Naat: Dilon ke saath jabeenein
نعت: دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے
افتخار عارف کی نعت جس میں حضور اکرم ﷺ کے ادب، سخاوت، رحمت اور عفو و درگزر کا بیان ہے۔ یہاں پورا متن، شاعر کا تعارف، مرکزی خیال، مشکل الفاظ، ساتوں اشعار کی امتحانی طرز پر تشریح، 2026 کے پرچوں کے سوال 4 کے حوالے اور امتحانی طرز کے سوالات ہیں۔
Learning outcomes (3)
- نظم کو فہم کے ساتھ پڑھ کر شاعر کی تکنیک، مقصد اور اسلوب پر مبنی سوالات کے جواب دے سکیں۔
- کسی بھی نظم کو پڑھ کر اس کے اشعار کی تشریح کرتے ہوئے تنقید و تبصرہ کر سکیں۔
- نظم کو بلحاظِ موضوع (حمد، نعت وغیرہ) شناخت کر سکیں۔
شاعر اور نظم کا تعارف
افتخار عارف (پیدائش 1943ء)
اصل نام افتخار حسین عارف ہے اور "افتخار عارف" کے قلمی نام سے شہرت پائی۔ 21 مارچ 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور تعلیم بھی وہیں مکمل کی۔ عہدِ حاضر کے سنجیدہ اور معتبر شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں فنی پختگی، کلاسیکی رچاؤ، نئے استعارے اور ذاتی تجربے کا اظہار ملتا ہے؛ وہ روایت سے جڑے رہ کر بھی جدید دور کی آواز ہیں۔
ریڈیو اور ٹیلی وژن سے عملی زندگی شروع کی اور پھر اکادمی ادبیات پاکستان، مقتدرہ قومی زبان (ادارۂ فروغِ قومی زبان) اور نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے سربراہ رہے۔ مجموعہ ہائے کلام: مہرِ دو نیم، حرفِ باریاب، جہانِ معلوم، شہرِ علم کے دروازے پر، کتابِ دل و دنیا، باغِ گلِ سرخ اور بارھواں کھلاڑی۔ حکومتِ پاکستان نے انھیں ہلالِ امتیاز، ستارۂ امتیاز، نشانِ امتیاز اور صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔
نظم کے بارے میں
| صنف (موضوع کے لحاظ سے) | نعت: حضور اکرم ﷺ کی تعریف، آپ ﷺ کے اخلاق اور آپ ﷺ کے ادب کا بیان |
| ہیئت | غزل کی ہیئت: پہلا شعر مطلع ہے اور سارے اشعار ایک قافیہ و ردیف میں ہیں |
| قافیہ | خم، امم، قلم، ہم، کم، محترم، غم، ستم |
| ردیف | نہیں کرتے |
| ماخذ | شہرِ علم کے دروازے پر |
نعت کا متنOften examined
مرکزی خیالOften examined
اس نعت میں شاعر حضور اکرم ﷺ کی محبت اور ادب کو ایمان کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ نعت کہنے کا حق وہی ادا کرتا ہے جس کا دل اور سر دونوں عقیدت سے جھکے ہوں؛ شاعر بغیر دعا اور اجازت کے ایک لفظ بھی نہیں لکھتا۔ قرآن نے جنھیں مصطفیٰ ﷺ کہا، شاعر کا ذکر صرف انھی کا ہے۔ آپ ﷺ کریم و جواد ہیں جن کی عطا کبھی کم نہیں ہوتی؛ جو آپ ﷺ کے راستے سے ہٹ جائیں انھیں زمانہ عزت نہیں دیتا؛ درود پڑھنے والے کسی غم کو خاطر میں نہیں لاتے؛ اور طائف و مکہ کی سیرت سامنے ہو تو آپ ﷺ کے غلام ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیتے۔
مشکل الفاظ و تراکیب
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جبیں (جمع: جبینیں) | پیشانی، ماتھا |
| خم کرنا | جھکانا |
| پاس | لحاظ، ادب |
| مدحت | تعریف، نعت |
| خیر الامم ﷺ | سب امتوں میں بہترین (امت کے سردار)، حضور اکرم ﷺ |
| اذن | اجازت |
| سپردِ قلم کرنا | لکھنا |
| کتابِ حق | سچی کتاب، قرآن مجید |
| مصطفیٰ ﷺ | چنا ہوا، برگزیدہ؛ حضور ﷺ کا لقب |
| جز | سوا، علاوہ |
| کریم | مہربان، سخی |
| جواد | بہت سخی، بے حساب دینے والا |
| جادۂ رحمت | رحمت کا راستہ (حضور ﷺ کی سیرت اور تعلیمات) |
| منحرف | پھر جانے والا، راستے سے ہٹ جانے والا |
| محترم | عزت والا |
| میسر آنا | نصیب ہونا، حاصل ہونا |
| توفیق | اللہ کی طرف سے نیکی کی ہمت اور موقع |
| طائف | مکہ کے قریب شہر جہاں حضور ﷺ پر پتھر برسائے گئے |
| ستم | ظلم |
تشریح لکھنے کا طریقہOften examined
سوال 4 میں نعت کے تین اشعار آتے ہیں۔ 2026 کے تینوں سیٹوں میں نظم کی تشریح والا ایک حصہ اسی نعت سے تھا (سیٹ B: اشعار 4، 6، 7؛ سیٹ D: اشعار 4، 5، 6؛ سیٹ A: اشعار 1، 2، 4)۔ اس لیے ساتوں اشعار کی تشریح اچھی طرح تیار کریں۔
شعر 1 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جبیں | پیشانی |
| خم کرنا | جھکانا |
| پاس | لحاظ، ادب |
| مدحت | تعریف |
| خیر الامم | سب امتوں سے بہتر (حضور ﷺ) |
مفہوم
جو لوگ دل کی عقیدت کے ساتھ اپنا سر ادب سے نہیں جھکاتے، وہ حضور اکرم ﷺ کی تعریف (نعت) کے ادب کا حق ادا نہیں کرتے۔
تشریح
نعت کے اس مطلع میں شاعر نعت گوئی کی پہلی شرط بیان کرتا ہے: ادب۔ حضور ﷺ کی تعریف کوئی عام تعریف نہیں جو صرف خوب صورت الفاظ سے ہو جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دل محبت اور عقیدت سے جھکا ہو اور ماتھا (جبیں) احترام سے خم ہو۔ "دلوں کے ساتھ جبینیں" کا مطلب ہے کہ ظاہر اور باطن دونوں عاجزی میں ہوں۔
شاعر کہتا ہے کہ جو لوگ صرف زبان سے نعت پڑھتے ہیں مگر ان کا دل اور سر ادب سے نہیں جھکتا، وہ "پاسِ مدحتِ خیر الامم" نہیں کرتے، یعنی نعت کے ادب کا لحاظ نہیں رکھتے۔ قرآن مجید نے بھی حضور ﷺ کے ادب کا حکم دیا ہے کہ ان کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرو: "لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ"۔ یعنی محبتِ رسول ﷺ کی پہچان ادب ہے۔
شعری محاسن
یہ شعر مطلع ہے (خم، امم ہم قافیہ؛ "نہیں کرتے" ردیف)۔ "جبینیں خم کرنا" کنایہ ہے عاجزی اور ادب سے۔ "پاسِ مدحتِ خیر الامم" ترکیبِ اضافی (تین لفظوں کی) ہے۔ دل اور جبیں کا ساتھ ذکر مراعات النظیر ہے۔
شعر 2 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| اذن | اجازت |
| سپردِ قلم کرنا | لکھنا |
مفہوم
ہم دعا کیے بغیر اور اجازت لیے بغیر نعت کا ایک لفظ بھی نہیں لکھتے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نعت لکھنے کے اپنے طریقے کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ نعت لکھنا اتنی بڑی سعادت ہے کہ وہ اسے اپنی قابلیت کا کام نہیں سمجھتا۔ قلم اٹھانے سے پہلے وہ اللہ سے دعا کرتا ہے، اور دل ہی دل میں اجازت مانگتا ہے کہ کہیں کوئی لفظ آپ ﷺ کی شان کے خلاف نہ ہو جائے۔
"دعا بغیر، اجازت بغیر، اذن بغیر" میں "بغیر" کی تکرار اس احتیاط کو نمایاں کرتی ہے۔ "اجازت" اور "اذن" ہم معنی ہیں مگر دونوں کا ذکر یہ بتاتا ہے کہ شاعر کتنا محتاط ہے۔ اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ نعت گوئی ادب کا سب سے نازک میدان ہے، جہاں ایک غلط لفظ بھی بے ادبی بن سکتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نعت لکھنا تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
"بغیر" کی تین بار تکرار صنعتِ تکرار ہے۔ "اجازت" اور "اذن" ہم معنی (مترادف) الفاظ ہیں جن سے زور پیدا ہوا۔ "سپردِ قلم کرنا" محاورہ اور ترکیبِ اضافی ہے۔ لہجہ عاجزانہ ہے۔
شعر 3 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| کتابِ حق | قرآن مجید |
| مصطفیٰ | چنا ہوا |
| جز | سوا |
مفہوم
قرآن مجید نے جنھیں مصطفیٰ ﷺ (اللہ کا چنا ہوا) قرار دیا، ہم ان کے سوا کسی اور کا ذکر نہیں کرتے۔
تشریح
"کتابِ حق" سے مراد قرآن مجید ہے جو سچائی کی کتاب ہے۔ قرآن نے حضور اکرم ﷺ کو چنا ہوا، رحمت للعالمین اور خلقِ عظیم کا مالک کہا: "وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ"۔ "مصطفیٰ" کا مطلب ہی ہے "چنا ہوا"، یعنی اللہ نے ساری مخلوق میں سے آپ ﷺ کو منتخب فرمایا۔
شاعر کہتا ہے کہ جب اللہ نے خود آپ ﷺ کو چن لیا تو ہمیں کسی اور کی تعریف کی کیا ضرورت؟ "جز ان کے اور کوئی ذکر ہم نہیں کرتے" سے مراد یہ ہے کہ ہماری شاعری اور ہماری زندگی کا اصل موضوع آپ ﷺ کی ذات ہے۔ اللہ نے خود آپ ﷺ کے ذکر کو بلند کرنے کا اعلان کیا: "وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ"؛ اس لیے آپ ﷺ کا ذکر کرنا دراصل اللہ کی سنت پر چلنا ہے۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
"کتابِ حق" ترکیبِ اضافی ہے۔ قرآن کی طرف اشارہ تلمیح ہے۔ "جز ... نہیں کرتے" میں حصر (صرف یہی، کوئی اور نہیں) کا انداز ہے جو عقیدت کی شدت ظاہر کرتا ہے۔
شعر 4 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| کریم | مہربان، سخی |
| انعام | عطا، بخشش |
| جواد | بہت زیادہ دینے والا |
مفہوم
حضور ﷺ ایسے مہربان ہیں کہ مسلسل عطا کرتے رہتے ہیں، اور ایسے سخی ہیں کہ ان کی نعمت کبھی کم نہیں ہوتی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر حضور اکرم ﷺ کی سخاوت کا بیان کرتا ہے۔ "کریم" وہ ہے جو مہربانی سے دے اور "جواد" وہ جو بے حساب دے۔ سیرت گواہ ہے کہ آپ ﷺ کے در سے کوئی سائل خالی نہیں لوٹا؛ آپ ﷺ کے پاس جو آتا فوراً دوسروں میں بانٹ دیتے، یہاں تک کہ خود فاقہ کر لیتے۔
"انعام کرتے جاتے ہیں" سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عطا کا سلسلہ آج بھی جاری ہے: آپ ﷺ کی تعلیمات، سنت، ہدایت اور شفاعت کی امید امت کے لیے ہمیشہ کی نعمت ہیں۔ دوسرا مصرع کہتا ہے کہ وہ "نعمت کو کم نہیں کرتے"، یعنی دنیا کے سخیوں کی طرح ان کا خزانہ ختم نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اللہ کی طرف سے رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گئے: "وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ"۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
"کریم ایسے کہ" اور "جواد ایسے کہ" میں تکرار اور متوازی ساخت ہے جس سے شعر میں روانی ہے۔ "کریم"، "انعام"، "جواد" اور "نعمت" سب سخاوت سے متعلق ہیں: مراعات النظیر۔
شعر 5 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جادۂ رحمت | رحمت کا راستہ |
| منحرف | پھر جانے والا |
| محترم | عزت دار |
مفہوم
جو لوگ حضور ﷺ کے بتائے ہوئے رحمت کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں، زمانہ انھیں کبھی عزت نہیں دیتا۔
تشریح
"جادۂ رحمت" سے مراد حضور اکرم ﷺ کی سیرت اور تعلیمات کا راستہ ہے، جو رحمت، محبت، انصاف اور اخلاق کا راستہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو فرد یا قوم اس راستے سے منحرف ہو جائے، یعنی منہ موڑ لے، وہ زمانے میں ذلیل ہو جاتی ہے۔
تاریخ اس کی گواہ ہے۔ جب تک مسلمانوں نے حضور ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رکھا، وہ دنیا کی امامت کرتے رہے؛ اور جب اس راستے کو چھوڑا تو زوال کا شکار ہو گئے۔ شعر میں ایک تنبیہ بھی ہے: عزت دولت یا طاقت سے نہیں بلکہ حضور ﷺ سے وابستگی سے ملتی ہے۔ اقبال نے یہی بات یوں کہی: "کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں"۔
شعری محاسن
"جادۂ رحمت" خوب صورت ترکیبِ اضافی اور استعارہ ہے (سیرت کو راستہ کہا گیا)۔ "زمانے" سے مراد زمانے کے لوگ ہیں: مجازِ مرسل۔ شعر ناصحانہ انداز میں ہے۔
شعر 6 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| میسر آنا | نصیب ہونا |
| درود | حضور ﷺ پر سلامتی کی دعا |
| توفیق | اللہ کی دی ہوئی ہمت |
مفہوم
جنھیں حضور ﷺ پر درود بھیجنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے، وہ کسی بھی حال میں ہوں، کسی غم کو خاطر میں نہیں لاتے۔
تشریح
درود شریف وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: "اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ"، اور ایمان والوں کو بھی درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ عمل بھی ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا؛ یہ اللہ کی توفیق ہے جو خوش نصیبوں کو ملتی ہے۔
جو شخص درود پڑھتا ہے اس کا دل حضور ﷺ کی محبت سے جڑ جاتا ہے، اور یہ محبت اسے ایسا سکون اور حوصلہ دیتی ہے کہ دنیا کی پریشانیاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔ "کسی بھی حال میں ہوں" یعنی امیر ہوں یا غریب، تندرست ہوں یا بیمار، وہ غم سے ٹوٹتے نہیں۔ یہ شعر درود کو دلوں کا سکون اور مصیبتوں کا سہارا قرار دیتا ہے۔
شعری محاسن
"میسر آنا" محاورہ ہے۔ "درود کی توفیق" ترکیبِ اضافی ہے۔ شعر میں امید اور اطمینان کا لہجہ ہے؛ "کسی بھی حال میں" کے الفاظ سے عمومیت پیدا ہوئی ہے۔
شعر 7 کی تشریحOften examined
مشکل الفاظ
| لفظ | معنی |
|---|---|
| طائف | مکہ کے قریب شہر |
| غلام | یہاں: امتی، پیروکار |
| ستم | ظلم |
مفہوم
اگر حضور ﷺ کے غلاموں (امتیوں) کی نظر میں طائف اور مکہ کے واقعات رہیں تو وہ ظلم کے جواب میں بھی ظلم نہیں کرتے۔
تشریح
اس شعر میں دو تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ طائف: نبوت کے دسویں سال حضور ﷺ تبلیغ کے لیے طائف گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ کا مذاق اڑایا اور اوباش لڑکوں سے پتھر برسوائے، یہاں تک کہ آپ ﷺ لہولہان ہو گئے۔ پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہوا کہ حکم ہو تو اس بستی کو پہاڑوں میں پیس دوں، مگر آپ ﷺ نے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی۔
مکہ: فتحِ مکہ کے دن وہی لوگ آپ ﷺ کے سامنے تھے جنھوں نے آپ ﷺ کو برسوں ستایا، ہجرت پر مجبور کیا اور جنگیں لڑیں، مگر آپ ﷺ نے سب کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جو امتی ان دو واقعات کو یاد رکھے وہ کبھی بدلہ لینے پر نہیں اترتا؛ وہ ظلم کا جواب معافی اور اچھائی سے دیتا ہے۔ یہی حضور ﷺ کی سیرت کا سب سے روشن پیغام ہے۔
تائیدی شعر
شعری محاسن
طائف اور مکہ کے واقعات کی طرف اشارہ صنعتِ تلمیح ہے۔ "ستم کے ستم" میں لفظ "ستم" کی تکرار ہے۔ "طائف و مکہ" مرکبِ عطفی ہے۔ شعر میں اخلاقی پیغام (عفو و درگزر) ہے۔
نعت کی فنی خوبیاں (ایک نظر میں)
- ادب اور احتیاط: پوری نعت کا مرکزی لہجہ ادب ہے؛ شاعر مبالغے کے بجائے سیرت کی سچائیوں پر بات کرتا ہے۔
- ردیف "نہیں کرتے": ہر شعر میں نفی کے انداز سے ایک اصول بیان ہوتا ہے (ہم یہ نہیں کرتے، وہ یہ نہیں کرتے)۔
- تلمیحات: کتابِ حق (قرآن)، طائف و مکہ (سیرت کے واقعات)، درود (آیتِ درود)۔
- تراکیب: پاسِ مدحتِ خیر الامم، سپردِ قلم، کتابِ حق، جادۂ رحمت؛ کلاسیکی رنگ۔
- اخلاقی پیغام: ادب، سخاوت، سیرت پر چلنا، درود، اور ظلم کے جواب میں درگزر۔
Key terms
- نعت
- حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں نظم۔
- خیر الامم ﷺ
- سب امتوں میں بہترین؛ حضور ﷺ۔
- جادۂ رحمت
- رحمت کا راستہ؛ حضور ﷺ کی سیرت۔
- کریم، جواد
- مہربان، بے حساب دینے والا۔
- طائف و مکہ
- سیرت کے دو واقعات: طائف میں دعا، فتحِ مکہ پر عام معافی۔
- ردیف
- نہیں کرتے
امتحانی طرز کے سوالات: حصہ نظم (سوال 2 ب)
ہر سیٹ میں تین اشعار اور تین سوال (3 x 3 = 9 نمبر)۔
- (i)شاعر کے نزدیک نعت گوئی کی بنیادی شرط کیا ہے؟
- (ii)شاعر کوئی لفظ لکھنے سے پہلے کیا کرتا ہے؟
- (iii)"کتابِ حق" سے کیا مراد ہے اور اس نے حضور ﷺ کو کیا قرار دیا؟
شاعر کے نزدیک نعت کی بنیادی شرط ادب ہے۔ جو لوگ دل اور جبیں دونوں کو عقیدت سے نہیں جھکاتے وہ "پاسِ مدحتِ خیر الامم" نہیں کرتے، یعنی نعت کے ادب کا حق ادا نہیں کرتے۔
شاعر دعا کرتا ہے اور اجازت (اذن) مانگتا ہے؛ ان کے بغیر وہ نعت کا ایک لفظ بھی سپردِ قلم نہیں کرتا تاکہ کوئی لفظ آپ ﷺ کی شان کے خلاف نہ ہو۔
"کتابِ حق" سے مراد قرآن مجید ہے۔ اس نے حضور ﷺ کو "مصطفیٰ" یعنی اللہ کا چنا ہوا قرار دیا، اسی لیے شاعر آپ ﷺ کے سوا کسی اور کا ذکر نہیں کرتا۔
- (i)حضور ﷺ کو "کریم" اور "جواد" کیوں کہا گیا ہے؟
- (ii)"جادۂ رحمت سے منحرف" ہونے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
- (iii)شاعر نے آخری شعر میں کن واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے؟
کیونکہ آپ ﷺ مسلسل عطا کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی نعمت کبھی کم نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ کے در سے کوئی سائل خالی نہیں لوٹا، اور آپ ﷺ کی ہدایت اور رحمت آج بھی امت کے لیے جاری ہے۔
جو لوگ حضور ﷺ کی سیرت اور تعلیمات کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں، زمانہ انھیں کبھی عزت نہیں دیتا؛ ایسی قومیں زوال اور ذلت کا شکار ہوتی ہیں۔
طائف کا واقعہ جب لوگوں نے حضور ﷺ پر پتھر برسائے اور آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کی؛ اور فتحِ مکہ جب آپ ﷺ نے اپنے سخت دشمنوں کو بھی عام معافی دے دی۔ اسی لیے آپ ﷺ کے غلام ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیتے۔
کتاب کی مشق کے سوالات
درسی کتاب (صفحہ 107) کے سوالات کے نمونے کے جوابات۔
افتخار عارف عہدِ حاضر کے سنجیدہ اور معتبر شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں فنی پختگی، کلاسیکی رچاؤ، نئے استعارے، ذاتی تجربے کا اظہار اور روحِ عصر سے ہم آہنگی ملتی ہے۔ وہ روایت سے جڑے رہ کر جدید دور کے مسائل بیان کرتے ہیں۔
یہ نعت غزل کی ہیئت میں ہے۔ مطلع کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہیں (خم، امم)، باقی اشعار کا دوسرا مصرع اسی قافیے (قلم، ہم، کم، محترم، غم، ستم) اور ردیف "نہیں کرتے" پر ختم ہوتا ہے۔
جو لوگ حضور ﷺ کی سیرت اور تعلیمات کے رحمت بھرے راستے سے منہ موڑ لیں، زمانہ انھیں کبھی عزت نہیں دیتا۔
قافیہ: خم، امم، قلم، ہم، کم، محترم، غم، ستم۔ ردیف: نہیں کرتے۔
طائف میں حضور ﷺ پر پتھر برسائے گئے مگر آپ ﷺ نے ہدایت کی دعا کی؛ فتحِ مکہ پر آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں کو عام معافی دی۔ ان واقعات کو یاد رکھنے والے امتی ظلم کا بدلہ ظلم سے نہیں لیتے۔
FBISE 2026 questions
Questions from the FBISE HSSC-II 2026 (1st Annual) papers that belong to this unit, answered the way an examiner expects.
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 4، شعر 6، شعر 7۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 4، شعر 5، شعر 6۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
اس سوال کا مکمل جواب اوپر کے حصوں میں ہے: شعر 1، شعر 2، شعر 4۔ ہر شعر کے لیے مفہوم، تشریح اور شعری محاسن لکھیں۔
Exam focus
- نعت کے اشعار کی تشریح (سوال 4) (long)2026 کے تینوں سیٹوں کے سوال 4 میں اسی نعت کے تین اشعار تھے۔Go to answer
- شعر 4 "کریم ایسے کہ انعام کرتے جاتے ہیں" (long)تینوں سیٹوں میں آیا۔Go to answer
- طائف و مکہ کی تلمیح (short)کتاب کی مشق اور حصہ نظم کے سوالات میں۔Go to answer