادی قسمیں ہیں: تشبیہ، استعارہ، کنایہ اور مجازِ مرسل۔
علمِ بدیع وہ علم ہے جس سے کلام میں حسن اور خوب صورتی پیدا کی جاتی ہے۔ اس کی خوبیوں کو صنائع (واحد: صنعت) کہتے ہیں۔ نصاب کی صنعتیں: تلمیح، رعایتِ لفظی، مراعات النظیر، حسنِ تعلیل، مبالغہ اور تکرار (ساتھ میں تضاد بھی)۔
تشبیہOften examined
تشبیہ کے لغوی معنی ہیں مشابہت دینا۔ اصطلاح میں کسی ایک چیز کو کسی مشترک خوبی کی بنا پر دوسری چیز جیسا قرار دینا تشبیہ ہے۔
تشبیہ کے پانچ ارکان
| رکن | تعریف | اوپر کے شعر میں |
|---|---|---|
| مشبہ | جسے تشبیہ دی جائے | لب (ہونٹ) |
| مشبہ بہ | جس سے تشبیہ دی جائے | گلاب کی پنکھڑی |
| وجہِ شبہ | دونوں میں مشترک خوبی | نازکی |
| حرفِ تشبیہ | مشابہت ظاہر کرنے والا لفظ | سی |
| غرضِ تشبیہ | تشبیہ دینے کا مقصد | لب کی نزاکت کو نمایاں کرنا |
مشبہ اور مشبہ بہ کو طرفینِ تشبیہ کہتے ہیں۔ حروفِ تشبیہ: سا، سی، سے، جیسا، جیسے، مثل، مانند، طرح، گویا، صورت۔
استعارہOften examined
استعارہ کے لغوی معنی ہیں عاریتاً (ادھار) لینا۔ اصطلاح میں کسی لفظ کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں اس طرح استعمال کرنا کہ حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق ہو، مگر حرفِ تشبیہ اور مشبہ دونوں غائب ہوں۔ یعنی مشبہ کو ہی مشبہ بہ کہہ دیا جائے۔
مثال: "میدان میں ایک شیر لڑ رہا تھا۔" یہاں بہادر سپاہی کو "شیر" کہہ دیا گیا۔ یہ نہیں کہا کہ سپاہی شیر جیسا ہے، سیدھا اسے شیر ہی کہہ دیا۔
یہاں مسلمان نوجوان کو "شاہیں" کہا گیا ہے: بلند پرواز، خود دار اور آزاد ہونے کی وجہ سے۔
استعارے کے ارکان
| رکن | تعریف | مثال (شیر) |
|---|---|---|
| مستعار لہ | جس کے لیے لفظ ادھار لیا گیا (تشبیہ کا مشبہ) | بہادر سپاہی |
| مستعار منہ | جس سے لفظ ادھار لیا گیا (تشبیہ کا مشبہ بہ) | شیر |
| وجہِ جامع | دونوں میں مشترک خوبی | بہادری |
کنایہOften examined
کنایہ کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا یا پوشیدہ بات کہنا۔ اصطلاح میں کوئی ایسا لفظ یا جملہ بولنا جس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکیں لیکن بولنے والے کا اصل مقصد اس سے جڑے ہوئے دوسرے (لازمی) معنی ہوں۔
| کنایہ | ظاہری معنی | اصل مراد |
|---|---|---|
| اس کے بال سفید ہو گئے | بالوں کا رنگ سفید | بوڑھا ہو گیا |
| اس کا ہاتھ کھلا ہے | ہاتھ کھلا ہوا | بہت سخی ہے |
| اس کے گھر چولہا نہیں جلتا | چولہا نہیں جلتا | بہت غریب ہے |
| دانتوں میں انگلی دبانا | انگلی دانتوں میں | حیران ہونا |
| کالی بلا (سیاہ زلف) | کالی آفت | محبوب کی زلف |
مجازِ مرسلOften examined
مجازِ مرسل میں کوئی لفظ اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال ہوتا ہے اور دونوں معنوں میں تشبیہ کے سوا کوئی اور تعلق ہوتا ہے، جیسے کل اور جز کا، ظرف اور مظروف کا، سبب اور نتیجے کا۔ "مرسل" یعنی آزاد، تشبیہ کی قید سے آزاد۔
| تعلق | مثال | کہا گیا | مراد |
|---|---|---|---|
| کل بول کر جز مراد | دریا بہہ رہا ہے۔ | دریا (پورا) | دریا کا پانی |
| جز بول کر کل مراد | اس کے گھر میں دس منہ کھانے والے ہیں۔ | منہ | پورے آدمی |
| ظرف بول کر مظروف مراد | اس نے پورا گلاس پی لیا۔ | گلاس (برتن) | گلاس کا پانی یا دودھ |
| ظرف بول کر مظروف مراد | سارا شہر امنڈ آیا۔ | شہر | شہر کے لوگ |
| سبب بول کر نتیجہ مراد | ہم نے گندم کھائی۔ | گندم | گندم کی روٹی |
| آلہ بول کر کام مراد | اس کی زبان بہت میٹھی ہے۔ | زبان | اس کی گفتگو |
| تشبیہ | استعارہ | کنایہ | مجازِ مرسل | |
|---|---|---|---|---|
| دونوں چیزیں مذکور؟ | ہاں | نہیں (صرف مشبہ بہ) | صرف ایک لفظ/جملہ | صرف ایک لفظ |
| حرفِ تشبیہ؟ | ہاں (یا مقدر) | نہیں | نہیں | نہیں |
| حقیقی معنی ممکن؟ | ہاں | نہیں | ہاں | نہیں |
| تعلق | مشابہت | مشابہت | لازم و ملزوم | کل جز، ظرف مظروف وغیرہ |
| مثال | علی شیر جیسا ہے | شیر آیا | بال سفید ہو گئے | دریا بہہ رہا ہے |
صنعتِ تلمیحOften examined
تلمیح کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا مشہور واقعے، قصے، شخصیت یا آیت و حدیث کی طرف ایک دو لفظوں میں اشارہ کرنا تاکہ پورا واقعہ ذہن میں آ جائے۔
"آتشِ نمرود" سے حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ ذہن میں آتا ہے جنھیں نمرود نے آگ میں ڈالا تو آگ گلزار بن گئی۔
| تلمیح | واقعہ |
|---|---|
| آتشِ نمرود | حضرت ابراہیمؑ کا آگ میں ڈالا جانا |
| جامِ جم | ایران کے بادشاہ جمشید کا پیالہ جس میں دنیا کا حال نظر آتا تھا |
| تیشۂ فرہاد | فرہاد کا شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نکالنا |
| یوسف و یعقوب | حضرت یوسفؑ کی جدائی میں حضرت یعقوبؑ کا رونا |
| قارون کا خزانہ | قارون کی دولت جو زمین میں دھنس گئی |
| آبِ حیات / خضر | حضرت خضرؑ اور آبِ حیات کا چشمہ |
| ید بیضا / طور | حضرت موسیٰؑ کا روشن ہاتھ اور کوہِ طور |
| دمِ عیسیٰ | حضرت عیسیٰؑ کا پھونک سے مردے زندہ کرنا |
رعایتِ لفظی اور مراعات النظیرOften examined
رعایتِ لفظی
شعر میں ایسے الفاظ لانا جن کا ایک معنی شعر میں مراد ہو مگر ان کا دوسرا معنی شعر کے کسی اور لفظ سے مناسبت رکھتا ہو، یعنی لفظوں سے کھیلنا۔
"عارضی" کا شعر میں مطلب ہے چند روزہ (عارضی زندگی)، مگر "عارض" کا مطلب رخسار بھی ہے۔ یعنی شاعر کی زندگی رخسار (عارض) پر منحصر ہے۔ "رخسار" اور "عارضی" کی یہ مناسبت رعایتِ لفظی ہے۔
مراعات النظیر
شعر میں ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جو آپس میں ایک ہی سلسلے یا ماحول سے تعلق رکھتی ہوں (تضاد کے بغیر)، جیسے باغ کے ساتھ گل، بلبل، صبا، چمن، باغباں؛ یا جسم کے ساتھ آنکھ، کان، ناک۔
دہقاں، دانہ، کھیتی، باراں اور حاصل سب کھیتی باڑی سے متعلق ہیں: یہ مراعات النظیر ہے۔ اسی شعر میں "تو" اور "بھی تو" بار بار آیا ہے، اس لیے اس میں صنعتِ تکرار بھی ہے۔
صنعتِ حسنِ تعلیلOften examined
حسنِ تعلیل یعنی خوب صورت وجہ بیان کرنا۔ اصطلاح میں کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں اس کی وجہ نہ ہو مگر سننے میں دل کش لگے۔
پھول کے بیچ میں زرد زردانے (پولن) ہوتے ہیں، یہ قدرتی بات ہے۔ شاعر اس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ قارون کا خزانہ زمین میں دھنستے ہوئے راستے میں بکھر گیا تھا، اس لیے ہر پھول ہاتھ میں سونا لے کر نکلتا ہے۔ یہ وجہ حقیقی نہیں، شاعرانہ ہے: یہی حسنِ تعلیل ہے۔ (قارون کے ذکر کی وجہ سے اس شعر میں تلمیح بھی ہے۔)
نثری مثال: "شبنم کے قطرے دراصل رات کے آنسو ہیں جو سورج کے بچھڑنے پر گرتے ہیں۔"
مبالغہ، تکرار اور تضادOften examined
صنعتِ مبالغہ
کسی چیز یا شخص کی تعریف یا برائی کو حد سے بڑھا کر، بعید از قیاس انداز میں بیان کرنا۔
کربلا کی گرمی اتنی بڑھا کر بیان کی گئی کہ زمین سرخ اور آسمان زرد پڑ گیا۔
| قسم | کیا ہوتا ہے | مثال |
|---|---|---|
| تبلیغ | بات عقلاً اور عادتاً دونوں طرح ممکن ہو | وہ ایک سانس میں پورا گلاس پی گیا۔ |
| اغراق | عقلاً ممکن مگر عادتاً ناممکن | اس نے ایک دن میں سو میل پیدل سفر کیا۔ |
| غلو | نہ عقلاً ممکن نہ عادتاً | اس کے آنسوؤں سے دریا بہہ نکلا۔ |
صنعتِ تکرار
شعر میں کسی لفظ کو بار بار دہرانا تاکہ بات میں زور، روانی یا موسیقیت پیدا ہو۔
صنعتِ تضاد
شعر میں ایک دوسرے کے الٹ معنی رکھنے والے الفاظ لانا: دن رات، زندگی موت، آگ پانی۔
زندگی اور موت، ظہورِ ترتیب اور پریشاں ہونا متضاد ہیں۔
صنعت پہچاننے کا طریقہ (ایک نظر میں)Often examined
| شعر میں کیا نظر آئے | صنعت |
|---|---|
| کسی نبی، بادشاہ، عاشق یا تاریخی واقعے کا نام یا اشارہ | تلمیح |
| ایک لفظ جس کا دوسرا معنی شعر کے کسی لفظ سے جڑتا ہو | رعایتِ لفظی |
| ایک ہی ماحول کی کئی چیزیں (گل، بلبل، چمن) | مراعات النظیر |
| کسی قدرتی بات کی خیالی، شاعرانہ وجہ | حسنِ تعلیل |
| ناممکن حد تک بڑھا کر تعریف یا برائی | مبالغہ |
| ایک ہی لفظ کا بار بار آنا | تکرار |
| الٹ معنی والے الفاظ | تضاد |
| سا، جیسا، مثل کے ساتھ موازنہ | تشبیہ |
| کسی کو سیدھا دوسری چیز کہہ دینا (شیر، شاہیں) | استعارہ |
Key terms
- تشبیہ
- مشترک خوبی کی بنا پر ایک چیز کو دوسری جیسا کہنا؛ حرفِ تشبیہ کے ساتھ۔
- استعارہ
- مشبہ کو سیدھا مشبہ بہ کہہ دینا: شیر آیا (بہادر آدمی)۔
- کنایہ
- حقیقی معنی ممکن مگر مراد لازمی معنی: بال سفید ہونا (بڑھاپا)۔
- مجازِ مرسل
- مجازی معنی، تعلق تشبیہ کے سوا: دریا بہہ رہا ہے (پانی)۔
- تلمیح
- تاریخی یا مذہبی واقعے کی طرف اشارہ: آتشِ نمرود۔
- رعایتِ لفظی
- لفظ کے دوسرے معنی کی شعر کے کسی لفظ سے مناسبت: رخسار، عارضی۔
- مراعات النظیر
- ایک ماحول کی چیزیں جمع کرنا: دانہ، کھیتی، باراں۔
- حسنِ تعلیل
- غیر حقیقی مگر خوب صورت وجہ بیان کرنا۔
- مبالغہ
- بعید از قیاس تعریف یا مذمت؛ تبلیغ، اغراق، غلو۔
- تکرار
- لفظ کا بار بار آنا: پتا پتا بوٹا بوٹا۔
- تضاد
- الٹ معنی والے الفاظ: زندگی، موت۔
مختصر سوالات: نمونے کے جوابات
علمِ بیان کی تعریفیں: ہر جواب میں تعریف، مثال اور دوسرے سے فرق۔
استعارہ یعنی ادھار لینا۔ کسی لفظ کو مجازی معنی میں اس طرح استعمال کرنا کہ حقیقی اور مجازی معنی میں تشبیہ کا تعلق ہو مگر حرفِ تشبیہ اور مشبہ ذکر نہ ہوں۔
مثال: "میدان میں شیر لڑ رہا تھا۔" مستعار لہ: بہادر سپاہی؛ مستعار منہ: شیر؛ وجہِ جامع: بہادری۔
کنایہ وہ لفظ یا جملہ ہے جس کے حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکیں مگر بولنے والے کی اصل مراد اس سے جڑے ہوئے دوسرے معنی ہوں۔
مثالیں: "اس کے بال سفید ہو گئے" (بوڑھا ہو گیا)؛ "اس کا ہاتھ کھلا ہے" (سخی ہے)۔
مجازِ مرسل میں لفظ مجازی معنی میں استعمال ہو اور حقیقی و مجازی معنی میں تشبیہ کے سوا کوئی اور تعلق ہو، جیسے کل اور جز یا ظرف اور مظروف کا۔
مثالیں: "دریا بہہ رہا ہے" (کل بول کر جز یعنی پانی مراد)؛ "سارا شہر امنڈ آیا" (ظرف بول کر مظروف یعنی لوگ مراد)۔
تشبیہ کسی چیز کو کسی مشترک خوبی کی بنا پر دوسری چیز جیسا قرار دینا ہے۔
ارکان: مشبہ، مشبہ بہ، وجہِ شبہ، حرفِ تشبیہ اور غرضِ تشبیہ۔ مثال: "پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے" میں لب مشبہ، گلاب کی پنکھڑی مشبہ بہ، نازکی وجہِ شبہ اور "سی" حرفِ تشبیہ ہے۔
مبالغہ کسی بات کو حد سے بڑھا کر، بعید از قیاس انداز میں بیان کرنا ہے۔
قسمیں: تبلیغ (عقلاً اور عادتاً ممکن)، اغراق (عقلاً ممکن، عادتاً ناممکن)، غلو (عقلاً اور عادتاً دونوں ناممکن)۔
کتاب کی مشقوں کے قواعد والے MCQs
درسی کتاب کی مشقوں سے صرف وہ MCQs جو سبق کے متن کے بغیر حل ہو سکتے ہیں، حل اور وجہ کے ساتھ۔
- AتشبیہAnswer
- Bاستعارہ
- Cکنایہ
- Dمجاز مرسل
مشترک صفت کی بنا پر ایک چیز کو دوسری کی مانند قرار دینا تشبیہ ہے۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aغیر حقیقی
- Bمجازی
- Cمرادی
- DحقیقیAnswer
تشبیہ میں الفاظ حقیقی معنوں میں رہتے ہیں؛ استعارہ، کنایہ اور مجاز مرسل میں مجازی۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aایک
- Bدو
- CتینAnswer
- Dچار
مستعار لہ، مستعار منہ اور وجہ جامع: تین ارکان۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aمجاز مرسل کی
- Bاستعارہ کی
- Cکنایہ کیAnswer
- Dتشبیہ کی
بسم اللہ پڑھنے سے مراد تعلیم کا آغاز ہے اور حقیقی معنی بھی مراد لیے جا سکتے ہیں، اس لیے کنایہ۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aمحاورے کی
- Bکنایے کیAnswer
- Cضرب المثل کی
- Dکہاوت کی
کالے سے مراد سانپ ہے؛ کتاب صفحہ 143 پر یہی کنایہ کی مثال ہے۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aتشبیہ کی
- Bمجاز مرسل کی
- Cکنایہ کی
- Dاستعارے کیAnswer
اوس کے قطروں کو صرف "موتی" کہا گیا، مشبہ کا ذکر نہیں، اس لیے استعارہ۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aمستعار لہ
- Bمشبہ بہ
- CمشبہAnswer
- Dوجہ جامع
جسے تشبیہ دی جائے وہ مشبہ، جس سے دی جائے وہ مشبہ بہ۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- AپانچAnswer
- Bچھے
- Cسات
- Dآٹھ
مشبہ، مشبہ بہ، حرف تشبیہ، وجہ تشبیہ، غرض تشبیہ: پانچ ارکان۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aوجہ تشبیہ
- Bمستعار منہAnswer
- Cمستعار لہ
- Dوجہ جامع
جس لفظ سے معنی ادھار لیے جائیں وہ مستعار منہ، جس کے لیے لیے جائیں وہ مستعار لہ۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- Aتشبیہ
- Bاستعارہ
- Cکنایہ
- Dمجاز مرسلAnswer
بہتا پانی ہے، دریا (ظرف) بول کر پانی (مظروف) مراد لیا گیا: مجاز مرسل۔
Note. کتاب: غزل 2: غالب، صفحہ 147
- AتلمیحAnswer
- Bتضاد
- Cتکرار
- Dمراعات النظیر
تلمیح کے لغوی معنی اشارہ کرنا؛ شعر میں کسی واقعے یا قصے کی طرف اشارہ۔
Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 163
- Aصنعت مبالغہ
- Bصنعت تلمیح
- Cصنعت مراعات النظیر
- Dصنعت تکرارAnswer
پتا پتا، بوٹا بوٹا اور جانے کی بار بار دہرائی صنعت تکرار ہے۔
Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 163
- Aرعایت لفظی کیAnswer
- Bصنعت مبالغہ کی
- Cصنعت تکرار کی
- Dصنعت لف و نشر کی
عارضی کے دو معنی: عارض (رخسار) سے متعلق اور وقتی۔ یہی رعایت لفظی ہے۔
Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164
- Aتکرار کی
- Bتضاد کی
- Cتلمیح کیAnswer
- Dحسن تعلیل کی
خضر اور سکندر کے آب حیات والے قصے کی طرف اشارہ ہے، اس لیے تلمیح۔
Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164
- Aحسن تعلیلAnswer
- Bمراعات النظیر
- Cرعایت لفظی
- Dمبالغہ
موجوں کے ساحل سے ٹکرانے کی اصل وجہ کے بجائے شاعرانہ وجہ (پیاسی سپاہ کا غم) بیان کی گئی: حسن تعلیل۔
Note. کتاب: غزل 5: ادا جعفری، صفحہ 164
FBISE 2026 and model paper questions
Questions from the FBISE HSSC-II model paper (Assessment Framework 2022-23) and FBISE HSSC-II 2026 (1st Annual) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
- Aرعایتِ لفظی
- BمبالغہAnswer
- Cحسنِ تعلیل
- Dتلمیح
حد سے بڑھا کر تعریف یا مذمت مبالغہ ہے۔
- Aصنعتِ حسنِ تعلیل کی
- Bصنعتِ تضاد کی
- Cصنعتِ تکرار کی
- Dصنعتِ رعایتِ لفظی کیAnswer
"عارضی" کا مطلب چند روزہ ہے مگر "عارض" رخسار کو بھی کہتے ہیں جو "رخسار" سے مناسبت رکھتا ہے: رعایتِ لفظی۔
تلمیح کے لغوی معنی ہیں اشارہ کرنا۔ اصطلاح میں شعر میں کسی تاریخی، مذہبی یا مشہور واقعے، قصے یا شخصیت کی طرف ایک دو لفظوں میں اشارہ کرنا کہ پورا واقعہ ذہن میں آ جائے، صنعتِ تلمیح کہلاتا ہے۔
وضاحت: "آتشِ نمرود" سے حضرت ابراہیمؑ کا وہ واقعہ ذہن میں آتا ہے جب نمرود نے انھیں آگ میں ڈالا اور وہ اللہ پر یقین کے سبب بے خوف آگ میں چلے گئے۔ شاعر نے دو لفظوں میں پورے واقعے کی طرف اشارہ کر دیا، یہی تلمیح ہے۔
- Aتلمیح
- Bرعایتِ لفظی
- CمبالغہAnswer
- Dحسنِ تعلیل
بعید از قیاس یعنی عقل سے دور: یہ مبالغہ ہے۔
- Aصنعتِ رعایتِ لفظی کیAnswer
- Bصنعتِ حسنِ تعلیل کی
- Cصنعتِ تضاد کی
- Dصنعتِ تکرار کی
رخسار اور عارضی (عارض) کی مناسبت رعایتِ لفظی ہے۔
حسنِ تعلیل یعنی خوب صورت وجہ۔ اصطلاح میں کسی بات کی ایسی شاعرانہ وجہ بیان کرنا جو حقیقت میں اس کی وجہ نہ ہو مگر دل کش اور خیال انگیز ہو، حسنِ تعلیل کہلاتا ہے۔
وضاحت: پھول کے اندر زرد زردانے قدرتی طور پر ہوتے ہیں۔ شاعر اس کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ قارون کا خزانہ زمین میں دھنستے ہوئے راستے میں لٹ گیا، اسی لیے ہر پھول مٹھی میں سونا لیے نکلتا ہے۔ یہ وجہ حقیقی نہیں بلکہ شاعرانہ ہے۔
- Aرعایتِ لفظی
- BتلمیحAnswer
- Cحسنِ تعلیل
- Dمبالغہ
تاریخی واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ تلمیح ہے۔
- Aصنعتِ حسنِ تعلیل
- Bصنعتِ تضاد
- Cصنعتِ رعایتِ لفظی
- Dصنعتِ تکرارAnswer
"پتا پتا" اور "بوٹا بوٹا" میں لفظ دہرایا گیا ہے: صنعتِ تکرار۔
مراعات النظیر یعنی ملتی جلتی چیزوں کا خیال رکھنا۔ اصطلاح میں شعر میں ایسی چیزوں کا ذکر کرنا جو ایک ہی سلسلے یا ماحول سے تعلق رکھتی ہوں اور ان میں تضاد نہ ہو، صنعتِ مراعات النظیر کہلاتا ہے۔
وضاحت: دہقاں (کسان)، دانہ، کھیتی، باراں (بارش) اور حاصل (فصل) سب کھیتی باڑی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ہی ماحول کی ان چیزوں کو ایک شعر میں جمع کرنا مراعات النظیر ہے۔
- Aتلمیح
- Bرعایتِ لفظی
- Cمبالغہ
- DتکرارAnswer
"تو" اور "بھی تو" بار بار دہرایا گیا ہے، اس لیے دیے گئے اختیارات میں صنعتِ تکرار ہے۔
Note. اس شعر میں مراعات النظیر بھی ہے (دہقاں، دانہ، کھیتی، باراں، حاصل) مگر وہ اختیارات میں نہیں تھی۔
- Aتضاد
- Bحسنِ تعلیل
- CتلمیحAnswer
- Dمبالغہ آرائی
تینوں مشہور قصوں (جمشید، فرہاد، حضرت ابراہیمؑ) کی طرف اشارہ ہیں، اس لیے تلمیح۔
- Aرعایتِ لفظی
- Bحسنِ تعلیلAnswer
- Cمراعات النظیر
- Dمبالغہ آرائی
غیر حقیقی مگر خوب صورت وجہ بیان کرنا حسنِ تعلیل ہے۔
(1) صنعتِ تکرار: "آتے آتے" اور "جاتے جاتے" میں الفاظ دہرائے گئے ہیں۔
(2) صنعتِ مبالغہ: گرمی کو اتنا بڑھا کر بیان کیا کہ زمین سرخ اور آسمان زرد ہو گیا۔
(3) صنعتِ حسنِ تعلیل: پھول کے زردانوں کی شاعرانہ وجہ قارون کا لٹا ہوا خزانہ بتائی گئی (قارون کے ذکر میں تلمیح بھی ہے)۔
Exam focus
- تلمیح، حسنِ تعلیل یا مراعات النظیر کی شعری مثال سے وضاحت (short)تینوں 2026 سیٹس کے حصہ قواعد میں ایک ایک۔Go to answer
- مبالغہ کی تعریف والا MCQ (mcq)سیٹ B اور D میں ایک ہی سوال۔Go to answer
- "رخسار / عارضی" والا شعر: رعایتِ لفظی (mcq)سیٹ B اور D میں۔Go to answer
- استعارہ، کنایہ، مجازِ مرسل کی تعریف اور فرق (short)حصہ قواعد اور تشریح کے شعری محاسن، دونوں میں کام آتا ہے۔Go to answer